وفاقی حکومت اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام ہوگئی ہے:ناصر حسین شاہ

  وفاقی حکومت اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام ہوگئی ہے:ناصر حسین شاہ

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)صوبائی وزیر اطلاعات، بلدیات، ہاؤسنگ ٹاؤن پلاننگ، مذہبی امور، جنگلات اور وائلڈ لائف سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ ہم سب نے دیکھا کہ شاپنگ کے لیے دوکانیں کھلوائیں تو لوگوں نے ایس او پیز کی کس طرح دھجیاں بکھیر دیں۔ اگر ہم دیگر ادارے اور شعبے کھول دیں گے تو اس کا کیا نتیجہ نکلے گا۔ انہوں نے کہا کہ کورو نا وائرس کی وبا کے سلسلے میں ایک قومی پالیسی بننے کی اشد ضرورت ہے ہم شروع سے ہی یہ کہ رہے ہیں کہ پوری قوم کو متحد ہونا پڑے گا اور وفاقی حکومت کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ وفاقی حکومت اپنا کرداد ادا کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔ یہ بات انہوں نے اپنے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہیں۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ وفاقی حکومت کو عوا م کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہے اور وہ عوام کی زندگیوں سے کھیلنا چاہتی کبھی وفاقی حکومت کہتی ہے کہ کورونا کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے لیکن اس کی روک تھام کے لئے جو اقدامات وفاقی سطح پر اٹھائے جاتے ہیں وہ بالکل بر عکس ہوتے ہیں انہوں نے کہا کہ عوام کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔ اگر ہم نے وفاقی حکومت کے کہنے پر ٹرانسپورٹ کھول دی تو اس سے وبا کے اور تیزی سے پھیلنے کا خطرہ ہے کیونکہ لاک ڈاؤن میں نرمی کے نتیجے میں ہم نے دیکھا کہ کس طرح سے ایسا و پیز کی دھجیاں بکھیر دی گئیں اور ان کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی گئی سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ اگر ہم سب کچھ کھول دیں گے اور ٹرانسپورٹ پر سے بھی پابندی اٹھا لیں گے تو کس طرح سے ہم اس وبا پر قابو پاسکیں گے۔ صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ٹرانسپورٹ کے سلسلے میں جو ایسا و پیز بنائی گئی ہیں ان پر عمل درآمد ممکن ہی نہیں ہے۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ وفاقی حکومت کے فیصلوں میں مستقل مزاجی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے سلسلے میں ایک قومی پالیسی ہونی چاہئے جو کہ سب مل کر طے کریں لیکن ابھی تک کوئی ایسا سلسلہ بن ہی نہیں سکا اور قومی پالیسی بنی ہی نہیں ے انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے صوبے میں دیکھنا ہے کہ عوام کے لئے کیا بہتر ہے اور کیا ان کے لئے نقصان دہ ہے ایسا نہیں ہے کہ اگر پنجاب یا کوئی اور صوبہ لاک ڈاؤن میں نرمی کرتا ہے تو سندھ بھی بلا سوچے سمجھے اس پر عمل کرے گا بلکہ سند ھ میں جوبھی قدم اٹھایا جائے گا وہ عوام صحت کو سامنے رکھ کر اٹھائیں گے۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ وفاق نے اسپتالوں کو طبی سامان تک فراہم نہیں کیا انہوں نے کہا کہ وفاق سے کچھ بھی مانگو تو ہر چیز میں وہ اٹھارویں ترمیم کا کہ دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے این سی او سی کے اجلاس میں ٹرانسپورٹ کھولنے کا فیصلہ موخر کر دیا گیا تھا جبکہ وزیر اعظم نے ٹرانسپورٹ کھولنے کا کہ دیا ہے۔ انہیں چاہئے تھا کہ مشاورت کرکے اتفاق رائے پیدا کرتے۔ صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سندھ بھر میں وبائی امراض ترمیمی ایکٹ نافذ ہوگیا ہے جس کی روشنی میں سندھ بھر میں اس کا اطلاق ہوگیا ہے اس میں کوئی شخص بھی سندھ حکومت کی بتائی ہوئی ایس او پیز کی خلاف ورزی نہیں کر سکے گا اور اگر وہ خلاف ورزی کرے گا تو اس پر سندھ حکومت کاروائی عمل میں لائے گی اور جس حد تک اس نے خلاف ورزی کی ہوگی اس کی روشنی میں جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے جو کہ دس لاکھ تک بھی ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری عوام سے گذارش ہے کہ وہ وائرس کی روک تھام کے لئے سندھ حکومت کی بتائی ہوئی ایس ا و پیز اور احتیاطی تدابیر پر عمل کریں اور اپنے آپ کو اور اپنے اہل خانہ اور معاشرے کو اس وائرس سے محفوظ رکھنے میں اپنا موثر کردار ادا کریں۔

مزید :

صفحہ اول -