کراچی: گاڑی سے ملی بچوں کی لاشوں کا معمہ تاحال حل نہ ہوا

کراچی: گاڑی سے ملی بچوں کی لاشوں کا معمہ تاحال حل نہ ہوا

  

کراچی (کرائم رپورٹر)کراچی کے علاقے منگھو پیر میں گاڑی سے 2 بچوں کی لاشیں ملنے کا معمہ تاحال حل نہیں ہو سکا۔پولیس کے تفتیشی حکام کے مطابق علاقے کی جیو فینسنگ کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے، بچوں کی لاشوں کی کیمیکل رپورٹ سے بھی تفتیش میں مدد ملے گی۔تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ واقعے سے متعلق اب تک کوئی عینی شاہد بھی سامنے نہیں آیا، ایک بچے کی لاش گاڑی کی عقبی سیٹ پر جبکہ دوسری لاش فرنٹ سیٹ پر موجود تھی۔تفتیشی حکام نے مزید بتایا کہ بچوں کے والدین مزدور پیشہ ہیں، اس لیے بچوں کی ہلاکت کا واقعہ تاوان یا مالی معاملہ نہیں لگتا۔تفتیشی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ جس گاڑی میں بچوں کی لاشیں ملی ہیں اس کی فارنزک رپورٹ سے بھی تفتیش میں مدد ملے گی۔واضح رہے کہ 13 مئی کو کراچی کے ضلع ویسٹ کے علاقے منگھو پیر میں نیا ناظم آباد کے قریب بس اسٹاپ پر کئی روز سے لاوارث کھڑی کار کے اندر سے 2 لاپتہ کمسن بچوں کی کئی روز پرانی لاشیں ملی تھیں۔نیا ناظم آباد کے قریب عمر کالونی کے ایف 11 بس اسٹاپ پر کھڑی لاوارث کار نمبر ڈی 8262 سے تعفن اٹھنے پر اہلِ محلہ نے پولیس کو اطلاع دی تھی۔کار لاک تھی جس کے شیشے توڑ کر گیٹ کھولا گیا تو 2 بچوں کی لاشیں کار میں پڑی تھیں۔لاشوں پر بظاہر کوئی نشان موجود نہیں تھے، جس پر شبہ کیا گیا تھا کہ دونوں بچوں کی موت دم گھٹنے سے ہوئی ہے۔دونوں بچوں کی شناخت دانش زبیر اور عبید سعید کے نام سے ہوئی تھی جو 10 مئی سے پراسرار طور پر لاپتہ تھے۔پولیس نے یہ شبہ بھی ظاہر کیا تھا کہ بچے کھیلتے ہوئے اس کار میں گھس گئے اور دروازوں کے لاک خراب ہونے کی وجہ سے گیٹ نہ کھول سکے، کافی عرصے سے کھڑی کار کے شیشوں پر گرد جم جانے کی وجہ سے باہر سے کسی کو بچے نظر نہیں آئے۔مذکورہ گاڑی مکینک کی دکان پر خراب کھڑی تھی، مکینک کے بیان کے مطابق بچے اکثر گاڑی میں بیٹھا کرتے تھے اور اس نے بچوں کو کئی بار گاڑی میں بیٹھنے سے منع بھی کیا تھا، دونوں بچے ایک ہی خاندان اور ایک ہی محلے کے رہائشی تھے۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -