پارلیمنٹ کو قوانین میں ترامیم کا حق حاصل ،انسانوں کے بنائے قوانین تجربات کی روشنی میں بدلے جاسکتے ہیں: مجیب الرحمان شامی

پارلیمنٹ کو قوانین میں ترامیم کا حق حاصل ،انسانوں کے بنائے قوانین تجربات کی ...
پارلیمنٹ کو قوانین میں ترامیم کا حق حاصل ،انسانوں کے بنائے قوانین تجربات کی روشنی میں بدلے جاسکتے ہیں: مجیب الرحمان شامی

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) روزنامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر اور ممتاز دانشور مجیب الرحمان شامی نے کہا ہے  کہ پارلیمنٹ کو  قوانین میں ترامیم یا ترامیم میں تبدیلی کا حق حاصل ہے، انسانوں کے بنائے قوانین میں تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں تبدیلی کی جاسکتی ہے۔

 یوٹیوب چینل " منیر احمد خان " کو دیئے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہااٹھارویں ترمیم دراصل ایک بل کا نام ہے جس میں ایک نہیں بلکہ متعدد ترامیم کی گئیں۔ انسانوں کے بنائے قوانین حتمی نہیں ہوتے تجربات محرکات، حادثوں  اور مشاہدات کی روشنی میں آپ جب چاہیں ان میں تبدیلی کرسکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے ہر آئین میں قوانین کی ترامیم کا فارمولہ لکھا ہوتا ہے۔بدقسمتی سے پاکستان میں قوانین میں ترامیم معروف طریقوں سے نہیں کی گئیں ۔ اگرچہ  مارشل لا ادور میں ایک حکمنامے کے ذریعے بھی ترمیم کردی گئی لیکن اسے بھی قومی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت سے منظوری کے عمل سے گزرنا پڑا۔  اور وہ پارلیمنٹ اور سینیٹ میں پیش کرنا پڑا انہوں نے جو منظورنہیں کیا وہ منظور نہیں ہوا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پارلیمنٹ ہی حتمی قوت ہے۔

مجیب الرحمان شامی نے کہایہ جوآئینی ترامیم کی گئیں ان میں سیاسی جماعتوں کی مرضی شامل تھی مگر اس ترمیم پر کھلی بحث نہیں ہوئی بلکہ اس پر بند کمروں میں اتفاق کیاگیا۔ اس کے بعد اسے اسمبلی اور سینیٹ میں پیش کیا گیا لیکن وہاں بھی شق وار بحث نہیں کی گئی۔ 

دستور صرف سیاسی جماعتوں کیلئے نہیں بنابلکہ  یہ ملک اور قوم کیلئے ہوتا ہے۔ اس سے قبل جب بھی کوئی ترمیم ہوتی ہے تواس پر معشرے میں مباحثہ ہوتا ہے۔ جب دستاویزات تیار ہوئیں اور سیاسی جماعتوں کا اتفاق رائے ہوگیا تو اس پر قومی مباحثے کی ضرورت تھی۔اٹھارہویں ترمیم کی منظوری مٰیں جو کمزوری ہے وہ یہ ہے کہ اس پر کوئی قومی بحث نہیں ہوئی, اب کیونکہ یہ قانون بن چکا ہے تو  کہا جا رہا ہے کہ اس پر بات نہیں کی جاسکتی اس سے وفاق خطرے میں پڑسکتا ہے۔

مجیب الرحمان شامی نے کہاس میں یکطرفہ طور پر ترمیم نہیں کی جاسکتی۔ ا اگر پارلیمنٹ  چاہے تو وہ اس ترمیم میں ترمیم کرسکتی ہے اسے یہ حق حاصل ہے، انہوں نے باور کرایاکہ 1973میں بھی کل جماعتی ایک کمیٹی نے سیاسی جماعتوں کے باہمی اتفاق رائے سے ایک ترمیم منظور کرلی تھی تاہم ایک بار پھر سیاسی جماعتوں کااتفاق رائے ہوا تو انہوں نے اس میں بھی ترمیم کرلی۔انہوں نے کہا جو بھی فیصلہ متعلقہ ادارے کے تحت ہوگا اس کے منفی اثرات کم سے کم ہوں گے لیکن اگر آپ ڈنڈے کے زور پر کچھ کرنا چاہیں تو اس کے اثرات بہت زیادہ ہوں گے۔ اس لیے آپ پارلیمنٹ سے اس کا حق نہیں چھین سکتے۔

آپ مکمل انٹرویو یہاں سن سکتے ہیں۔

مزید :

قومی -