ایک عہد کی تکمیل کا آغاز

ایک عہد کی تکمیل کا آغاز
ایک عہد کی تکمیل کا آغاز

  

وزیراعلیٰ پنجاب کا صوبے کے مختلف مقامات پر سستے گھروں کی تعمیر کا اعلان  خوش آئند ہے۔ غریب آدمی بچوں کی خوراک کا انتظام کرے، ان کی پرورش و پرداخت کا اہتمام کرے، ان کی صحت اور مناسب تعلیم کا بندوبست کرے، یا پھر انہیں چھت فراہم کرے۔سبھی کچھ جوئے شیر لانے کے مترادف ہو چکا ہے۔ ایسے میں حکومت کا غریبوں کے لئے سستے گھروں کی تعمیر کا فیصلہ اچھا ہے۔جب 25 جولائی 2018ء کے بعد وزیراعظم نے بعض بڑے بڑے اعلانات کئے تو ان میں ایک اہم اعلان 50 لاکھ گھروں کی تعمیر بھی تھا لیکن ظاہر ہے کہ بعض وجوہات کی بناء پر اس اعلان اور وعدے پر عملدرآمد نہ ہو سکا اس پر حکومت کو  عوام اور اپنے مخالفین کی باتیں بھی سننا پڑیں۔ بہت سی مشکلات بھی حائل تھیں، سال سوا سال کووِڈ19 یعنی کرونا نے بھی دنیا بھر کی طرح پاکستانی حکومتی قیادت کو بھی بے کل اور پریشان کر رکھا تھا لیکن مقام اطمینان ہے کہ پنجاب میں سردار عثمان بزدار نے پرائم منسٹر افورڈیبل ہاؤسنگ پراجیکٹ کے تحت آٹھ بڑے اضلاع بشمول رائیونڈ اور چونیاں میں سستے گھروں کی تعمیر کا مژدہئ جانفزا سنا دیا ہے۔قبل ازیں یہ گھر تین مرلوں پر مشتمل تھے لیکن بعدازاں انہیں ساڑھے تین مرلوں پر محیط کر دیا گیا ہے اور ان سستے گھروں کی قیمت اس قدر دسترس میں ہے اور ان کا حصول اس قدر آسان ہے کہ اس پر مزید کسی بحث و گفتگو کی شاید گنجائش نہ ہو۔

ظاہر ہے کہ اس سے انقلاب برپا تو نہیں ہو سکے گا لیکن وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی غریب آدمی کو سستے گھروں کی فراہمی ممکن ہو گی اور ایک عہد کی تکمیل بھی۔ اگرچہ یہ شروعات ہیں لیکن آہستہ آہستہ یہ سلسلہ مزید آگے بڑھایا جا ئے گا۔ لاہور کی صورت حال لائق تعریف ہے جہاں سردار عثمان بزدار کے مطابق 35 ہزار اپارٹمنٹس پراجیکٹ کے پہلے فیز کا آغاز ہو چکا ہے جبکہ چار ہزار اپارٹمنٹس کی تعمیر کے لئے ایل ڈی اے سٹی ہاؤسنگ پراجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا ہے۔ اور منصوبوں کی تکمیل کی ذمہ داری ایف ڈبلیو او کے سپرد کی گئی ہے جبکہ لاکھوں روپے فی مرلہ قیمت کی زمین چند ہزار روپے میں دی جائے گی اور مکان کے حصول کا خواہشمند محض لاکھ ڈیڑھ لاکھ روپے جمع کرواکے 14 لاکھ کی مالیت کے مکان کا مالک بن جائے گا۔ سردار عثمان بزدار جس طرح وزیراعظم کے وژن کو آگے بڑھانے میں مصروف ہیں انہیں تاریخ کے اوراق میں اچھے الفاظ کے ساتھ جگہ مل سکے گی۔ لمحہئ موجود میں غریب آدمی کے لئے اپنے بچوں کو چھت فراہم کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہو چکا ہے۔ ایسے میں اگر کوئی اس کے دکھوں کا مداوا کرنے کی سعی کرے تو اسے خیر مستور قرار دئیے بغیر نہیں رہا جا سکتا۔ پہلے مرحلے میں پنجاب کی 26 تحصیلوں میں 32 مقامات پر دس ہزار سے زائد گھروں کی تعمیر اپنی عملی شکل اختیار کر گئی تو وزیراعلیٰ کی نیک نامی میں اضافہ ہو گا۔امید کی جانی چاہیے کہ اس سلسلے کو نہ صرف مزید آگے بڑھایا جائے گا بلکہ دیگر صوبوں میں بھی سستے گھروں کی تعمیر جلد شروع ہو سکے گی۔

مزید :

رائے -کالم -