اپنے رویوں پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ! 

اپنے رویوں پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ! 
اپنے رویوں پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ! 

  

خوشی کا تہوار ہو یا غم کا موقع اپنے عزیز و اقارب کے نزدیک رہنے والوں کو اس کا احساس نہیں  ہوتا لیکن جو لوگ دیار غیر میں محنت مزدوری کے لیے گئے ہوتے ہیں، ملکی سرحدوں کی حفاظت کرنے والے افواج پاکستان کے جانباز سپاہی، حساس اداروں کے وہ افراد و افسران جو اپنے فرائض کی انجام دہی میں سالہا سال اپنے پیاروں سے دور رہ کر وطن کی حفاظت اور سلامتی کے لئے اپنے فرائض انجام دیتے ہیں، محکمہ پولیس کے جوان، ان میں سے اکثر نماز عید کے دوران مساجد اور عید گاہوں میں ڈیوٹی انجام دے رہے ہوتے ہیں اور جب نمازی ایک دوسرے سے بغل گیر ہو رہے ہوتے ہیں تو وطن کے ان جوانوں سے بغل گیر ہونا تو ایک طرف ہم ان کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے،اس وقت ان کے دِلوں پر کیا گزرتی ہو گی،کبھی ہم نے اس کا تصور بھی نہیں کیا ہو گا۔ صرف یہی افراد یا شخصیات نہیں اور بھی بیسیوں قسم کے ایسے ملازمین ہیں جو خوشی و غمی کے مواقع پر اپنے فرائض جس طرح دل پر پتھر رکھ کر انجام دیتے ہوں گے،یہ جن پر بیتتی ہے صرف وہی جانتے ہیں۔

سرحدوں کی حفاظت پر مامور فوجیوں کی عظمت کو جس قدر بھی  خراج تحسین پیش کیا جائے کم ہے،یہ اپنے عزیز و اقارب سے ہی نہیں انسانی آبادیوں سے بھی بہت دور جنگلوں، بیابانوں، سنگلاخ چٹانوں، برفیلے پہاڑوں، سمندروں کی تہوں میں بے جگری سے اپنے فرائض تندہی سے انجام دیتے ہیں جس کی بدولت پوری قوم سکون کی نیند سوتی ہے۔اسی طرح پولیس کے جوان بھی اپنے فرائض انجام دیتے ہیں، بالخصوص ٹریفک پولیس کے سپاہی جس طرح سردی گرمی میں سارا دن کھڑے ہو کر اپنے فرائض انجام دیتے ہیں، ہم اس کا کبھی خیال ہی نہیں کرتے۔ پولیس کے جوانوں اور افسران کو معاشرہ وہ مقام  نہیں دیتا جو ان کا حق بنتا ہے۔ خوشی کے مواقع پر ایک اور طبقہ بری طرح نظر انداز ہوتا ہے، وہ ہیں  خاکروب، جو گلی محلوں کی صفائی ستھرائی کے امور انجام دیتے ہیں، لیکن معمولی کوتاہی پر ہم انہیں اس طرح زود و کوب کرتے ہیں جیسے وہ انسان ہی نہ ہوں۔آج کل نہ جانے صفائی کے عملے کو لگتا ہے نظر ہی لگ رہی ہے، گلی محلے کوڑے کرکٹ سے اٹے  پڑے ہیں۔ زندہ دلوں کے شہر لاہور میں  تو گندگی کے ”شاہکار“ جگہ جگہ دکھائی دیتے ہیں،جس کی بدولت قوم شہباز شریف کے دورِ حکومت کو شدت سے یاد کرتی ہے جن دِنوں لاہور شیشے کی طرح دکھائی دیتا تھا۔

عام آدمی کی نظر میں مختلف محکموں بالخصوص چیف سیکرٹری،آئی جی، ڈی آئی جی صاحبان اور انتظامی افسروں کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز وغیرہ کے متعلق یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ان کی زندگی بڑی شاہانہ ہے، یہ بڑے اثر و رسوخ کے مالک ہوتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں یہ بڑے اثرو رسوخ کے مالک ہیں لیکن انہیں اپنے یہ ٹھاٹھ باٹھ قائم رکھنے کے لئے جتنے جتن کرنے پڑتے ہیں، ایک عام آدمی اس کا  تصور بھی نہیں کر سکتا۔ ان افسروں کا دن اپنا ہوتا ہے نہ رات، سکون کی نیند بھی شاید انہیں نصیب نہیں ہوتی کہ نہ جانے کب کس وقت اور کس جگہ کوئی سانحہ رونما ہو جائے، انہیں ہر وقت یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ نہ جانے کب کون سا حکم عذاب بن کر ان پر نازل ہو جائے، اسی کشمکش میں ان کے شب و روز گزرتے ہیں، لیکن ڈیوٹی تو بہرحال ڈیوٹی ہے، وہ تو ہر حال میں انجام دینی ہے۔ بظاہر ٹھاٹھ باٹھ کی زندگی گزارنے والے یہ افسران کتنے مجبور ہوتے ہیں، یہ صرف وہی جانتے ہیں، یہ چوبیس گھنٹے کے ملازم ہوتے ہیں، ان کی خوشیاں اور غم بھی اکثر عوامی خدمت پر غالب ہوتے ہیں، جنہیں یہ دوسروں پر ظاہر بھی نہیں کر سکتے۔

ہمیں بحیثیت شہری اپنے اپنے رویوں پر اپنا  احتساب کرنے کی ضرورت ہے۔ہم بعض اوقات اپنے غصے،جلد بازی یا دیگر وجوہات کی وجہ سے چھوٹے ملازمین، سپاہیوں، ٹریفک پولیس کے عملے یا افسروں کے ساتھ جس طرح بدتمیزی، بدتہذیبی اور بیہودگی کا برتاؤ کرتے ہیں، ہمیں اپنے ان رویوں پر نظر ثانی کرنی چاہئے،کیونکہ ایک بہترین معاشرے کی تشکیل میں پوری قوم نے کردار ادا کرنا ہے، جب تک ایسا نہیں ہو گا ایک خوشحال معاشرہ تشکیل نہیں پا سکتا۔

مزید :

رائے -کالم -