لہولہان فلسطین اور سویا ہوا عالمی ضمیر

لہولہان فلسطین اور سویا ہوا عالمی ضمیر
لہولہان فلسطین اور سویا ہوا عالمی ضمیر

  

کیا فلسطین کا مسئلہ کبھی حل ہو سکے گا؟ کیا فلسطینیوں کو امن کے ساتھ زندہ رہنے کا موقع ملے گا؟ کیا اُن کی سرزمین پر اسرائیل کا غاصبانہ قبضہ کبھی ختم ہو گا؟یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب آج مہذب دُنیا کے پاس نہیں۔دُنیا کا سب سے بڑا مہذب ملک کہلانے کا دعویدار امریکہ اسرائیل کی پشت پر کھڑا ہے اور عالمی ادارے میں اس کے خلاف قرارداد تک پاس نہیں ہونے دیتا،پچھلے چند دِنوں سے اسرائیل فلسطینی بستیوں پر جس بربریت کا مظاہرہ کر رہا ہے اُسے پوری دُنیا دیکھ رہی ہے۔ نہتے فلسطینی جن میں بچے اور عورتیں بھی شامل ہیں اُس کی بربریت کا شکار ہو رہے ہیں،حملے اتنے شدید ہیں کہ فلک بوس عمارتیں بھی روئی کے گالوں کی طرح زمین بوس ہو رہی ہیں،فضا میں لاشوں کے چیتھڑوں سمیت اڑ رہی ہیں۔ اسرائیلی حکومت فلسطینیوں کو صرف اِس بات کی سزا دے رہی ہے کہ انہوں نے مسجد اقصیٰ میں نماز کیوں پڑھی، پہلے نمازیوں کو نشانہ بنایا، مسجد کے صحن میں خون آشامی  کا شکار کیا اور اب شہری آبادی پر حملے کر رہا ہے۔

فلسطینی شہید ہو رہے ہیں،زخموں سے چور ہیں،مگر اُن کے حوصلے پہلے کی طرح بلند ہیں،وہ اسرائیلی جارحیت کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنا چکے ہیں،انہوں نے اُسی کے ساتھ جینا سیکھ لیا ہے۔وہ اپنا وطن چھوڑنے کو تیار ہیں اور نہ یہودیوں کے سامنے سرتسلیم ختم کرنے پر آمادہ ہیں،دُنیا کی تاریخ فلسطینیوں کی لازوال قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی، مگر سوال یہ ہے کہ دُنیا کیا کر رہی ہے۔کیا اسرائیل کے آگے سب کے پَر جلتے ہیں،وہ اسرائیل جو فلسطینیوں کو  تو نہیں جھکا سکا،لیکن نجانے کیوں دُنیا اس کے سامنے سرنگوں کھڑی ہے۔ حالت یہ ہے کہ آزادیئ اظہا کے دعویدار ملک فرانس نے جو اسلامی شعائر کا مذاق اڑانے کی کوشش کا سب سے بڑا سپورٹر بن جاتا ہے،اپنے ملک میں فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کے خلاف مظاہروں پر پابندی لگا دی ہے؟یہ ہے وہ اسلام دشمنی اور منافقت،جسے مسلم اُمہ کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اسرائیل کی حمایت میں پورا مغرب کھڑا ہے،فلسطینیوں کی حمایت کرتے اُن کے سارے جمہوری،انسانی اور آزادیئ اظہار کے دعوے ٹھس ہو جاتے ہیں۔

فلسطینیوں کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ اسلامی ممالک بھی اُس کی حمایت میں یکجا نہیں،اُن میں بھی اختلاف و انتشار ہے۔اگرچہ سعودی عرب نے او آئی سی کا اجلاس طلب کرنے کی درخواست کر دی  ہے،مگر اس اجلاس میں کیا ہو گا۔یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں،ایک کمزور سی مذمتی قرارداد پاس ہو جائے گی اور اسرائیل سے مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ فوری طور پر فلسطین کے خلاف حملے بند کر دے۔ ایسی کوئی قرارداد نہیں آئے گی، جس میں یہ مطالبہ کیا گیا ہو کہ اسرائیل فلسطین کے مقبوضہ علاقے خالی کر دے۔یہ بات تو بہت دور کی ہو چکی ہے،قریب کی باتیں تو صرف ہلکے پھلکے مطالبات تک محدود رہ گئی ہیں،سب دیکھ رہے ہیں کہ فلسطینیوں کو اِس وقت اسرائیل کے خلاف عملی مدد کی ضرورت ہے۔حماس میں اتنا دم خم نہیں کہ اسرائیل کی منظم فوج اور جدید اسلحے کا مقابلہ کر سکے۔اگرچہ اُس نے میزائل داغ کے اسرائیلی شہروں کو نشانہ بنایا ہے،مگر اس کا فائدہ اِس لئے نہیں ہوا کہ اسرائیل کو مزید حملے کرنے کا جواز مل گیا ہے۔

اب مغربی ممالک اسے ایک یورش قرار دے رہے ہیں،حالانکہ یہ جارحیت ہے،جو اسرائیل کی طرف سے کی جا رہی ہے۔شہری آبادی کو نشانہ بنا کر اسرائیل ایک بار پھر فلسطینیوں کی بستیوں کو کھنڈرات میں تبدیل کر رہا ہے،شہری عمارتوں میں موجود ہوتے ہیں کہ وہ اسرائیلی حملے میں پاش پاش ہو جاتی ہے۔ غزہ میں کشت و خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے اور کوئی روکنے والا نہیں، سب سے بری حالت اُمت مسلمہ کی ہے۔ ہلکی ہلکی آوازیں اٹھ رہی ہیں، جن پر اسرائیل کو توجہ دینے کی فرصت ہے اور نہ ضرورت۔ پاکستان نے بھی کہا ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں پر حملے بند کر دے، بھرپور مذمت بھی کی گئی ہے، حالانکہ سب جانتے ہیں یہ اسرائیل کے لئے معمول سے بھی کم تر درجے کی بات ہے۔ اسے جن ممالک کی حمایت چاہئے وہ اسے حاصل ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ اسلامی ممالک نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا تھا، پچھلے کچھ عرصے میں کئی اہم اسلامی ممالک اسے تسلیم کر چکے ہیں، ایک پاکستان ہی ایسا اسلامی ملک ہے،جس نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لئے یہ شرط عائد کر رکھی ہے کہ وہ پہلے فلسطینیوں کے مقبوضہ علاقے خالی کرے، لیکن ہمارے تسلیم نہ کرنے سے اسرائیل کو کیا فرق پڑتا ہے اس کی حمایت تو امریکہ، برطانیہ، فرانس سمیت دنیا کے طاقتور ممالک کرتے ہیں، بلکہ اس کے فلسطینیوں کے خلاف ہر ظلم کی حمایت بھی جاری رکھتے ہیں۔

ایک زمانے میں اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی ایک بہت مؤثر اور طاقتور پلیٹ فارم ہوا کرتی تھی، جس کا اجلاس ہوتا تو دنیا کے طاقتور ممالک کو کسی بڑے ردعمل کی فکر ہو جاتی۔ تیل کا ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی کارگر ہوتی اور مغرب اپنی معاندانہ سوچ اور اسرائیل کی حمایت سے کسی حد تک ہاتھ کھینچ لیتا تھا، مگر پھر رفتہ رفتہ سب نے دیکھا کہ او آئی سی ایک بے جان تنظیم بن کر رہ گئی۔ اس کا ثبوت اس کے حالیہ اجلاس سے بھی مل جائے گا۔ چالیس اسلامی ممالک کی ایک فوج بھی اب تو مسلم اُمہ کے پاس موجود ہے، جس کی سربراہی جنرل راحیل شریف کے پاس ہے۔ فلسطینیوں کو اسرائیل کے مظالم سے بچانے کے لئے یہ فوج کب استعمال کی جائے گی یا صرف شوشا کے لئے اسے بنایا گیا ہے۔ ایک طرف آئے روز فلسطین لہولہان ہو رہا ہے، فلسطینی شہید یا زخمی ہو رہے ہیں۔دوسری طرف اسلامی ممالک کے سربراہ صرف یہ بیان جاری کر کے بری الذمہ ہو رہے ہیں کہ انہوں نے فلسطینی صدر کو فون کر کے ہر قسم کے تعاون اور حمایت کا یقین دلایا ہے۔

 صرف زبانی جمع خرچ والی حمایت اور تعاون سے اسرائیل کی صحت پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔ وہ تو آئے روز خون کی ہولی کھیل رہا ہے اور فلسطینی علاقوں کو ایک بار پھر کھنڈرات بنا رہا ہے۔ تین ایسے ممالک ہیں،جو فلسطینیوں کی اسرائیل کے خلاف عملی مدد کر سکتے ہیں، پاکستان، ایران اور ترکی، مگر اب یہ بھی عالمی مصلحتوں اور مجبوریوں کا شکار نظر آتے ہیں امریکہ پہلے سے بھی زیادہ کھل کر فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کی حمایت کر رہا ہے۔سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کا قبضہ مضبوط بنانے کے لئے جو ڈپلومیسی اختیار کی تھی، اس کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ کے اسلامی ممالک بھی اسرائیل کے ہاتھوں یرغمال بن گئے ہیں۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اس وقت مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اسرائیل کے گرد گھوم رہی ہے، کسی نے کیا سچ کہا ہے کہ اسرائیل در حقیقت منی امریکہ ہے، جو مشرقِ وسطیٰ میں اس کے مفادات اور نشانی کے طور پر موجود ہے امریکہ کے سامنے چونکہ سب کے پَر جلتے ہیں اِس لئے اسرائیل چاہے پورے فلسطین کو مٹا دے اسلامی ممالک ایک مذمتی قرارداد سے آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔ ایسی مذمتی قراردادوں کے لئے تو اسرائیل اور اس کے گاڈ فادر امریکہ نے ایک بڑی ٹوکری رکھی ہوئی ہے، جس میں ڈال کے بھول جاتے ہیں۔ یہ فلسطینیوں کی ہمت اور سخت جانی ہے کہ تن تنہا یہودیوں کے خلاف لڑ رہے ہیں اور اپنی شناخت زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ مہذب دنیا سے انہیں سوائے طفل تسلیوں کے اور کچھ نہیں مل رہا اور یہ عالم انسانیت کا شرمناک رویہ ہے۔

مزید :

رائے -کالم -