سپریم کورٹ کا گھی سمیت دیگر اشیاء کے ٹرالرز کراچی میں داخل ہونے سے روکنے کا حکم 

سپریم کورٹ کا گھی سمیت دیگر اشیاء کے ٹرالرز کراچی میں داخل ہونے سے روکنے کا ...
سپریم کورٹ کا گھی سمیت دیگر اشیاء کے ٹرالرز کراچی میں داخل ہونے سے روکنے کا حکم 

  

کراچی ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سپریم کورٹ رجسٹری کراچی میں ذوالفقار آباد آئل ٹرمینل بنانے کے کیس میں چیف جسٹس پاکستان نےگھی سمیت دیگر اشیاء کے ٹرالرز کراچی میں داخل ہونے سے روکنے کا حکم دے دیا۔

نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ سندھ حکومت کی کیا رٹ ہے جو کنٹینر کنٹرول نہیں ہوتے ، کیا چیف سیکرٹری کیساتھ وزیر اعلیٰ سندھ کو بھی طلب کریں ؟ ،جس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کو رہنے دیں ۔ جس پر عدالت نے چیف سیکرٹری سندھ کو فی الفور طلب کرلیا ۔ 

چیف سیکرٹری سندھ نے عدالت میں پیش ہو کر کہا کہ سارا انتظام کے ایم سی کے پاس ہے حکومت مکمل تعاون کررہی ہے ، جس پر درخواست گزار شہری کے وکیل نے کہا کہ شیریں جناح کالونی میں اب بھی ٹینکرز کھڑے ہیں۔

  وکیل کے ایم سی نے عدالت کو بتایا کہ آئل ٹرمینل تعمیر ہو چکا ہے مگر ٹینکرز اور گاڑیوں والوں کی ایسوسی ایشنز ہیں، وہ گاڑیاں باہر ہی کھڑی کرتے ہیں ،ٹینکر مالکان نے کہا کہ ٹرمینل پر بجلی پانی کوئی سہولت نہیں ، وہاں گیراج بھی نہیں ہے ورکشاپ نہیں ہے کیسے جاسکتے ہیں ؟۔ دکان داروں نے کہا کہ ہمیں کہا گیا ہے دکانیں ہم خود بنائیں لیکن ڈیمارکیشن بھی نہیں کرکے دے رہے، جس پر جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ دکاندار چاہتے ہیں مفت میں دکانیں مل جائیں، دکانیں بن گئیں مگر دکان دار جانے کو تیار نہیں۔

چیف جسٹس نے ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کیا بے ایمانی ہورہی ہے ؟ دکانداروں سے پیسے مانگ رہے ہیں ، کے ایم سی کے منشی، کلرک پیسے مانگ رہے ہیں۔

ایڈمنسٹریٹر نے عدالت کو بتایا کہ ہم جگہ دے رہے ہیں دکانیں یہ خود تعمیر کریں گے، ہمارے پاس فنڈز کی کمی ہے۔ عدالت نے چیف سیکریٹری کو فریقین کے ساتھ مل کر مسئلے کا حل نکالنے اور نگرانی کرنے کی ہدایت کی۔

سپریم کورٹ نے نے آئل بنانے والی کمپنیوں کو تیل ذوالفقار ٹرمینل سے فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

مزید :

قومی -