اسرائیل مقبوضہ وادیوں سے مکمل انخلاءکرے ، مسئلہ فلسطین کا حل مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کی کنجی ہے:شاہ محمود قریشی 

اسرائیل مقبوضہ وادیوں سے مکمل انخلاءکرے ، مسئلہ فلسطین کا حل مشرق وسطیٰ میں ...
اسرائیل مقبوضہ وادیوں سے مکمل انخلاءکرے ، مسئلہ فلسطین کا حل مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کی کنجی ہے:شاہ محمود قریشی 

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مقبوضہ فلسطینی علاقو ں میں اسرائیل کی جانب سے جارحیت اور خون کی ہولی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان چاہتا ہے کہ اسرائیل مقبوضہ وادیوں سے مکمل انخلاءکرے ، فلسطین کے عوام کے بنیادی حقوق بحال کئے جائیں اور ہجرت کرنے والوں کو واپس لا کر آباد کیا جائے ،مسئلہ فلسطین اور کشمیر پر کبھی آنچ نہیں آنے دیں گے یہ ہمارا قوم سے وعدہ ہے ،ہماری کوشش سے او آئی سی کا متفقہ موقف سامنے آیا جس پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس ہوا ، مسئلہ فلسطین کا حل مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کی کنجی ہے ، او آئی سی کے مستقل ارکان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر سے مل کر جنرل اسمبلی کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کرینگے ، وزیر اعظم سے اعتماد کے بعد ترکی جا رہا ہوں وہاں پر فلسطین کے وزیر خارجہ اور سوڈان کے وزیر خارجہ آئیں گے ،فیصلہ کیا ہے کہ مل کر نیو یارک جائیں گے اور 22 کروڑ عوام کی ترجمانی کریں گے ۔

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی تقریر کے بعد فلسطین کی تازہ ترین صورتحال پر  خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہاکہ میں ایوان کو مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ آج ایوان نے میرے ہاتھ مضبوط کئے ہیں،متفقہ قرارداد سے پاکستان کا موقف مضبوط ہوگاا ور اچھے نتائج آئیں گے، پاکستان نے دو ٹوک انداز میں موقف پیش کردیا ہے اس کی تعریف کی گئی ہے ،فلسطین کی قیادت نے پاکستان کے موقف کی تائید کی ہے ۔

انہوں نے پاکستان کو سلامتی کے لئے دعا دی ہے، 27 رمضان المبارک مسلمانوں کے لئے اہم دن ہوتا ہے ،اس دن بربریت اور خون کی ہولی کا آغاز کیا گیا ،وزیر اعظم عمران خان نے اس دن عمرہ ادا کرنے کے بعد پاکستان اور اُمہ کی آواز کی ترجمانی کے لئے او آئی سی کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات کی خواہش کی اور ملاقات ہو گی ،لائحہ عمل مرتب کرنے پر بات کی ، پاکستان نے جارحیت کی مذمت کی ہے، 17مئی کو 27 اہم اجلاس منعقد کئے گئے ،او آئی سی کے وزراءخارجہ کا اجلاس ہوا ،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس بھی منعقد ہوا ، سلامتی کونسل پر امن اور استحکام کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، دنیا کی نظریں سلامتی کونسل پر تھیں کہ بربریت پر کیا موقف کرتے ہیں،چین کی قیادت اور وزیر خارجہ نے اپنی سفارتی کاوشوں سے سلامتی کونسل کو یکجا کرنے کی کوشش کی، تقریبا سب ارکان متفق ہو چکے تھے، ایک طاقت امریکہ نے ویٹو پاور استعمال کی اور مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے میں رکاوٹ ڈالی،سب کا مطالبہ تھا سیز فائر کیا جائے اور شہادتوں کو روکا جائے، پاکستان مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کا موقف ہے ،مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے لئے مسئلہ فلسطین اس کی کنجی ہے ، اس کو حل کئے بغیر امن نہیں ہو سکتا،اس پر اتفاق رائے بن رہا تھا ،مقبوضہ وادیوں میں آبادیوں کا تناسب تبدیل ہونے کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں ان کو روکا جائے ۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ترکی کے وزیر خارجہ سے بھی بات ہوئی ، امریکہ کے وزیر خارجہ کا اجلاس ہوا ہم نے غیر مشروط طور پر فلسطین کےعوام کو حمایت پیشکش کی ہے،پاکستان چاہتاہےکہ اسرائیل مقبوضہ وادیوں سےمکمل انخلاءکرے ،فلسطین کے عوام کے بنیادی حقوق بحال کئے جائیں اور ہجرت کرنے والوں کو واپس لا کر آباد کیا جائے ،مسئلہ فلسطین اور کشمیر پر کبھی آنچ نہیں آنے دیں گے یہ ہمارا قوم سے وعدہ ہے، او آئی سی کا ہماری کوشش سے متفقہ موقف سامنے آیا جس پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس ہوا ۔ 27 رمضان کی رات کو قبلہ اول پر حملہ کرکے ساری مسلم امہ کو للکارا ہے ۔ اس نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے،او آئی سی کے مستقل ارکان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر سے ملیں گے اور مطالبہ کریں گے کہ جنرل اسمبلی کا ہنگامی اجلاس بلایا جائے ۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم سے اعتماد کے بعد آج ترکی جا رہا ہوں وہاں پر فلسطین کے وزیر خارجہ اور سوڈان کے وزیر خارجہ آئیں گے، فیصلہ کیا ہے کہ مل کر نیو یارک جائیں گے اور 22 کروڑ عوام کی ترجمانی کریں گے۔وزیرخارجہ نے کہاکہ آج ساتویں روز بھی بمباری جاری ہے، فلسطین کے عوام کی آواز سنیں گے ، حوصلہ افزا بات ہے کہ یورپ ممالک کے عوام احتجاج کر رہے ہیں لیکن ان کی حکومتیں خاموش ہیں،یورپین یونین کے وزراءخارجہ نے اجلاس بلایا ہے امید ہے کہ وہاں سے انسانیت کے لئے موثر آواز بلند کریں گے، امریکہ کے وزیر خارجہ سے کہا کہ امریکہ اس خون خرابے کو بند کرا سکتا ہے ۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ افغانستان میں حالات بڑے نازک کروٹ لینے والے ہیں ، افغان امن کے لئے پاکستان کے لئے مثبت کردار ادا کر رہا ہے،افغان صدر سے کہتا ہوں کہ ایک طرف پاکستان سے تعاون مانگتا ہیں،دوسری طرف  آپ کے کارندے پاکستان پر الزام اور تہمتیں لگاتے ہیں، آپ چاہتے کیا ہیں؟ ہم جیو اکنامک کی طرف پالیسی شفٹ چاہتے ہیں، وزیر اعظم فرنٹ لائن سے لیڈ کررہے ہیں ،چین کے وزیر خارجہ سے بات چیت ہوئی ہے ،قبلہ اول کو توحید اور ایمان کی نشانی گردانتے ہوئے بات کی ہے،یہ زمین کا ٹکڑا اس پر حملہ اسلام پر حملہ ہے ، مسلم امہ پر آزمائش ہے ، عمران خان کی قیادت میں تاریخ کے درست سائیڈ پر ہوں ،جمعہ کو پاکستان کی قوم کو آواز دے رہے ہیں کہ فلسطین کے عوام کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کریں ، دنیا کو دیکھائیں کہ پاکستان کی قوم بے حس نہیں ہے، میں وزیر اعظم کی اجازت سے اعلان کر رہا ہوں ،اس دن فلسطین کے عوام کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کیا ہے، اپوزیشن کی جماعتوں کو اس اہم مسئلے پرحمایت فراہم کرنے پر شکر گزار ہیں ۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -