جب تک آپ کو اہمیت نہ دی جائے اس وقت تک کسی بھی بڑے یا امیرکبیر شخص سے کوئی توقع نہ کریں

 جب تک آپ کو اہمیت نہ دی جائے اس وقت تک کسی بھی بڑے یا امیرکبیر شخص سے کوئی ...
 جب تک آپ کو اہمیت نہ دی جائے اس وقت تک کسی بھی بڑے یا امیرکبیر شخص سے کوئی توقع نہ کریں

  

مصنف:ڈاکٹر ڈیوڈ جوزف شیوارڈز

قسط:70

اہمیت کا احساس کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔ دوسروں کو اہمیت کا احساس دلانے میں مدد دینے سے آپ کی اہمیت میں بھی اضافہ ہو گا۔ اس کو آزما کر دیکھیں بہت اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔

-1 دوسروں کی تحسین کیجیے۔ دوسروں کو اچھاکام کرنے پر دادتحسین پیش کریں، دوسرے بھی آپ کی عزت کریں گے۔ کبھی بھی کسی سے نہ کہیے کہ آپ اہمیت نہیں رکھتے، دوسروں کو خلوص اور گرم جوشی سے اہمیت دیں۔ مسکرا کربات کریں دوسرے بھی آپ کو اسی طرح گرم جوشی سے اہمیت دیں گے۔ بہت اہم شخص، اہم شخص یا غیراہم شخص کے حوالے سے درجہ بندی کرنے میں وقت ضائع نہ کریں۔ جب تک آپ کو اہمیت نہ دی جائے اس وقت تک کسی بھی بڑے یا امیرکبیر شخص سے کوئی توقع نہ کریں۔ کسی شخص سے آپ برا سلوک کر کے اچھے سلوک کی توقع نہ رکھیں۔

-2 دوسروں کو ان کا نام لے کر مخاطب کریں۔ ہر سال ہزاروں چیزیں صرف اپنے نام کی وجہ سے بہت بڑی مقدار میں فروخت ہوتی ہیں۔ اس طرح لوگ بھی اپنے نام سے پکارے جانے کو پسند کرتے ہیں۔ دو باتیں یاد رکھیں کہ کسی کا نام لیتے وقت اس کو صحیح تلفظ کے ساتھ بولیں۔ اگر آپ صحیح تلفظ کے ساتھ اس کا نام نہیں لیں گے تووہ خیال کرے گا کہ آپ اسے اہمیت نہیں دیتے۔

اگر آپ کسی سے گفتگو کرتے وقت اس کا نام نہیں جانتے تو اس کو جناب، یا میڈم کے نام سے مخاطب کریں۔ ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں سے لوگ اپنے آپ کو اہم محسوس کرنے لگتے ہیں۔

-3 جھوٹی ناموری کی بجائے اصلی ناموری حاصل کریں۔ میں ایک کنونشن میں مہمان خصوصی تھا۔ اس تقریب میں 2سیلز مین کو خصوصی ایوارڈ دیا گیا۔ ان میں ایک خاتون تھی اور ایک مرد تھا۔ انہوں نے اپنے ادارے میں بہترین کارکردگی دیکھائی تھی۔

ایک ایوارڈیافتہ سیلزمین نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ میں نے بہت محنت کی، کئی مشکلات کا سامنا کیا اور دن رات ایک کرکے محنت کی۔ ا س طرح میں نے یہ ایوارڈ جیتا۔ دراصل اس شخص نے اپنے ماتحت کام کرنے والوں کو نظراندازکر دیا تھا جو کہ اس کی کامیابی کا باعث تھے یہ ان کی جھوٹی ناموری تھی۔

پھر دوسرے سیل مین نے اپنے تاثرات بیان کرنے شروع کیے۔ اس خاتون نے مختصر طور پر بہت ہی ٹھوس بات کہی۔ اس نے کہا یہ میرے ساتھ کام کرنے والوں کی محنت کا نتیجہ ہے۔ میں اکیلی کچھ بھی نہ کر سکتی تھی۔ اس نے خلوص کے ساتھ دوسروں کی اہمیت کو واضح کر دیا تھا۔

آپ نے دونوں میں فرق دیکھا۔ پہلے شخص نے صر ف اپنی اہمیت جتلائی جبکہ دوسری خاتون نے اپنے ساتھیوں کی طاقت کو اہمیت دی، جس سے خود اس کی اہمیت میں اضافہ ہوا۔ دراصل دوسری خاتون نے اپنے ساتھیوں میں ایک ایسا جذبہ پیدا کر دیا تھا جو کہ اس کے آئندہ بھی کام آنے والا تھا۔( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم “ نے شائع کی ہے ( جُملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -