انگریزوں اور فرانسیسیوں کی پہلی لڑائی۔۔۔۔(1744 ءسے 1748ءتک)

انگریزوں اور فرانسیسیوں کی پہلی لڑائی۔۔۔۔(1744 ءسے 1748ءتک)
انگریزوں اور فرانسیسیوں کی پہلی لڑائی۔۔۔۔(1744 ءسے 1748ءتک)

  

مصنف : ای مارسڈن 

 1744ءمیں یورپ میں انگریزوں اور فرانسیسیوں کے درمیان لڑائی شروع ہوئی اور بڑھتے بڑھتے دنیا کے ہر حصے میں جہاں انگریز اور فرانسیسی تھے پھیل گئی۔

 اس وقت تک انگریز امن پسند صرف تاجر ہی تھے۔ لڑائی سے کچھ غرض نہ رکھتے تھے۔ مدراس میں جو انگریز تھے وہ سوداگر تھے یا انکے منشی، محرر۔ ان کا اعلیٰ افسر گورنر کہلاتا تھا۔ قلعہ سینٹ جارج کی حفاظت کے لیے کچھ سپاہی اور پہرہ دار نوکر تھے۔ ان کے سوا کوئی فوج ان کے پاس نہ تھی۔

 پانڈے چری کا فرانسیسی گورنر ڈوپلے بڑا دانا اور عاقل تھا۔ مدت سے ہند میں مقیم تھا اور یہاں کے باشندوں کی خوبو سے واقف تھا۔ یہ چاہتا تھا کہ انگریزوں اور فرنگیوں کو ہند سے نکال دے، تاکہ فرانسیسی بے روک ٹوک بلاشرکت غیرے ہند کی تجارت کا نفع اٹھائیں۔ اس کے خیالات کچھ اور بھی تھے۔ یہ تجارت کے منافع ہی پر قانع نہ تھا۔ اس کی دلی منشا یہ تھی کہ جنوبی ہند کو فتح کر کے اس میں سلطنت کا نقشہ جمائے۔

 ڈوپلے کے پاس 4 ہزار ہندی سپاہی تھے۔ فرانسیسی افسروں نے ان کو فرنگیوں کی طرح قواعد کرنا اور لڑنا سکھایا تھا۔ اس نے فوراً فرانس سے فوج منگوائی اور اس کے آتے ہی مدراس پر چڑھائی کر دی اور 1746ءمیں مدراس لے لیا۔

 اس کے بعد فرانسیسیوں نے قلعہ سینٹ ڈیوڈ لینے کی کوشش کی مگر اس اثناءمیں انگریزوں نے بھی انگلینڈ سے کچھ سپاہ منگائی تھی جس کے ہمراہ ایک بہادر انگریز افسر میجر لارنس آیا تھا۔ اس کی مدد سے 3 دفعہ فرانسیسیوں کو پسپا کیا گیا۔ اب انگریزوں کی باری آئی کہ پانڈے چری فتح کرنے کی کوشش کریں مگر ان کی کوششیں ناکام رہیں۔

1748ءمیں یورپ میں انگریزوں اور فرانسیسیوں کے درمیان صلح ہو گئی۔ اس وجہ سے ہند میں بھی لڑائی موقوف ہو گئی۔ مدراس پھر انگریزوں کو مل گیا اور 8 برس یعنی 1756ءتک انگریزوں اور فرانسیسیوں میں برائے نام صلح رہی۔(جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -