ہم کس طرف جا رہے ہیں؟ 

 ہم کس طرف جا رہے ہیں؟ 
 ہم کس طرف جا رہے ہیں؟ 

  

اس ملک میں ایک معمولی سی سوچ رکھنے والا شخص بھی پریشان ہے کہ کہاں پہنچ گئے ہیں۔ ہر وہ کام جو قومی    سا لمیت کے لئے ایک خطرے سے کم نہیں، ہم اسی کو کرنے کے درپے ہیں۔معیشت کی زبوں حالی کا یہ حال ہے لگتا ہے پاکستان سری لنکا بننے جا رہا ہے اور حالات کچھ اور عرصہ ایسے ہی رہے تو ہم اسے بچا نہیں سکتے۔ بنک کرپسی منہ کھولے کھڑی ہے۔ہم اس ملک کو تحفظ نہیں دے رہے، انصاف نہیں دے رہے۔اگر صورت حالات کچھ اور بگڑی تو سیاست کے ایوان اجڑ جائیں گے۔ انصاف کے ذمہ دار سب سے زیادہ قصور وار ٹھہرائے جائیں گے۔یہی حالات رہے تولگتا ہے آگ اور خون کا رقص کسی وقت بھی شروع ہو سکتا ہے۔مقتدر حلقے جن کے بارے لوگوں کا خیال ہے کہ اس کھیل میں وہ بھی برابر کے شریک ہیں، کیا انہیں اندازہ نہیں کہ وہ تو پہلے ہی دہشت گردی اورایک ان دیکھی جنگ کے ہاتھوں بہت سی مشکلات کا شکار ہیں اور اس کھیل کو ہوا دے کر وہ اپنے لئے مزید مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔

اس ملک میں کئی نسلیں اور کئی قومیں آباد ہیں۔ پاکستانیت جس کو اس ملک کی تمامم لوگوں کو متحد رکھنا تھا اور رکھنا ہے۔ جسے ان تمام قوموں  اور نسلوں کو ویلڈ کرنا تھا، ایک لڑی میں پرونا تھاکہیں نظر نہیں آتی۔ پنجابی پہلے سے بڑھ کر پنجابی ہے۔ بلوچ پہلے سے بہت زیادہ بلوچ ہے۔ سندھی کا کٹر پن اور مستحکم نظر آتا ہے اور پٹھان تو پٹھان ازم سے ہٹنے کو تیار ہی نہیں۔ یہی صورت حال کشمیر، گلگت  بلتستان اور دوسرے چھوٹے علاقوں کی ہے۔ ہر کوئی اپنی اپنی ڈفلی اور اپنا اپنا راگ  الاپ رہا ہے۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ اس سے بہت بڑھ چکی ہے۔ سندھی، سندھی اور مہاجر کی صورت آپس میں بھی بر سر پیکار ہیں۔ پنجاب میں سرائیکی،ایک ہی زبان مگر لہجے کے فرق سے علیحدہ صوبے کے طلبگار ہیں۔کوئی صو بہ بھی اس ابتلا سے محفوظ نہیں۔فقط نفرتیں ہیں کہ انسانوں کے اندر تک سرایت کر گئی ہیں اور ان نفرتوں کا کچھ ازالہ نظر نہیں آتا۔ حکمران کہلانے والے اور لوٹ مار کرنے والوں کو اپنی ذات سے زیادہ کچھ عزیز نہیں۔ وہ ہر چیز سے بے نیاز اپنا کام دکھانے میں مصروف ہیں۔ملک ڈوبتا ہے تو ڈوبے بھگتیں گے عام لوگ۔ان کی جائیدادیں اور ان کی اولادیں سب اس ملک سے دور کسی محفوظ مقام پر مقیم ہیں۔ ان حالات کا وہ کوئی اثر قبول نہیں کرتے۔

کسی ملک کے ڈیفالٹ کے خطرے کے تین اشارے ہوتے ہیں۔ معاشی جمود، سیاسی ابتری اور فنانشل مس مینجمنٹ۔ اس وقت پاکستان کے موجودہ حالات میں یہ تینوں اشارئیے بہت واضع  ہیں۔ہمارے ارباب اختیار اس میں بہتری کے لئے کوشاں نظر نہیں آرہے۔ا نہیں احساس ہی نہیں کہ ایک دفعہ ڈیفالٹ ہونے کے بعد اس کے اثرات پر قابو پانا حکومت کے لئے مشکل ہو جاتا ہے۔ ملک کا ڈیفالٹ اس وقت شروع ہوتا ہے جب وہ قرضے کی کوئی قسط دینے کے قابل نہیں رہتایا اس کا سود دینے کی پوزیشن میں نہیں ہوتا۔IMF تو اس معاملے میں ڈیفالٹ ڈیکلیر کرنے میں کبھی دیر نہیں کرتا۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ملک کا عالمی سطح پر نہ اعتبار رہتا ہے اور نہ وقار۔ ڈالر کی قیمت تیزی سے بڑھنے لگتی ہے۔ وہ ڈالر جو آج دو سو کو چھو رہا ہے ڈیفالٹ کی صورت میں تیزی سے تین سوکی طرف بھاگ دوڑ شروع کر دے گا۔ آپ کو اپنی بقا کے لئے جو مزید رقم درکار ہوگی وہ کوئی دینے کو تیار نہیں ہوگا۔ملک کے اندر افراتفری کی صورت پیدا ہونے لگے گی۔ لوگوں کا بنکنگ سسٹم پر اعتبار نہیں رہے گا وہ بنکوں سے اپنی رقم نکال لینے کے خواہاں ہوں گے۔یوں معاشی بحران سنگین سے سنگین تر ہو جائے گا۔لوگ سڑکوں پر نکل آئیں گے۔ لوگ کسی نظم یا ضبط کے تحت باہر نہیں نکلتے۔ وہ تو ایک ہجوم ہے جس کا کوئی ضابطہ اخلاق نہیں ہوتا، جسے کوئی روکنے اور ٹوکنے والا نہیں ہوگا،اس طرح  کے حالات میں سیاسی ابتری سوا ہو جاتی ہے۔ان بد تر حالات میں حکومت کو تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی میں مشکل پیش آتی ہے۔

سری لنکا میں ایک جہاز تیل لے کر آتا ہے۔ ملک کے پاس جہاز والوں کو تیل کے پیسے دینے کی رقم ہی نہیں۔وہ پیسے دینے سے انکار کرتے ہیں۔ وہ جہاز لنگر اٹھاتا ہے اور ہندو ستان روانہ ہو جاتا ہے۔یہ ڈیفالٹ کی ابتدا تھی۔ ملک میں فوری ہنگامے شروع ہو جاتے ہیں۔وزیروں کے گھروں کو آگ لگا دی جاتی ہے۔ ارباب اختیار کی آمدورفت مشکل ہو جاتی ہے۔ ان کی گاڑیاں توڑ پھوڑ دی جاتی ہیں۔ ایک وزیر کی گاڑی کو اٹھا کر دریا میں پھینک دیا جاتا ہے۔بنکوں اور سرکاری املاک  کو توڑا  اور جلایا جاتا  ہے۔چونکہ ڈیفالٹ نیا نیا ہے اس لئے تاحال یہ سلسلہ جاری ہے۔ حتمی صورت کیا ہو کچھ نہیں کہا جا سکتا۔مگر یہ کوئی ایسی بات نہیں کووڈ کے بعد مہنگائی اور معاشی ابتری نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس وقت دنیا میں بیس (20) سے زیادہ ممالک،جن میں روس، اٹلی، ترکی، اسرائیل، ویتنام، یوکرائن، ارجنٹائن، پرتگال اور بہت سے  ملک شامل ہیں، ایسے ہیں جہاں ڈیفالٹ کا خطرہ پاکستان سے بھی زیادہ ہے مگر بہتر کارکردگی اور بہتر سیاسی حالات سے وہ خود کوپوری طرح سنبھالے اور ان حالات سے بچنے کے لئے کوشاں ہیں۔

ایف بی آر کے سابق چیرمین جناب شبر زیدی نے بھی کہا ہے کہ ڈالرز کی بچت اگر نہ کی گئی تو چند ماہ میں پاکستان کو دیوالیہ ہونے کا سخت خطرہ ہے۔ خطرہ اپنی جگہ مگر ڈالرز کی بچت  ہمارے جیسے ملک کے لئے اس وقت بہت ضروری ہے۔ امپورٹ کم سے کم کرنے کے لئے عیاشی بند کرنا بہت ضروری ہے۔ بڑی بڑی گاڑیاں جو عام آدمی کی نہ تو ضرورت ہیں اور نہ  عام آدمی کی قوت خرید میں آتی ہیں ان پر بے پناہ زرمبادلہ خرچ کرنا ان حالات میں حماقت کے  سواکچھ نہیں۔ ضرورت ہے کہ اس ملک کی ایلیٹ کو دی گئی ساری مراعا ت ختم کی جائیں۔ غیر ضروری امپورٹ ختم کی جائیں۔ اور ایسے اقدامات کئے جائیں جن سے قومی خزانے میں بہتری آئے۔ مہنگائی کا بوجھ اکیلے غریب اٹھاتے ہیں۔ امیروں سے کچھ لینا ہو تو چھیننا پڑتا ہے اور یہ عمل ضروری ہے۔ میرے بس میں ہو تو  مشورہ یہی ہے کہ ایمرجنسی نافد کرکے لوٹ مار کرنے والے تمام لوگوں سے زبردستی اتنا پیسہ ضرور وصول کیا جائے کہ اس ملک کی بقا پر کوئی حرف نہ آسکے۔ یہ کام اگر حکومتی سطح پر نہ ہوا  اور اگر مجبوری میں عوام کو کرنا پڑا تو حکمران بھی اس کی بھاری قیمت ادا کریں گے۔

مزید :

رائے -کالم -