کیا سپریم کورٹ کی رائے آئندہ فیصلوں پر اثر انداز ہوگی؟ بیرسٹر سعد رسول نے قانونی نقطہ واضح کردیا

کیا سپریم کورٹ کی رائے آئندہ فیصلوں پر اثر انداز ہوگی؟ بیرسٹر سعد رسول نے ...
کیا سپریم کورٹ کی رائے آئندہ فیصلوں پر اثر انداز ہوگی؟ بیرسٹر سعد رسول نے قانونی نقطہ واضح کردیا
سورس: Twitter

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) قانون دان بیرسٹر سعد رسول کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 163 اے کی تشریح میں سپریم کورٹ نے جو رائے دی ہے اس کو فیصلہ سمجھا جائے گا اور یہ آنے والے فیصلوں کیلئے بائنڈنگ ہوگی۔

نجی ٹی وی دنیا نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سعد رسول کا کہنا تھا کہ جب سپریم کورٹ تین دو سے رائے دے تو اس کا مطلب ہوگا کہ یہ پانچ رکنی بینچ کی رائے ہے، اگر ہائیکورٹ ، الیکشن کمیشن یا سپریم کورٹ میں پانچ ممبر سے کم تعداد کا بینچ ہو تو اس پر یہ رائے وزنی ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ عدالتِ عظمیٰ کی تین قسم کی طاقتیں ہیں، ایک  183 کے تحت ہے جو کہ سپریم کورٹ کو از خود نوٹس کا اختیار دیتی ہے۔ آرٹیکل 185 کے  تحت ہائیکورٹ، الیکشن کمیشن یا سروسز ٹربیونل سے سپریم کورٹ کے پاس اپیل جاتی ہے۔ آرٹیکل 186  کے تحت وفاقی حکومت صدر کے ذریعے سپریم کورٹ سے  رائے مانگتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی یہ سوال اٹھا تھا کہ کیا سپریم کورٹ کی رائے کو فیصلہ سمجھا جائے گا؟ اس پر افتخار چوہدری نے فیصلہ دیا تھا کہ سپریم کورٹ کی 186 کے تحت رائے کوسپریم کورٹ کے فیصلے کےطور پر سمجھا جائے گا، سپریم کورٹ کی رائے آئندہ آنے والے تمام فیصلوں پر اثر انداز ہوگی۔

دوسری جانب سابق اٹارنی جنرل آف پاکستان عرفان قادر کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 163 اے کی تشریح کے معاملے میں سپریم کورٹ نے فیصلہ نہیں رائے دی ہے اور صدرِ مملکت اس رائے کو ماننے کے پابند نہیں ہیں۔

 خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے صدارتی ریفرنس کا فیصلہ سنادیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ سیاسی جماعتیں جمہوریت کی بنیادہیں اور  پالیسی سے انحراف کرنا کینسر ہے۔ منحرف ارکان کا ووٹ کاسٹ اور شمار نہیں کیا جائے گا۔ عدالت نے منحرف ارکان کی نا اہلی کی مدت کے تعین کے حوالے سے سوال کو واپس صدرِ مملکت کو بھجوادیا ہے۔ سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا ہے کہ نا اہلی کی مدت کا تعین کرنے کیلئے بہترین فورم پارلیمان ہے اور اس حوالے سے قانون سازی کیلئے درست وقت یہی ہے۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -