یوای ٹی لاہور میں پی ایچ ڈی اسلامیات کا پیپر لیک آوٹ  ہونے کا معاملا، پروب کمیٹی نے کیس ایف آئی اے کو بھیجنے کی سفارش کردی

یوای ٹی لاہور میں پی ایچ ڈی اسلامیات کا پیپر لیک آوٹ  ہونے کا معاملا، پروب ...
یوای ٹی لاہور میں پی ایچ ڈی اسلامیات کا پیپر لیک آوٹ  ہونے کا معاملا، پروب کمیٹی نے کیس ایف آئی اے کو بھیجنے کی سفارش کردی
سورس: Facebook

  

 لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن ) یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (یوای ٹی)  لاہور میں پی ایچ ڈی اسلامیات کا پیپر لیک آوٹ  ہونے کا معاملا، پروب کمیٹی نے کیس وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)  کو بھیجنے کی سفارش کردی۔

 تفصیلات کے مطابق اگست  2021 میں یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور  کے شعبہ اسلامیات میں پی ایچ ڈی پروگرام میں داخلوں کے لیے انٹری ٹیسٹ کا پرچہ سوشل میڈیا پر شیئر ہونے کے متعلق یوای ٹی کے ایک اسسٹنٹ پروفیسر نے ڈی جی اینٹی کرپشن کے نام شکایت درج کرائی تھی،اینٹی کرپشن کے محکمے نے ایچ ای ڈی کے ذریعے یوای ٹی سے اس معاملے کی تفصیلات اور رپورٹ طلب کی تھی۔ جس پر وائس چانسلر یوای ٹی ڈاکٹر منصور سرور نے ڈاکٹر نوید رمضان اور ڈاکٹر شاہد رفیق پر مشتمل دو رکنی پروب کمیٹی بنائی تھی جس نے سفارش کی تھی کہ اس کی لارج سکیل پر انکوائری کی جائے، ساتھ ہی انہوں نے قراردیا کہ پیپر سوشل میڈیا پر کیسے شیئر ہوا اس کی تحقیقات ایف آئی اے سائبر کرائم  ونگ سے کرائی جائیں۔

کمیٹی نے یہ بھی قراردیا کہ آئندہ چیئرمین  پیپر کی سیکریسی کا خیال رکھے۔شکایت کنندہ ڈاکٹر تنویرقاسم نے کمیٹی کی رپورٹ کو نامکمل قراردیا اور کہا کہ پی ایچ ڈی کا پیپر بنانا اور اس کے انعقاد کی تمام تر ذمہ داری  ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ پر عائد ہوتی ہے اسے بری الزمہ کیسے قراردیا جاسکتا ہے،جب تک انکوائری مکمل نہیں ہوتی تب تک ہیڈ آ ف ڈپیارٹمنٹ کو اس کے عہدے سے معطل کرنا چاہیے تاکہ وہ قرائن وشواہد کو ضائع نہ کرسکے اور کیس پر اثرانداز نہ ہو۔ڈاکٹر تنویرقاسم کا کہنا تھا کہ پیپر لیک آؤٹ ہونے اورسوشل میڈیا پر شیئر ہونے سے ادارے کی بدنامی ہوئی ہے، لہٰذا ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -