ریڈ لائن

  ریڈ لائن
  ریڈ لائن

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


ویسے تو پاکستان ہمیشہ نازک دور سے گزر رہا ہوتا ہے کم از کم سیاسی رہنماؤں اور دانشوروں کی طرف سے یہی بتایا جاتا رہا ہے لیکن اب حالات روایتی اور نازک دور سے کچھ آگے بڑھ گئے ہیں اب شاید اِسے غیرمعمولی حالات کہا جا سکتا ہے۔ غیرمعمولی کوئی ایک واقعہ نہیں بلکہ اب تو اِسے ”غیر معمولی دور“ کہنا چاہئے۔ ملک میں سیاسی تقسیم کم از کم ایک دفعہ پہلے بھی اِسی سطح تک پہنچ چکی تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے میں اِسی طرح قوم رائٹ اور لیفٹ میں بُری طرح تقسیم ہو گئی تھی اور یہ تقسیم کسی حد تک اداروں میں بھی سرایت کر گئی تھی۔ اُس وقت تقسیم کی بنیاد نظریاتی تھی اگرچہ وہ بھی سراب ثابت ہوا۔ پیپلزپارٹی اِس کے نتیجے میں صرف سندھ تک محدود ہوگئی۔ 2013ء میں مسلم لیگ (ن) برسراقتدار آئی تو پتہ چلا کہ نظریاتی کشمکش ختم ہو گئی اور آئندہ کا نعرہ ڈلیور ی ہوگا۔ مسلم لیگ نے اِس نعرے کے نتیجے میں کافی ترقیاتی کام کئے اور انرجی بحران اور دہشت گردی کے عفریت پر بھی قابو پایا لیکن اب بدقسمتی سے ہم ڈلیوری والے عملی پہلو سے ہٹ کر ایک دفعہ پھر کچھ نعروں کی زد میں آ گئے ہیں اب ہم ”حقیقی آزادی“ حاصل کرنے چل نکلے ہیں۔ یہ نعرہ ایک ذو معنی نعرہ ہے ہر کوئی اِس سے اپنا مطلب نکال سکتا ہے۔


پاپولرازم اور شخصیت پرستی کے لئے بہرحال کچھ نعروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ پاپولرازم کی لہر صرف پاکستان میں نہیں بلکہ دنیا بھر میں آئی ہوئی ہے امریکہ، اٹلی اور کئی دوسرے ملکوں میں پاپولسٹ برسراقتدار آئے ہیں۔امریکہ کے سابق صدر ٹرمپ اِس کی بہترین مثال ہیں۔یہاں بھی ایک شخصیت کی مقبولیت کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ اِس سے پہلے ذوالفقار علی بھٹو اپنے دور کی مقبول ترین شخصیت تھے متحدہ پاکستان میں شیخ مجیب الرحمن بھی بہت مقبول تھے پھر زمانہ حال میں کراچی میں الطاف حسین بھی مقبولیت کے عروج پر رہے ہیں لیکن مقبولیت کسی کے کام نہ آئی بلکہ انجام افسوسناک ہی ہوا۔


موجودہ حالات میں عمران خان کی گرفتاری کے نتیجے میں جو احتجاج ہوا وہ بھی غیرمعمولی تھا کیونکہ اس میں کوئی لاکھوں لوگ تو شامل نہیں ہوئے لیکن کچھ لوگوں نے جس طرح پولیس پر حملے کئے، گاڑیاں جلائیں  حتیٰ کہ ایمبولینس بھی جلا دی گئی۔ ایک اور ایمبولینس سے مریض کو اُتار کر آگ لگا دی گئی اِس سے زیادہ گھٹیا بات کیا ہو سکتی ہے اور خاص طور پر آرمی کی تنصیبات پر جس طرح حملے کئے گئے یہ آج سے پہلے سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا، اِس پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور بہت کچھ لکھا جائے گا،۔ اِن لوگوں کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت مقدمات قائم کئے جائیں گے۔ پھر عام لوگوں کی طرح ادارے بھی جس طرح واضح انداز میں تقسیم ہوتے نظر آئے ہیں یہ بھی غیرمعمولی ہے۔ پاکستان کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ بری طرح تقسیم ہو چکی ہے پھر چیف جسٹس کا ایک پارٹی یا شخصیت کی طرف مبینہ جھکاؤ بھی غیرمعمولی واقعہ ہے۔ ویسے تو کوئی شخص کسی اونچی کرسی تک پہنچ جائے تو اُس کے لئے بڑے خطرات ہوتے ہیں وہ ایکسپوز ہو جاتا ہے مطلب یہ کہ اُس کی شخصیت کے اچھے بُرے پہلو نمایاں ہو جاتے ہیں پھر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس  کا تو امتحان بہت سخت ہوتا ہے کیونکہ پوری قوم کی نظریں اُسی پر جمی ہوتی ہیں بڑی بات ہے اگر کوئی شخص اتنے طاقتور اور حساس عہدے سے باعزت ریٹائر ہو۔


پھر یہ بھی ایک انتہائی غیرمعمولی واقعہ ہے کہ ملک کی اہم پارٹیاں جمعیت علمائے اسلام، مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی جو حکومت میں ہیں سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دے رہی ہیں خدا جانے اِس دھرنے کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ یہ بھی ایک غیرمعمولی واقعہ ہے کہ پنجاب اسمبلی کے انتخابات سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود منعقد نہیں ہو رہے اگرچہ آئین کی ہدایت اِس معاملے میں واضح ہے۔ 
حکومت نے عمران خان کو گرفتار کرکے پی ٹی آئی کی ریڈلائن کراس کی ہے۔ پی ٹی آئی کے کارکنوں نے فوجی دفاتر پر حملے کرکے فوج کی ریڈلائن کراس کر دی ہے۔ سپریم کورٹ نے عمران خان کو رعایت دے کر حکومت کی ریڈ لائن کراس کی اور اب حکومت نے سپریم کورٹ کے خلاف مظاہرہ کرکے عدالت حالیہ کی ریڈ لائن کراس کرلی ہے اور خوفناک بات یہ ہے کہ ملک بھر میں کوئی غیرجانبدار ادارہ، پارٹی اور حتیٰ کہ شخصیت ایسی نہیں جو اِس صورتحال میں مثبت کردار ادا کر سکے۔ کہا جاتا تھا کہ ہم شاید Banana Republic  کا تاثر پیش کر رہے ہیں لیکن اب تو شاید ہم واقعی Banana Republic بن چکے ہیں۔ فوجی قیادت سے بحیثیت قوم ہمیں بہت سے گلے شکوے ہیں اور اب تو وہ خود پبلک میں بھی اپنی غلطیاں تسلیم کر چکے ہیں لیکن اس سب کے باوجود ایک منظم فوج ریاست کی سلامتی کی ضامن ہے۔ بہرحال اب کھیل تیز ہو گیا ہے بے یقینی انتہائی حد تک بڑھ چکی ہے، اللہ خیر کرے۔

مزید :

رائے -کالم -