ہم نے اپنے سکول میں ان افراد کو ملازمت دی جن کی بطور استاد حیثیت معتبر تھی اور وہ تجربہ کار بھی تھے، ان کی ڈگریوں سے کوئی واسطہ نہ تھا

 ہم نے اپنے سکول میں ان افراد کو ملازمت دی جن کی بطور استاد حیثیت معتبر تھی ...
 ہم نے اپنے سکول میں ان افراد کو ملازمت دی جن کی بطور استاد حیثیت معتبر تھی اور وہ تجربہ کار بھی تھے، ان کی ڈگریوں سے کوئی واسطہ نہ تھا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:ڈاکٹر ڈیوڈ جوزف شیوارڈز
ترجمہ:ریاض محمود انجم
 قسط:91
ترجمان نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا: ”پہلے تو ہمیں یہ فیصلہ کرنا تھا ہم اپنے سکول میں اعلیٰ اور معیاری خدمات مہیا کریں اور طالب علموں کو ان کی خواہشات اور ضروریات کے لحاظ سے زیادہ سے زیادہ تعلیم مہیا کریں۔ ہم نے اپنے سکول میں ان افراد کو ملازمت دی جن کی بطور استاد حیثیت مسلم مستند اور معتبر تھی اور وہ تجربہ کار بھی تھے۔ ہمیں ان کی ڈگریوں سے کوئی واسطہ نہ تھا۔ ہم نے طالب علموں کے لیے تدریس کے ضمن میں نظام الاوقات مقرر کیا اور ان میں اپنے سکول کے حوالے سے احساس برتری اور احساس تفاخر پیدا کر دیا، ان کے دلوں میں جذبہ و شوق پیدا کر دیا۔ اب دن بدن ہمارے منافع میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور بے شمار طالب علم ہمارے سکول میں داخلہ لینے کے لیے انتظار کر رہے ہیں۔ مقامی انتظامیہ بھی ہمارے منصوبوں کے لیے ہمیں مدد اور معاونت مہیا کر رہی ہے۔“
ترجمان نے اپنا سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا: ”ہمیں یہ معلوم ہوگیا کہ جب ہم اعلیٰ اور معیاری خدمات فراہم کریں گے، طالب علموں کو ان کی توقعات سے زیادہ تعلیم مہیا کریں گے، تو پھر دولت اورمنافع، ہمار ے لیے کوئی مسئلہ نہیں رہے گا۔“
اس مثال کے ذریعے ظاہر ہوتا ہے پرائیویٹ اور نجی ادارے، سرکاری اداروں کی نسبت زیادہ بہتر خدمات مہیا کرتے ہیں۔ اس مثال کے ذریعے اس مفروضے اور تصور کی بھی تصدیق ہو جاتی ہے کہ ”پہلے یہ معلوم کریں کہ آپ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں، اور پھر یہی چیز آپ دوسروں کو فراہم کریں!“
مثبت نتائج کے ثمرمیں دوسروں کو شریک کرنے کے فوائد:
بہت سے منتظمین (Managers) لالچی اور حریص ہوتے ہیں، اور یہ لالچی اور حریص لوگ ہمیشہ اس فکر میں مبتلا رہتے ہیں کہ کس طرح اپنے عملے کا استحصال کرکے، ان سے فائدہ اٹھا کر حتیٰ کہ ان کو دھوکہ دے کر زیادہ سے زیادہ دولت حاصل کی جائے۔ لیکن یہ انداز فکر مفید اور موثر ثابت نہیں ہوتا۔
بہرحال کچھ منتظمین (Managers) فراخ دل اور فیاض ہوتے ہیں، ان کا انداز فکریہ ہوتا ہے کہ اپنے عملے کی صلاحیتوں اور کارکردگی کے عین مطابق انہیں معاوضہ ادا کیا جائے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ادارے کی کامیابی او رمنافع میں ان ملازمین کو بھی حصے دار بنانا چاہیے۔
کاروباری یا دیگر معاملات میں کون سا انداز فکر اور عمل بہترین نتائی کا ضامن ہے؟
لالچ اور حریص پن پر مبنی انداز فکر اور طرز فکر اور طرز عمل، اور یا پھر فراخ دلی اور فیاضی پر مبنی انداز فکر اور طرز عمل۔ اس سوال کے حوالے سے کاروباری مالکان اور ان کے منتظمین ایک عرصے سے بحث و مباحثہ میں مصروف ہیں لیکن ایک با مقصد مشاہدے کے حوالے سے جواب نہایت واضح اور قطعی ہے: ”اگر لوگ اپنا کام محنت سے کریں گے توان کی کارکردگی بھی بہتر ہو جائے گی اور اس طرح وہ زیادہ سے زیادہ معاوضہ حاصل کرلیں گے۔“ ایک کاروبار کو منافع بخش انداز میں چلانے کے لیے یہ اصول بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -