دہشت گردی کے خلاف مل کر لڑنے کا فیصلہ

دہشت گردی کے خلاف مل کر لڑنے کا فیصلہ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

پاکستان اور افغانستان نے فیصلہ کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف دونوں ملک مل کر لڑیں گے، دو طرفہ تعلقات،غربت و پسماندگی کے خاتمے، معاشی تعاون کے فروغ اور سیکیورٹی کے متعلق جامع مذاکرات کی اہمیت پر اتفاق کیا گیا، یہ اتفاق رائے افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی اور وزیراعظم محمد نواز شریف کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں کیا گیا، دونوں رہنماؤں کی مشترکہ پریس کانفرنس میں وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا کہ ہماری سلامتی اور خوشحالی کا مستقبل ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے، ہمارے پاس مل کر کام کرنے اور مضبوط تعلقات کی تعمیر کا ایک تاریخی موقع ہے، عزم اور جدوجہد سے مل کر عہدہ برا ہو سکتے ہیں۔ افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان اور افغانستان میں جمہوریت مستحکم ہونی چاہئے، عملی اقدامات سے ہی دوطرفہ تعلقات بہتر ہوں گے،13سال کی تجارتی رکاوٹوں کو تین دن میں دور کر لیا۔ افغان معیشت پر پاکستان کی توجہ کا خیر مقدم کرتا ہوں۔ دونوں ملکوں میں تجارت بڑھانے کا معاہدہ بھی ہوا ہے۔ پاک افغان سرحد پر دہشت گردوں کی نقل و حرکت روکنے کے لئے بارڈر سیکیورٹی کے معاملات پر بھی اتفاق کیا گیا۔
ڈاکٹر اشرف غنی کا یہ دورہ کئی لحاظ سے منفرد ہے،ایک تو وہ افغانستان کے روایتی سیاست دان نہیں ، جن کا ایک مخصوص پس منظر اور مائنڈ سیٹ بن گیا ہوا ہے، وہ اس ماحول اور اس پس منظر سے آسانی کے ساتھ نکل نہیں سکتے، پاکستان کے ساتھ معاملات کرتے ہوئے بھی اکثر و بیشتر وہ اس مائنڈ سیٹ کا شکار ہو جایا کرتے تھے۔ حامد کرزئی اس مائینڈ سیٹ کی عمدہ مثال تھے اس وجہ سے اُن کے رویئے میں توازن کا فقدان تھا۔ڈاکٹر اشرف غنی اس لحاظ سے بھی مختلف ہیں کہ اعلیٰ تعلیم کی وجہ سے ان کا ذہنی اُفق وسیع ہے اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کے ضمن میں اُن کا ذہن کلین سلیٹ ہے، جس پر دونوں ملکوں کے شاندار تعلقات کا مسودہ لکھا جا سکتا ہے، وہ ماضی کی کشمکش کا شکار نہیں ہیں اور نہ اس بوجھ کا قلاوہ اپنی گردن پر لاد کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں، افغانستان کے روایت پرست اور کئی لحاظ سے رسوم و قیود کے شکار معاشرے میں وہ ایک روشن مستقبل کی نوید دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں اِسی لئے وہ کہہ رہے ہیں کہ ماضی کو بھلا کرآگے بڑھنا ہو گا۔
پاکستان میں دہشت گرد عناصر کے خلاف جب کبھی کوئی کارروائی شروع ہوتی ہے جیسی شمالی وزیرستان میں اب ضربِ عضب کے نام سے جاری ہے تو جو عناصر سیکیورٹی ایجنسیوں سے بچ بچا کر نکلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اُن کی جائے پناہ عمومی طور پر سرحد کے قریب وہ علاقے بنتے ہیں،جہاں وہ روپوشی کے ٹھکانے بنا لیتے ہیں اور موقعہ ملنے پر پاکستان کی سرحدی چوکیوں یا پاکستان کے اندر دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے ہیں، سوات آپریشن سے بچ کر جو لوگ افغانستان چلے گئے تھے وہ اب تک وہیں مقیم ہیں اور ایسی خبریں آتی رہتی ہیں کہ ان عناصر نے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کی ہیں، تازہ آپریشن کے بعد بھی ایسے عناصر کی نشاندہی کی گئی ہے اور انہیں پاکستان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اگر دونوں ملک مل کر اِن عناصر کا قلع قمع کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو یہ بہت بڑی کامیابی ہو گی اور دونوں ملک اس کے فوائد سے فیض یاب ہوں گے۔ وزیراعظم نواز شریف اور افغان صدر اشرف غنی کے درمیان دہشت گردی سے مل کر نمٹنے کا جو فیصلہ ہوا ہے اگر اس پر صِدق دلی سے عمل ہو جائے اور بات زبانی جمع خرچ سے آگے بڑھ جائے تو یہ حقیقی کامیابی ہو گی، ماضی میں بھی اگرچہ اس طرح کی باتیں ہوتی رہی ہیں، لیکن عمل کا خانہ اگر بالکل خالی نہیں تو بڑی حد تک کمزور رہا، اس لئے اب ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان جن امور پر اتفاق ہو اُن پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے یہ افغانستان کی صورت حال سے براہ راست متاثر ہوتا ہے، ساڑھے تین عشرے قبل جب سوویت افواج رات کے اندھیرے میں افغانستان میں داخل ہوئیں اور انہوں نے افغان عوام کے خلاف کارروائیاں شروع کیں تو پاکستان میں مہاجرین کا ایک سیلاب آ گیا۔ یہ مہاجرین پاکستان کی معیشت پر زبردست بوجھ تھے، لیکن پاکستان نے ان کی دیکھ بھال کا حق ادا کیا۔ دیکھا جائے تو سوویت افواج کی آمد نے نہ صرف افغانستان کے لئے مسائل پیدا کئے، بلکہ پاکستانی معاشرے پر بھی بُری طرح اثر انداز ہوئی، سماجی علوم کے ماہرین کا خیال ہے کہ افغان مہاجرین سے پاکستانی معاشرے پر جو دباؤ پڑا، کوئی بڑے سے بڑا خوشحال معاشرہ بھی یہ بوجھ برداشت نہ کر پاتا اور شکست و ریخت کا شکار ہو جاتا، لیکن یہ پاکستانی معاشرہ ہی تھا جو یہ سب بوجھ سہار گیا، تاہم کچھ منفی اثرات ضرور مرتب ہوئے جو ناگزیر تھے۔
ضرورت اس بات کی تھی کہ سوویت افواج کے جانے کے بعد افغان عوام کے دُکھ درد کم ہو جاتے، لیکن کوئی مستحکم حکومت قائم نہ ہونے کی وجہ سے وہاں کی سیاسی اور مجاہد قوتیں جو سوویت یونین کو نکالنے کے لئے متحد تھیں خود باہم دست وگریباں ہو گئیں۔ طویل خانہ جنگی کی اس کیفیت نے طالبان کو آگے بڑھنے کا موقعہ دیا اور وہ بتدریج افغانستان کے اقتدار پر قابض ہو گئے اور انہوں نے وہاں اپنی حکومت قائم کر لی۔ طالبان کی حکومت کو اگرچہ بوجوہ عالمی برادری نے قبول نہ کیا، لیکن خود افغانستان کے اندر اُن کا اقتدار مستحکم تھا۔انہوں نے خانہ جنگی ختم کی، قبائلی لڑائی جھگڑے کم کرائے، پوست کی کاشت کا سو فیصد خاتمہ کیا۔ یہ ایسا اقدام تھا جس کا تصور افغانستان جیسے معاشرے میں محال تھا، لیکن نائن الیون کے بعد جب امریکہ نے طالبان کی حکومت ختم کی تو صورت حال نے ایک بار پھر پلٹا کھایا، افغانستان کے اقتدار پر حامد کرزئی متمکن ہو گئے اور امریکہ کی مہربانی کے ساتھ حکومت کرتے رہے۔
اب انتخابات کے ذریعے افغانستان میں جو نئی حکومت قائم ہوئی ہے اس سے بہت سی امیدیں وابستہ ہیں۔ ڈاکٹر اشرف غنی کے دورۂ پاکستان میں جن امور پر اتفاق ہوا ہے اگر ان پر عمل ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف دونوں ممالک بلکہ خطے کے لئے بھی نیک فال ہو گا، امن و امان بہتر ہو گا تو معیشت کا پہیہ بھی چلے گا، افغانستان معدنیات سے مالا مال ہے۔ یہ دولت زمین کے اندر دفن ہے اسے باہر لانے کے لئے جس پُرامن ماحول کی ضرورت ہے اگر ڈاکٹر اشرف غنی اس میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ملک کی خوشحالی کی راہ ہموار ہو جائے گی اور تیز رفتار ترقی کا دور شروع ہو گا، جنگ سے تباہ حال افغانستان کو اب امن کی ضرورت ہے اور امن کے بغیر ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو گا۔
دہشت گردی نے پاکستانی معیشت کو بھی تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے پاکستان میں امن قائم ہوتا ہے تو چند سال کے اندر ہی اس کی معیشت ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو جائے گی اس کے لئے دونوں ملکوں کو مشترکہ اقدامات کر کے آگے بڑھنا ہو گا۔ اسلام آباد میں جن امور پر اتفاق رائے ہوا ہے ان پر عمل درآمد سے چند سال میں خطے کا نقشہ بدل سکتا ہے اور جو ممالک اس علاقے کو جہنم زار بنائے رکھنے پر مصر ہیں ان کے عزائم ناکام ہوں گے۔ان سے ہوشیار رہنے کی بھی ضرورت ہے، کیونکہ ان کا اپنا ایجنڈا ہے اور انہوں نے ہمیشہ افغانستان میں سازشوں کا جال پھیلائے رکھا ہے، اب بھی وہ اس سے باز نہیںآئیں گے۔ افغان پاکستان دوستی انہیں ایک آنکھ نہیں بھاتی۔

مزید :

اداریہ -