تھر میں موت کے سائے گہرے،بھوک 5بچے اور نگل گئی ،تعداد 66ہو گئی

تھر میں موت کے سائے گہرے،بھوک 5بچے اور نگل گئی ،تعداد 66ہو گئی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

                                           مٹھی(آئی این پی )تھر کے پیاسے صحرا نے مزید 5 بچوں کی جانیں نگل لیں جس کے بعد گزشتہ 47 دنوں کے دوران غذائی قلت کا شکار ہو کرہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد 66 ہوگئی ۔ تھر میں قحط اور حکومتی غفلت کے سبب غذائی قلت کا شکار بچے موسم کی تبدیلیوں کے اثرات کا مقابلہ نہیں کرپارہے، بڑہتی ہوئی سردی نے پیاسے صحرا میں اموات میں بھی اضافہ کردیا ہے اور اتوار کو بھی 5 ماو¿ں کی گود اجڑ گئی ۔ سول ہسپتال مٹھی میں 6 ماہ کے تیرٹھ کمار نے دم توڑدیا، ہسپتال سے حیدرآباد ریفر کیا جانے والا 4 سالہ اکرم ولد مشتاق راستے میں ہی زندگی کی بازی ہار گیا، چھاچھرو کے گاو¿ں دوری میں عبدالرزاق نامی شخص کا نومولود بچہ، ڈیپلو میں 7 سالہ ندیم نوڑھیو اور کھیڑو میں ایک ماہ کا محبوب غذائی قلت کے باعث زندگی کی بازی گیا۔ اس طرح ضلع تھرپارکر میں صرف 47 روز کے دوران 66 بچے موت کے منہ میں چلے گئے ۔ سول ہسپتال مٹھی میں مختلف امراض میں مبتلا 40 بچے زیر علاج ہیں جبکہ صحرائے تھر کے دور دراز علاقوں سے مریضوں کو ہسپتال لانےکاسلسلہ تھمنے کانام نہیں لے رہا۔دوسری جانب صوبائی حکومت کی جانب سے اب تک کئے جانے والے کام صرف دعوو¿ں تک ہی محدود ہیں، نجی فلاحی تنظیموں کی جانب سے لگائے گئے میڈیکل کیمپ اور اشیا کی تقسیم کا کام مٹھی اور دیگر چند ایک قصبات میں ہی کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے دور دراز کے علاقوں میں مقیم افراد قحط کے باعث بدحالی کا شکار ہیں۔


مزید :

صفحہ اول -