وطن یاد آتا ہے، بچی نہیں اب بڑی ہوگئی ہوں : ملالہ یوسفزئی

وطن یاد آتا ہے، بچی نہیں اب بڑی ہوگئی ہوں : ملالہ یوسفزئی
وطن یاد آتا ہے، بچی نہیں اب بڑی ہوگئی ہوں : ملالہ یوسفزئی

  

برمنگھم (آن لائن) نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے کہا ہے کہ اپنا دیس بہت یاد آتا ہے ، سوات میں سرگرمیاں دیکھ کر خوشی ہوتی ہے ۔ لیکن دھماکوں ، حملوں کی خبریں سن کر خوشی ماند پڑجاتی ہے، ہر کوئی اپنا کردار نبھائے تو منزل مل سکتی ہے ، میں اب بچی نہیں ایک بالغ لڑکی ہوں ، سوات کے بچوں کی تعلیم کا مشن اب دنیا کے بچوں کی تعلیم کا مشن بن چکا ہے، دہشتگرد کو بندوق سے مارا جا سکتا ہے دہشتگردی کو نہیں ، دہشتگردی کا خاتمہ علم سے ہی ممکن ہے۔ نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں ملالہ یوسفزئی نے کہا کہ کراچی میں آپریشن اور سوات میں فیسٹیول اور سرگرمیاں دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ امن ہے لیکن پھر بم دھماکوں اور حملوں کی خبروں سے یہ خوشی ماند پڑ جاتی ہے اور بری خبریں اتنی ہیں کہ خوشی کی خبریں بہت کم ملتی ہیں۔ اپنا وطن اور دوست یاد آتے ہیں، ہم سب نے ملکر امن کیلئے جدوجہد کرنی ہے اور ہر ایک نے اپنا کردار نبھانا ہے، تب ہی جاکر منزل مل سکتی ہے۔ ایک سوال پر کہا کہ عمران خان کا جذبہ، نواز شریف کی معاشی پالیسی، آصف زرداری کی ذہانت اور مولانا فضل الرحمن کی تقریریں پسند ہیں، میں سب سے کہتی ہوں کہ وہ تنقیدکی بجائے عوامی مسائل کے حل کیلئے ایک ہو جائیں۔ وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ بچوں کی طرح ہنسی کھیلتی ہیں تاہم اب میں بچی نہیں رہی بلکہ ایک بالغ لڑکی ہوں اور عمر 18 سال سے زائد ہو چکی ہے۔ پاکستان میں تعلیم پر بہت کم توجہ دی جاتی ہے ، ہماری کوشش ہے کہ کم از کم پرائمری تعلیم ہر بچے کو ملے میں سیاسیات اور تاریخ پڑھ رہی ہوں ۔ مجھ پر حملے کے بعد بائیں طرف کی کھوپڑی، جبڑہ اور چہرہ متاثر ہوا جس کی سرجری کی گئی ۔ میرا مشن پہلے سوات کے بچوں کی تعلیم کیلئے تھا اور اب پوری دنیا کے بچوں کی تعلیم میرا مشن ہے، عالمی رہنماﺅں سے ملکر بہت کچھ سیکھا۔ دہشتگردی ایک سوچ ہے جس کو صر ف تعلیم سے ہی ختم کیا جاسکتا ہے ، تعلیم کے علاوہ دہشتگردی کو ختم کرنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔

مزید : بین الاقوامی