بھارت میں ہوئی ایک ایسی شادی کہ انتہا پسند ہندوﺅں کو آگ لگ گئی، عدالت نے بھی فیصلہ سنادیا

بھارت میں ہوئی ایک ایسی شادی کہ انتہا پسند ہندوﺅں کو آگ لگ گئی، عدالت نے بھی ...
بھارت میں ہوئی ایک ایسی شادی کہ انتہا پسند ہندوﺅں کو آگ لگ گئی، عدالت نے بھی فیصلہ سنادیا

  

نئی دلی (نیوز ڈیسک)بھارت میں ایک مسلمان لڑکے اور ہندو لڑکی کی شادی پر انتہا پسند اس قدر مشتعل ہو گئے کہ ایک بھونچال کی کیفیت پیدا ہو گئی اور بیچارے لڑکے کو جیل اور لڑکی کو سرکاری تحویل میں جانا پڑ گیا۔ اب بالآخر اس کہانی میں ایک نیا اور خوشگوار موڑ آگیا ہے اور الہ آباد ہائی کورٹ کی مداخلت کے بعد بالآخر ہندو لڑکی اور مسلمان لڑکا ایک دفعہ پھر اکٹھے ہوگئے ہیں۔ اخبار دی ہندو کے مطابق مسلمان لڑکے کریم اور میرٹھ سے تعلق رکھنے والی ہندو لڑکی کی محبت کی کہانی کو شدت پسند ہندوﺅںنے ہندو مت کے خلاف مسلمانوں کی سازش قرار دے کر لڑکے کو جیل پہنچادیا تھا جبکہ لڑکی حکومت کی حفاظتی تحویل میں دے دی گئی تھی۔

متاثرہ لڑکی کی طرف سے ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی کہ وہ عاقل و بالغ ہے اور اپنے شوہر کریم کے ساتھ رہنا چاہتی ہے جس کے بعد عدالت نے حکم جاری کیا کہ متعلقہ حکام دونوں کی حفاظت اور اکٹھے رہنے کے حق کو یقینی بنائیں۔ میرٹھ ڈسٹرکٹ پروبیشن آفیسر پشپندرا سنگھ کا کہنا تھا کہ لڑکی نے اپنی جان کو درپیش خطرے کے باعث اپنے والد کا گھر چھوڑدیا تھا اور کریم کے گھر چلی گئی تھی، تاہم بعد ازاں اسے حکومتی تحویل میں لے لیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت کے حکم کے بعد اب لڑکی کو دوبارہ مسلمان لڑکے کے ساتھ رہنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

مزیدجانئے: ایسی انوکھی ترین شادی نہ کبھی کسی نے دیکھی نہ سنی، تفصیلات جان کر آپ بھی مسکرائے بغیر نہ رہ سکیں گے

لڑکی کا تعلق کھار کھوڈا گاﺅں کی ہندو اکثریتی برادری سے ہے اور جب مقامی میڈیا نے اس کی مسلمان لڑکے کے ساتھ شادی کی خبر شائع کی تو ریاست اترپردیش میں بھونچال آگیا۔ ہندو شدت پسند تنظیموں نے اس معاملے کو مسلمانوں کی سازش قرار دیتے ہوئے لڑکے کے خلاف اغوا اور زیادتی کے مقدمات درج کروادئیے۔ تاہم صورتحال اس وقت یکسر بدل گئی جب لڑکی نے عدالت کا رخ کیا اور بتایا کہ اس نے اپنی مرضی سے مسلمان لڑکے کے ساتھ شادی کی ہے جبکہ اپنے والدین اور ہندو تنظیموں کے جھوٹے پراپیگنڈے کا بھی پول کھول دیا۔

کریم نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ”میں نہیں جانتا میرا قصور کیا ہے۔ ہم عاقل و بالغ ہیں اور اس بات کا اختیار رکھتے ہیں کہ اپنی زندگی کے متعلق فیصلہ کریں۔ بس ہمیں محبت ہوگئی تھی۔ “ عدالتی فیصلے کے بعد انتہا پسند ہندوﺅں نے ایک دفعہ پھر آسمان سر پر اٹھالیا ہے اور قانون و اخلاقیات کو پامال کرتے ہوئے نوجوان جوڑے کی شادی کے خلاف اپنی مذموم کاروائیاں مزید تیز کر دی ہیں۔

مزید : بین الاقوامی