ویلیو ایڈڈ سیکٹر کو سپورٹ فراہم نہ کی گئی تو برآمدات میں اضافہ نہیں ہوسکے گا: جاوید بلوانی

ویلیو ایڈڈ سیکٹر کو سپورٹ فراہم نہ کی گئی تو برآمدات میں اضافہ نہیں ہوسکے گا: ...

کراچی (اکنامک رپورٹر) ملکی برآمدات میں تشویش ناک حد تک کمی ہورہی ہے،،اگر ویلیو ایڈڈ سیکٹر کو سپورٹ فراہم نہیں کی گئی تو ملکی برآمدات میں کسی صورت اضافہ نہیں کیا جاسکے گا۔پاکستان اپرل فورم کے چیئرمین جاوید بلوانی کا کہنا ہے کہ پاکستان ادارہ شماریات نے برآمدات کے جو اعداد وشمار جاری کیے ہیں وہ لمحہ فکریہ ہیں ۔انھوں نے کہا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں موجودہ سال کے جولائی سے اکتوبر میں ملکی برآمدات میں تیراہ عشاریہ چار دو فیصد کی کمی ہوئی جب کہ پاکستان کے مد مقابل ممالک جن میں بنگلہ دیش کی برآمدات میں پانچ فیصد اور ویت نام کی برآمدات میں اسی عرصے میں نو فیصد سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔جاوید بلوانی کا کہنا ہے کہ اعداد وشمار سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت چند لوگوں کے انفرادی مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے غلط فیصلے کررہی ہے ۔ پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کے باوجود ملکی برآمدات اس تیزی سے گرنے کی وجہ مہنگی بجلی، گیس ، پانی اور خام مال ہیں۔

اور ان سمیت سیلز ٹیکس ریفنڈ اور کسٹم ریبیٹ کی مد میں برآمدکنندگان کے کروڑوں روپے کی ادائیگیاں نہ ہونا شامل ہیں۔ جاوید بلوانی کا مزید کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی گزشتہ حکومت میں برآمدات پر دو فیصد سیلز ٹیکس کی مسلم لیگ ن نے شدید مخالفت کی تھی اور اس وقت کی حکومت سے اسے ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا تھا تاہم اب نواز شریف کی حکومت کو تین سال کا عرصہ ہورہا ہے لیکن حکومت نے اس ٹیکس کو ختم کرنے کے بجائے موجودہ بجٹ میں مزید پچاس فیصداضافہ کردیا، جس کے بعد اب وہی پیپلز پارٹی جس نے یہ ٹیکس لگایا تھا ،واپس لینے کا مطالبہ کررہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ٹیکسز کے معاملے پر اسطرح کی سیاست ہی کاروباری سرگرمیوں کو شدید نقصان پہنچارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت پہلے ہی ریفنڈ نہیں دے پارہی تھی اس کے باوجود سیلز ٹیکس کی شرح میں 50فیصد اضافہ کردیا اور یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ اس اضافے کے ساتھ حکومت ریفنڈ وقت پر کیسے ادا کرسکے گی۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ پیش ہونے سے پہلے وزیر خزانہ اور چیئرمین ایف بی آر سے ملاقات کے دوران یہ بات واضع کردی تھی کہ اگر سلز ٹیکس کی شرح میں اضافہ کیا گیا اور موجودہ سیلز ٹیکس واپس نہ لیا گیا تو برآمدات میں 20فیصد تک کمی ہوجائے گی اور موجودہ سال کے صرف چار ماہ میں ملکی برآمدات میں تیراہ عشاریہ چار دو فیصد کی کمی آچکی ہے اور اگر حکومت حقیقی طور پر برآمدات میں اضافہ چاہتی ہے تو پیداواری لاگت بل خصوص بجلی اور گیس کے نر خ میں کمی کر کے ہمسایہ اور حریف ممالک کے نرخ کے مطابق لانا ہوگا۔ نہایت افسوس کی بات ہے کہ حکومت نے گھریلوں صارفین کو بجلی اور گیس فراہم کرنے کے لئے انڈسٹریز کی قیمتوں میں بلا جوازاضافہ کردیا ہے تاکہ انڈسٹریز کم سے کم گیس اور بجلی استعمال کرے، حکومت کے اس اقدام سے برآمدات کو نقصان پہنچ رہا ہے۔جاوید بلوانی نے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف اور وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کی ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹرسے ملاقات کرے اورموجودہ مشکل حالات سے نکالنے کے لیے بجلی اور گیس کے نرخ ریجنل حریف ممالک کے مقابلے میںیکساں نافذ کر کے اس کے لئے ٹیرف اسٹرکچر میں علیحدہ کھاتہ کھولا جائے۔ٹیکسٹائل سیکٹر کو خصوصی درجہ دیا جائے اور ترجیحی طور پرپورا سال بلا تعطل گیس، بجلی، پانی فراہم کیا جائے۔"نوپیمنٹ، نو ریفنڈ" سسٹم نافذ کر کے ایف بی آر اور برآمد کنندگان کے قیمتی وقت کو ضائع ہونے سے بچایا جائے۔ روکے گئے سیلز ٹیکس، کسٹمز ری بیٹ اور ڈی ایل ٹی ایل کے تمام کلیمز کی فی الفور ادائیگیاں کی جائیں۔انہوں نے کہا کہ مندرجہ بالا دئیے گئے اقدامات ہی ویلیو ایڈیڈ ٹیکسٹائل سیکٹر ، جو نہایت اہمیت کاحامل ہیں جن کی برآمدات سے نہ صرف تقریباً پچاس فیصد قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے بلکہ ملک کے شہری علاقوں کی 40فیصد آبادی جن میں غریب خواتین بھی شامل ہیں کو روزگار کے مواقع فراہم کرتا ہے ، کوموجودہ مشکلات سے نکال سکتیں ہیں اور نہ کہ ہماری گرتی ہوئی قیمتی برآمدات کو بچا سکتی ہیں بلکہ اس میں خاطرخواہ اضافہ بھی کرسکتے ہیں۔

مزید : کامرس