انتخابات یا خونی معرکے ؟

انتخابات یا خونی معرکے ؟
 انتخابات یا خونی معرکے ؟

  

صوبہ سندھ میں دوسرے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات کے لیے ووٹنگ جمعرات 19 نومبر کو ہونا ہے۔ امیدواروں کی انتخابی سرگرمیاں زوروں پر ہیں لیکن بعض ایسے شہر اور علاقے ہیں جہاں صرف شہری ہی نہیں بلکہ انتظامی حکام اور پولیس پریشان ہیں۔ بدین میں خدشہ موجود ہے کہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ’’ کچھ بھی ہوسکتا ہے ‘‘ سے لوگ خون ریزی مراد لیتے ہیں۔ دوسرا ضلع سانگھڑ تھا جہاں صوبائی حکومت کی درخواست پر پولنگ ملتوی کر دی گئی ہے۔ بظاہر دو ایسے اضلاع ہیں جہاں شہری پریشان اور خوف زدہ ہیں۔ اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ انہیں امن و امان کے حوالے سے خوف کھائے جارہا ہے۔ عجیب انتخابات ہیں کہ عام لوگ سہمے ہوئے ہیں، ڈرے ڈرے سے ہیں۔ وسوسے اور خدشات انہیں کھائے جاتے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو جائے کہیں ویسا نہ ہو جائے۔ کسی سے بھی گفتگو کریں وہ لوگوں کے خوف زدہ ہونے کا ذکر کرتے ہیں۔ صرف عام لوگ ہی نہیں ۔ سیکریٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب نے جب حیدرآباد میں حکام سے ساتھ اجلاس کیا تھا جس کے بعد انہوں نے بھی پریس کو بتایا تھا کہ جن پندرہ اضلاع میں انتخابات ہو رہے ہیں، وہاں سات ہزار میں سے ڈھائی ہزار پو لنگ اسٹیشن زیادہ حساس اور دوسرے ڈھا ئی ہزار حساس قرار دئے ہیں جب کہ کل سات ہزار پولنگ اسٹیشن ہیں۔ جن کی تعداد اب اس لئے کم ہو گئی ہے کہ سانگھڑ میں انتخابات ملتوی کر دیئے گئے ہیں۔

اب حکومت اپنی پوری توجہ بدین ، نو شہرو فیروزاور میہڑ ضلع دادو پر لگا سکے گی۔ میہڑ میں بھی پولیس حکام کا کہنا ہے کہ صورت حال کشیدہ ہے۔ وہاں لیاقت جتوئی اور پیپلز پارٹی مد مقابل ہیں۔ نو شہرو فیروز میں بھی جتوئی اور پیپلز پارٹی کے امیدوار پنجہ آزمائی کر رہے ہیں۔ یوں تو دوسرے مرحلے کے ان انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے لئے صورت حال اتنی آسان نہیں نظر آرہی جتنی پہلے مر حلے کے انتخابات میں تھی ۔ بعض اضلاع میں تو مارو یا مر جاؤ والی کیفیت ہے۔ بدین میں ذوالفقار مرزا اور پیپلز پارٹی، ٹھٹہ میں شیرازی برادران اور پیپلز پارٹی، تھرپارکر میں ارباب غلام رحیم اور پیپلز پارٹی، عمرکوٹ میں تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے کے خلاف بر سر پیکا ر ہیں۔ بلدیاتی انتخابات نہ ہوئے بلکہ سیاسی وجود بچانے کی کوشش ہو گئی ۔ آخر ایسا کیا ہے کہ جس کی وجہ سے سخت مقابلوں کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔ مخالفین پیپلز پارٹی کا راستہ مسدود کرنا چاہتے ہیں تاکہ اپنے لئے راستہ بنا سکیں۔ کئی اضلاع میں تو مخالفین نے ایک دوسرے سے ہاتھ بھی ملا لیا ہے ۔ دیہی علاقوں میں پیپلز پارٹی اور شہری علاقوں میں ایم کیو ایم کو جیسے حیدرآباد میں یہ صورت حال در پیش ہے۔ حیدر آباد جہاں سے ایم کیو ایم 96 میں سے 23 چیئر مین بلا مقابلہ کامیاب کرا گئی جس پر بلاول بھٹو زرداری اور فریال تالپور سیخ پا ہیں۔ پیپلز پارٹی کے مقامی رہنماؤں سے پوچھ گچھ ہوئی ہے حالانکہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کو بعض مقامات پر اندرونی اختلا فات کا بھی سامنا ہے ۔ ناراض لوگ اپنی ناراضگی کا کسی نہ کسی طریقہ سے اظہار کرنا چاہتے ہیں۔ بلدیاتی انتخابات اصولاً گلی اور محلے کے انتخابات کہلاتے ہیں جہاں سے منتخب ہونے والے اپنے محلوں اور گاؤں کی دیکھ بھال کے ذمہ دار ہوتے ہیں لیکن یہاں تو یہ انتخابات بھی طاقت آزمائی کا سبب بن گئے ہیں۔

ضرور پڑھیں: اسد عمر کی چھٹی

ضلع بدین میں صورت حال معرکہ جیسی ہے جو سابق صوبائی وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا اور پیپلز پارٹی کے درمیان بتایا جاتا ہے۔ دونوں اپنی طاقت آزمانا چاہتے ہیں۔ ضلع سانگھڑ یوں تو پیر پگارو کے مریدوں کا ضلع کہلاتا ہے لیکن پیپلز پارٹی بھی اپنا وجود رکھتی ہے۔ 31 اکتوبر کو ضلع خیر پور کے ایک پولنگ اسٹیشن پر پیش آنے والے واقعہ کی وجہ سے اثرات سانگھڑ میں بھی مرتب ہوئے ہیں۔ اس واقعہ میں بارہ افراد ہلاک ہو گئے تھے ۔ اکثریت کا تعلق پیر پگارو کے مریدوں کی حر جماعت سانگھڑ سے تھا۔ ان تمام لوگوں کی تدفین بھی سانگھڑ کے مختلف علاقوں میں ہوئی تھی۔ ہلاک ہونے والوں میں پیر پگارو کے بارہ خلیفاؤں میں سے ایک خلیفہ وریام فقیر کے بھتیجے نو رحسین بھی تھے جو خود بھی سانگھڑ میں ہونے والے انتخابات میں امیدوار تھے۔ وریام فقیر پیر پگارو کے حر مریدوں کے اس حلقے سے تعلق رکھتے ہیں جنہیں فرقی کہا جاتا ہے اور وہ لوگ ان کے بہت کٹر روحانی پیروکار قرار دئے جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے عام لوگ خوف زدہ تھے کہ ووٹنگ والے روز کسی قسم کا شدید رد عمل نہ ہو جائے۔

پیر پگارو نے اپنے خلفا کا ایک اجلاس طلب کیا تھا جس میں انہوں نے کھلے اجلاس میں کہا تھا کہ شریعت کے مطابق جان کا بدلہ جان ہے اور آنکھ کا بدلہ آنکھ ہے۔ بند کمرے میں بھی دوسرا اجلاس ہوا تھا۔ پیر پگارو کے بعد ان کے بھائی صدر الدین راشدی نے جو صوبائی مسلم لیگ فنکشنل کے صدر بھی ہیں، وفاقی وزیر ہیں، مرحومین کی تعزیت کے دوران کہا تھا کہ ہمیں حکومت کی تحقیقاتی رپورٹ کا انتظار ہے۔ 31 اکتوبر کو پیش آنے والے واقعہ کی سرکاری تحقیقاتی رپورٹ اب تک جاری نہیں کی گئی ہے کہ یہ واقعہ کیوں پیش آیا۔ الیکشن کمیشن بھی حکومت کی رپورٹ کا منتظر ہے۔ پاکستان میں کسی سیاسی رہنماء کی بات کو وہ اہمیت حاصل نہیں جو پیر پگارو کی بات کی اہمیت ان کے مریدین میں سمجھی جاتی ہے اور وہ بات حرف آخر تصور کی جاتی ہے۔ ان کے مرید ین کے اپنے مرشد کے ساتھ لگاؤ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر کسی مرید کے خلاف ’’ ہاتھ بند ‘‘ یعنی سماجی بائیکاٹ کا فیصلہ ہوجائے تو اس کے اپنے گھر میں، اگر اس کی بیوی بھی مرید ہے اور اسے اطلاع مل جائے کہ اس کے شوہر کا سماجی بائی کاٹ ہے تو خود بیوی شوہر پر زندگی تنگ کر دیتی ہے۔ فرقی گروہ میں تو صورت حال زیادہ ہی گھمبیر ہوتی ہے۔

اس تماش گاہ میں قومی سیاست ہو یا ملکی معاملات، تمام سیاسی رہنماء خواتین کی بھر پور شرکت پر زور دیتے ہیں لیکن سندھ کے پندرہ اضلاع میں ہونے والے دوسرے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات میں پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ ، مسلم لیگ ن اور دیگر اکثر سیاسی جماعتوں نے خواتین کو امیدوار بنانے کے سلسلے میں نظر انداز جیسا کیا ہے۔ قومی عوامی تحریک اور عوامی ورکرز پارٹی نے کچھ نامزدگیاں کی ہیں جو آٹے میں نمک سے بھی کم ہیں۔ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم جیسی جماعتوں نے بھی عام انتخابات میں خواتین امیدوار کھڑی کرنے سے اجتناب برتا ہے۔ بعض حلقوں میں خواتین امیدوار ضرور ہیں لیکن انہیں انگلیوں پر ہی گنا جاسکتا ہے۔ اکا دکا کے سوا سب ہی آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔ خواتین کو زیادہ سے زیادہ امیدوار اس لئے بھی کھڑا کرنا چاہئے تھا کہ بلدیاتی معاملات اور مسائل کا وہ ہی زیادہ شکار رہتی ہیں۔

مزید : کالم