ایک قدم آگے، دو قدم پیچھے

ایک قدم آگے، دو قدم پیچھے
 ایک قدم آگے، دو قدم پیچھے

  

عمران خان کے سیاسی سفر کے بارے میں اکثر لکھتا رہتا ہوں کہ وہ ایک قدم آگے بڑھتے ہیں، لیکن دو قدم پیچھے پھسل جاتے ہیں، لیکن اب تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ لگاتار پیچھے ہی پھسل رہے ہیں اور ان کے آگے بڑھنے کا عمل یکسر رک چکا ہے۔ ویسے تو اس کی بہت سی وجوہات ہیں، لیکن ایک ایسا شخص جو سرے سے سیاست دان ہی نہ ہو اور نہ ہی سیاسی ذہن رکھتا ہو ، اس کے سیاسی سفرِ معکوس پر زیادہ حیران ہونے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ اس پر مستژاد یہ کہ ایک دو بار نہیں، بلکہ بار بار دوسروں کے ہاتھوں استعمال ہونے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہوں اور سیاست کی بجائے دشنام طرازی کا رویہ اپناتے ہوں تو وہ کیسے اپنی منزل تک پہنچ سکتے ہیں۔ تحریک انصاف کے سیاسی قافلے پر اگر نظر ڈالی جائے تو معراج محمد خان سے لے کر جاوید ہاشمی تک سیاسی کارکنوں کی ایک طویل فہرست ہے جنہوں نے موقع پاتے ہی قافلے سے نکل جانے کو زیادہ مناسب سمجھا،کیونکہ ہمیشہ شارٹ کٹ کی تلاش میں رہنے والے عمران خان کے ارد گرد وہی لوگ رہ سکتے ہیں جو سیاسی جدوجہد کی بجائے پچھلے دروازے کی طرف زیادہ دیکھتے ہیں، ان میں زیادہ تر لوگ وہی ہیں جو یا تو موقع پرست ہیں یا اپنی دولت کے بل بوتے پر شہر اقتدار پر قابض ہونے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب تقریباً ہر ایشو پر عمران خان گرگٹ کی طرح رنگ بدل رہے ہوتے ہیں یا بار بار یو ٹرن لیتے ہیں تو ان کے قریبی ساتھیوں میں کوئی سیاسی ہلچل نہیں مچتی۔

پاکستان کا سیاسی منظر نامہ آج جتنا صاف ہے، اتنا اس کی 68سالہ تاریخ میں کبھی نہیں تھا۔ سیاسی طور پر منتخب مضبوط وفاقی اور صوبائی حکومتیں موجود ہیں جنہیں کسی بھی سیاسی یا غیر سیاسی ادارے، میڈیا یا کسی اندرونی و بیرونی مخالفت کا کوئی سامنا نہیں ہے ۔ نہ صرف پارلیمان، بلکہ مقامی سطح کی حکومتیں بھی دو صوبوں میں موجود ہیں اور باقی دو صوبوں میں مرحلہ وار تکمیل کے مراحل میں ہیں۔ اس وقت ملک میں نہ کوئی ہرکولیس ہے اور نہ ہی کوئی نپولین بونا پارٹ۔ سب مقتدر ادارے اور شخصیات آئین کی بالادستی اور جمہوریت کے غیر مشروط تسلسل پر نہ صرف متفق ہیں، بلکہ اسے مزید مستحکم بنانے کے لئے اپنا اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ دہشت گردی کے بیل کو سینگوں سے پکڑا جا چکا ہے، ملکی خزانہ اپنی تاریخ کی سب سے زیادہ سطح پر لبا لب اور سٹاک مارکیٹ سرمایہ کاروں کے سب سے زیادہ اعتماد کے نئے ریکارڈ بنا رہی ہے۔ سب سے بڑھ کر ہمارے دوست ممالک سے ہمارے تعلقات خوشگواری کے ایک نئے دور میں داخل ہو چکے ہیں، جس میں خاص طور پر عوامی جمہوریہ چین نے پاکستان کو ایک نیا ایشین ٹائیگر بنانے کے لئے تمام وسائل مہیا کرنے شروع کر دئیے ہیں۔ اس صورت حال میں سازشیوں اور مالشیوں کا دم نہیں گھٹے گا تو اور کیا ہوگا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ایک بڑے کھلاڑی اور کپتان تھے اور ان کی کپتانی میں پاکستان نے 1992ء میں کرکٹ کا ورلڈ کپ جیتا تھا۔ ان کی پارٹی کے نوجوان جب یہ کہتے ہیں کہ ورلڈ کپ کے فاتح ہونے کے ناطے انہیں پاکستان کا وزیر اعظم ہونا چاہئے تو مَیں مسکرانے لگتا ہوں۔ اگر کرکٹ ورلڈ کپ کو معیار سمجھ لیا جائے تو ایلن بارڈر، سٹیو وا، رکی پونٹنگ اور مائیکل کلارک کو باری باری آسٹریلیاکا وزیر اعظم ہونا چاہئے تھا، اسی طرح کپل دیو اور مہندرا سنگھ دھونی کا بھارت، ارجونا راناٹنگا کا سری لنکا اور کلائیو لائیڈ کا ویسٹ انڈیز کا وزیر اعظم بننے کا استحقاق تھا، بلکہ رکی پونٹنگ کو آسٹریلیا اور کلائیو لائیڈ کو ویسٹ انڈیز کا وزیر اعظم دو دو بار بننا چاہئے تھا ،کیونکہ انہوں نے دو دو بار ورلڈ کپ جیتا تھا۔اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ عمران خان نے شوکت خانم ہسپتال اور نمل یونیورسٹی جیسے عوامی فلاح و بہبود کے منصوبے بھی چلائے ، لیکن اس طرح تو دنیا بھر میں سینکڑوں مثالیں موجود ہیں، کیا ان سب فلاحی منصوبے چلانے والوں کو ان کے اپنے اپنے ملک کا وزیر اعظم بنا دیا جائے؟ باقی دنیا کو چھوڑ کر اگر صرف پاکستان ہی کو سامنے رکھا جائے تو عبدالستار ایدھی کا فلاحی نیٹ ورک سینکڑوں گنا بڑا ، منظم اور مربوط ہے، اس لئے اس اعتبار سے بھی عمران خان ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔

مَیں عمران خان سے ان کے فلاحی کاموں کا کریڈٹ چھین نہیں رہا ،صرف یہ یاد کرا رہا ہوں کہ اگر انہوں نے اپنے فلاحی سفر پر زیادہ توجہ دی ہوتی تو آج ان کا ذکر سنہری الفاظ میں ہو رہا ہوتا۔ عمران خان ایک غیر سیاسی ذہن کے مالک تھے، میرے خیال میں سیاست کا مشورہ دینے والوں نے ان کے ساتھ بہت زیادتی کی ، کیونکہ فلاح اور سیاست کے مکسچر سے ان پر سوالیہ نشان زیادہ اٹھ رہے ہیں۔ پچھلے دنوں انہوں نے شوکت خانم ہسپتال پشاور کی پریس کانفرنس کی اور بتایا کہ اس کی تعمیر پر عوام کے چندوں سے تین ارب روپے سے زائد خرچ ہو چکے ہیں اور اب مشینری کی خریداری کے لئے 80کروڑ روپے درکار ہیں۔ اگر بات یہیں تک رہے تو یقیناًقابلِ تحسین ہے، لیکن جب لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ خیبرپختونخوا کے سرکاری ہسپتالوں میں دوائیاں ، بیڈ اور ڈاکٹر نا پید ہیں اور وہاں کی حالت زار انتہائی خراب ہے تو چاہتے ہوئے بھی عوام عمران خان کو شوکت خانم ہسپتال کی تعمیر پر خراجِ تحسین پیش نہیں کر پاتے ۔ شوکت خانم کی اچھی باتیں ایک طرف، لیکن صوبے کی حکمران جماعت کے سربراہ کی حیثیت سے ان کی پہلی اور بنیادی ذمہ داری صوبے میں صحت کے شعبے میں عوام کو سہولتیں پہنچانا بنتی ہے، اپنے ذاتی ہسپتال کی تشہیر نہیں۔ یوں لگتا ہے کہ عمران خان کے ارد گرد دوستوں نے نہیں، بلکہ دوست نما دشمنوں نے قبضہ جما رکھا ہے۔

عمران خان نومبر 2015 ء میں جب پریس کانفرنس کے دوران کسی صحافی کو اس کی ’’اوقات‘‘ بتاتے ہیں ،کیونکہ اس کے سوالات کا جواب عمران خان کے پاس نہیں ہوتا تو اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے، ان کے ذہن کا سیاسی ارتقا سیاست میں آنے سے پہلے ہی رک چکا تھا، کیونکہ سیاست میں آنے سے پہلے بھی وہ صحافیوں کو ان کی ’’اوقات‘‘ یاد دلاتے تھے۔ نومبر 1994ء میں شوکت خانم ہسپتال میں ایک پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے صحافیوں کو ان کی ’’اوقات‘‘ اس وقت یاد دلائی تھی جب وہ ان کے بعض سوالوں کا جواب نہیں دے سکے تھے۔ اگر پاکستان کے چاروں صوبوں کی تقریباً تمام کی تمام سیاسی جماعتوں سے ان کی باقاعدہ جنگ ہو رہی ہے تو اس میں کسی اور کا نہیں ان کے اپنے غیر سیاسی ذہن کا قصور ہے، کیونکہ سیاست نہ صرف ممکنات کا کھیل ہوتا ہے، بلکہ اس میں سب کو ساتھ لے کر چلنا ہوتا ہے۔ اگر سیاسی مخالفت ہو بھی تو بات پوائنٹ آف نو ریٹرن تک نہیں جاتی۔ سندھ میں ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی، پنجاب میں مسلم لیگ (ن)اور خیبر پختونخوا میں اے این پی اور جے یو آئی ایف سمیت قومی دھارے کی تمام اہم پارٹیاں ان کی شدید دشمن ہیں اور اس دشمنی کا نقصان عمران خان کی سیاست کو ہوتا ہے، کیونکہ ان کے سیاسی دوستوں کی تعداد کم اور دشمنوں کی بڑھ رہی ہے۔عمران خان کا المیہ یہ ہے کہ وہ coalition building کی بجائے political isolation میں چلے جاتے ہیں اور اس غصے کا اظہار اپنے غیر سیاسی اندازِ تخاطب سے کرتے ہیں، جس سے ان کی مقبولیت میں مزید کمی واقع ہوتی ہے۔

گذشتہ سال کے ناکام اور احمقانہ دھرنے کے بعد جس طرح سے عمران خان تیزی سے سیاسی کھائی میں جا گرے ہیں،اس سے باہر نکلنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ وہ منفی کی بجائے مثبت سیاست کریں اور گالم گلوچ کی بجائے شائستگی اور متانت کا راستہ اختیار کریں۔ اس نام نہاد دھرنے کے بعد ہونے والے تمام انتخابات میں انہیں بُری طرح شکست ہوئی ہے، جس سے ان کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں کہ کس طرح عوام نے انہیں مسترد کردیا ہے۔ عمران خان کے سمجھنے کی بنیادی بات یہ ہے کہ اس وقت ملک میں عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والی جمہوری حکومت قائم ہے اور وزیر اعظم میاں نواز شریف کو عوام نے یہ مینڈیٹ 2018ء تک کے لئے دیا ہوا ہے ، اس لئے جمہوری سسٹم کو مضبوط بنانے میں ہی عمران خان سمیت پورے ملک کی بقا ہے۔

مزید : کالم