جنرل راحیل شریف کا دورۂ امریکہ

جنرل راحیل شریف کا دورۂ امریکہ
 جنرل راحیل شریف کا دورۂ امریکہ

  

جنرل راحیل شریف، امریکہ کے پانچ روزہ دورے پر ہیں۔۔۔ پانچ روز کا مطلب پورا ہفتہ ہے کہ امریکہ میں ہفتے میں ورکنگ ایام توہوتے ہی پانچ ہیں اور باقی دو دن لانگ ویک اینڈ ہوتا ہے۔ جنرل صاحب کا دورہ ازراہ اتفاق، ان ایام میں ہو رہا ہے جن میں سارا یورپ اور امریکہ 58/ کینیڈا سوگواری کے موڈ میں ہے۔ پیرس دھماکوں نے ایک بار پھر نو گیارہ کی یاد تازہ کر دی ہے۔ فرانس کے صدر موسیو ہالینڈ نے بھی ان دھماکوں کے بعد وہی بیان دیا ہے جو جارج بش نے نیویارک کے جڑواں ٹاور پر حملوں کے بعد دیا تھا۔ ہالینڈ نے ’’بے رحمانہ ردِ عمل‘‘ (Merciless Response) کا مژدہ سنایا ہے اور فرمایا ہے کہ داعش نے جو ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے تو اس سے پوری سنگدلی کے ساتھ نمٹا جائے گا۔۔۔ وہ ضرور نمٹیں لیکن ان کو یہ بھی یاد ہونا چاہیے کہ نو گیارہ کے بعد کیا ہوا تھا۔ امریکہ نے اگرچہ عراق اور افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی لیکن القاعدہ کا بے محابا فروغ بھی انہی برسوں میں ہوا تھا۔ اب القاعدہ تو شائد زیر نقاب چلی گئی ہے یا زیرِ زمین دب گئی ہے لیکن اس سے زیادہ موثر اور خطرناک ایک اور تنظیم بھی پیداہو گئی ہے جس کو ’’دولت اسلامیہ عراق و شام‘‘ کہتے ہیں اور انگریزی میں (ISIS) یا صرف اسلامک سٹیٹ (IS) کہہ کر پکارا اور لکھا جاتا ہے۔ صدر ہالینڈ نے جس بے رحمانہ ردعمل کا ذکر کیا ہے، اگر اسے روبہ عمل لایا گیا تو کون جانے اگلا عشرہ، داعش کی جگہ کسی ایسی نئی تنظیم کا خالق بن جائے جس میں القاعدہ اور داعش کے علاوہ وہ لوگ بھی شامل ہو جائیں جو اب تک غیر جانبدار بنے ہوئے ہیں۔ اور وہ داعش والوں کے مقابلے میں زیادہ Motivatedہوں۔

راجر کوہن (Roger Cohen) ایک یہودی صحافی ہے جوکئی کتابوں کا مصنف ہے اور مشہور کالم نگار اور صحافی بھی ہے۔ اس کی پیدائش اور تعلیم تو لندن کی ہے لیکن بعد میں وہ امریکہ اور فرانس میں بھی آتا جاتا رہا اور پڑھتا پڑھاتا رہا۔آج کل امریکہ کے اخبار ’’دی نیویارک ٹائمز‘‘ سے منسلک ہے۔ اس نے ان دھماکوں پر آج جو کالم لکھا ہے اس کے بعض حصے بڑے چشم کشا ہیں۔۔۔ ذرا ایک نظر ان پر ڈال لیجئے۔ وہ لکھتا ہے۔۔۔

’’ پیرس میں 129 لوگوں کی ہلاکت کے بعد اس مسئلے کا کافی و شافی حل صرف ’’ملٹری‘‘ حل ہے۔۔۔ کولیشن ممالک کا واحد جواب یہ ہونا چاہیے کہ وہ شام اور عراق میں موجود داعش کو تہس نہس کر دیں۔۔۔ داعش کا خطرہ علاقائی نہیں، گلوبل ہے۔۔۔ شام و عراق میں داعش کو شکست دینے کے لئے ناٹو کو اب میدان عمل میں کودنا ہوگا۔۔۔ داعش کے خلاف اب محض فضائی کارروائی کافی نہیں ہوگی۔۔۔ روس اور چین نے بھی پیرس دھماکوں کی مذمت کی ہے ، لہٰذا ان کو سیکیورٹی کونسل کی اس قرارداد کی منظوری کی راہ میں حائل نہیں ہونا چاہیے جو ناٹو کو یہ اختیار دے دے کہ وہ عراق اورشام سے داعش کو ختم کرنے کے لئے اپنی افواج کے ’’بوٹ‘‘ ان ممالک میں اتارے۔۔۔ ساری دنیا میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور حقارت پھیل رہی ہے۔۔۔ پیرس میں جس مقام پر حملہ ہوا وہ یہودی تنظیموں کے اراکین کی ملن گاہ تھی۔ داعش کے پیرس میں حملے اسی ملن گاہ کے شرکائے مباحثہ کے خلاف کئے گئے اس لئے داعش جہاں کہیں بھی ہو، اس کو ختم کرنا ہوگا!‘‘

جنرل راحیل شریف کے ساتھ جو ٹیم امریکہ گئی ہے اس کے ہر فرد نے اس یہودی راجر کوہن کا یہ کالم پڑھا ہوگا اور اس کے علاوہ اور بھی کئی جائزے اور تبصرے جو ویسٹرن میڈیا میں ان دھماکوں کی وجوہات پر کئے جائیں گے ،ان کا خلاصہ بھی مرتب کرکے اپنے آرمی چیف کو دیا ہوگا تاکہ وہ امریکی انتظامیہ کے جن رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں ان کے خیالات کا کچھ عکس اس Embedded میڈیا میں دیکھاجا سکے۔ آرمی چیف جن امریکی عسکری اور سویلین سربراہوں سے ملاقات کریں گے ان میں وزیر دفاع آشٹن کارٹر، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈن فورڈ، ڈائریکٹر CIA جان برینن (Brennan) نائب صدر امریکہ جوبائڈن (Joe Biden) اور وزیر خارجہ جان کیری کے علاوہ دوسرے درجے (Secondary Tier) کے کئی سرکردہ افراد بھی شامل ہوں گے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ آرمی چیف اپنے ساتھ امریکی عہدیداروں سے ملاقات کا جو ایجنڈا لے کر جا رہے ہیں، اس میں اہم ترین مسئلہ پاکستان کی سیکیورٹی کا ہوگا۔ اس کے علاوہ اور اس سے منسلک جو دوسرے مطالب و مباحث زیر بحث آئیں گے ان کی مختصر سی فہرست مندرجہ ذیل ہو سکتی ہے:

1۔افغانستان کی صورت حال۔۔۔ اس ہمسایہ ملک میں طالبان کی جارحانہ کارروائیاں ، ان کے مقاصد اور پاکستان کی خارجہ اور داخلہ پالیسیوں پر پڑنے والے اثرات

2۔افغانستان میں بھارت کے عزائم۔۔۔ ان کے ناقابلِ تردید شواہد پہلے بھی زیر بحث آئے لیکن ان پر بات آگے نہیں بڑھ سکی۔

3۔پاکستان کے چھوٹے جوہری ہتھیاروں کا غلغلہ۔۔۔ جسے خواہ مخواہ ہوا دی جا رہی ہے اور ساتھ ہی پاکستان کے مختصر اور طویل فاصلوں تک مار کرنے والے ڈلیوری سسٹم (میزائل) کی پروڈکشن کا معاملہ ۔

4۔پاک چین اقتصادی کاریڈار کی تکمیل میں بھارت کی مداخلت اور اس مداخلت کے نتیجے میں چین اور پاکستان کا امکانی ردعمل۔

5۔ افغان۔ طالبان مذاکرات میں پاکستان کا کردار اور اہمیت

قارئین گرامی! یہ وہ معاملات و موضوعات ہیں جو ویسے تو سویلین قیادت کے دائرہ کار میں آتے ہیں لیکن اگر آپ کا کوئی مستقل وزیر خارجہ ہی نہ ہو تو آپ کیا کریں گے؟ اور اگر کسی وزیر دفاع کا کوئی دفاعی / عسکری پس منظر ہی نہ ہو تو پھر امریکہ جیسی سپرپاور سے دفاع اور سیکیورٹی کے معاملات پر کون بات کرے گا؟۔۔۔ ہمارا میڈیا بڑا شور مچا رہا ہے کہ وزیراعظم ابھی پچھلے دنوں تو امریکہ گئے تھے ،صدر اوباما سے ملاقات کی تھی اور ان سے چھوٹے جوہری ہتھیاروں کے سلسلے میں بھی گفتگو کی تھی تو پھر آرمی چیف کا یہ دورہ چہ معنی دارد؟

علاوہ ازیں ہمارے سیاسی رہنما سینیٹ اور قومی اسمبلی میں سول ملٹری کشیدگی کی جو داستانیں بیان کرتے رہے ہیں ان کا توڑ اگر ایک سابق بھارتی وزیر خارجہ (سلمان خورشید) کی طرف سے آئے اور وہ جنرل راحیل شریف کی کارکردگی پر یہ تبصرہ کریں کہ ’’ان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کارکردگی، کمال کی کارکردگی ہے ‘‘اور یہ بھی کہیں کہ ’’ان کے کوئی سیاسی عزائم نہیں‘‘ تو پھر : چیست یارانِ طریقت بعد ازیں تدبیرِ ما؟۔۔۔

اور دوسری طرف ہمارے ایک معزز رکن اسمبلی ،اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہو کر یہ واویلا مچائیں کہ اگر مجھے ’’دو شریفوں‘‘ میں سے ایک شریف کا انتخاب کرنا پڑا تو میں ’’سیاسی شریف‘‘ کا ساتھ دوں گا، ’’فوجی شریف‘‘ کا نہیں تو آپ اس اعلان کو کیا نام دیں گے؟۔۔۔ کون نہیں جانتا کہ محمود اچکزئی کون ہیں اور کیا ہیں؟۔۔۔ کیا لوگوں کو معلوم نہیں کہ وہ (1) خود مشیرِ وزیراعظم ہیں۔۔۔ (2) ان کے ایک بھائی حمید خان اچکزئی ایم پی اے ہیں۔۔۔(3) ایک اور بھائی مجید خان اچکزئی بھی ایم پی اے ہیں۔۔۔ (4) مسز محمود کی بھابھی سپوزمئی اچکزئی صاحبہ ایم پی اے ہیں۔۔۔ (5) ان کی سالی نسیم اچکزئی صاحبہ ایم این اے ہیں۔۔۔(6) ان کے سالے قاضی مقبول صاحب منیجر کوئٹہ ائرپورٹ ہیں ۔۔۔(7) اور دوسرے سالے حسن منظور صاحب ہیں جو DIG موٹروے ہیں۔۔۔ اگر محمود اچکزئی کے یہ سارے عزیز و اقربا موجودہ اسمبلیوں کے اراکین ہوں اور اعلیٰ سرکاری/حکومتی عہدوں پر فائز ہوں تو ان کو کیا پڑی ہے کہ وہ ’’ملٹری شریف‘‘ کا انتخاب کریں!۔۔۔ کاش ان کا کوئی رشتہ دار فوج میں کوئی ڈویژن یا کور کمانڈر بھی ہوتا یا ائر فورس میں ائر مارشل یا بحریہ میں ایڈمرل بھی ہوتا! تب شائد محمود اچکزئی ’’سویلین شریف‘‘ اور ’’ملٹری شریف‘‘ میں امتیازی لکیر نہ کھینچتے اور فرماتے کہ دونوں شریف میرے اپنے ہیں۔ دونوں پاکستانی ہیں ۔۔۔ غضب خدا کا کہ ہمارے دشمن کا ایک سابق وزیر خارجہ جنرل راحیل شریف کے بارے میں یہ کہے کہ ان کے کوئی عسکری عزائم نہیں اور مزید یہ بھی کہے کہ ان کی پروفیشنل کارکردگی کمال کی ہے اور دوسری طرف ہمارا اپنا رکن پارلیمان یہ فرمائے کہ دونوں شریفوں میں انتخاب کی نوبت بھی آ سکتی ہے تو اگرچہ اچکزئی کلین شیو ہیں لیکن مجھے لگتا ہے کوئی تنکا پھر بھی کہیں نہ کہیں اٹکا ہوا ہے۔

کچھ روز پہلے کور کمانڈرز کانفرنس میں حکومت کی گورننس پر انگلی اٹھائی گئی تھی۔ لیکن جونہی یہ انگلی اٹھی سارا میڈیااز سرتاپا اٹھ کھڑا ہوا اور بات کا بتنگڑ بنا دیا۔ وردی پوشوں کی ہر بات کو یہ کہہ کر متنازعہ بنا دینا کہ یہ فوج کا مسئلہ نہیں اور نہ ہی ان کا Subject ہے کہ وہ ان ’’سویلین معاملات‘‘ کے بارے میں زبان کھولیں اور اپنی ٹانگ اڑائیں تو اس سے خواہ مخواہ یہ تاثر تو پیدا ہوگا کہ سول ملٹری روابط کشیدہ ہیں۔ ہمارے میڈیا کو ان موضوعات کو اچھالنے سے پہلے ہوش کے ناخن لینے چاہئیں لیکن بعض میڈیا والوں کو تو پورا انگوٹھا لینے کا شوق ہے جس کا ناخن ساری انگلیوں سے زیادہ رقبے پر پھیلا ہوتاہے!

جب داعش آپ کے دروازوں پر دستخط دے رہی ہو، جب ضربِ عضب ہنوز ناتمام ہو، جب بھارت ہنوز افغانستان میں بیٹھا ہو، جب ملک کی معیشٹ ڈانواں ڈول ہو اور جب دنیا کے پانچ میں سے تین بڑے ملک آپ کے جوہری اثاثوں کے پیچھے پڑے ہوں اور مطالبہ کریں کہ یا تو ان کو ختم کرو یا مزید پروڈکشن اور تجربات روکو تو آپ کو وہ تمام اقدامات اٹھانے چاہئیں جو آپ کے مستقبل کی بقاء کے لئے ضروری ہوں۔۔۔

جنرل راحیل شریف اور ان کے ساتھ جو عسکری ٹیم امریکہ گئی ہے اس کا ایجنڈا، پاکستانی جمہوریت کو کمزور کرنا اور اپنے اقتدار کی راہ ہموار کرنا نہیں بلکہ جمہوری عمل کو مزید مستحکم کرنا ہے۔۔۔ اگر کوئی راہگیر سر پر بستر اٹھائے، بغل میں گھڑا دبائے اور ہاتھ میں کبوتر پکڑے ’’منہ دھیان‘‘ اپنی راہ پر چلا جا رہا ہو تو کسی خاتون کا اس کا راستہ روک کر یہ کہنا کہ : ’’توں تاں مینوں چھیڑیں گا!‘‘ اگرچہ ایک واہیات پنجابی لطیفہ ہی سہی لیکن بعض لطائف، صورت حال کی منظر کشی کے سفر میں بانگ درا ثابت ہوتے ہیں۔ خاتونِِ جمہوریت کو ادراک ہونا چاہیے کہ کوئی فوجی راہگیر اس کو ’’چھیڑنے‘‘ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔۔۔ وہ تو پہلے ہی اپنے مسائل میں ’’نکونک‘‘ ہے!

مزید : کالم