کیا اردو سرکاری زبان بن سکے گی؟

کیا اردو سرکاری زبان بن سکے گی؟
کیا اردو سرکاری زبان بن سکے گی؟

  

گزشتہ دنوں پی ٹی وی پر اردو کے بطور سرکاری زبان نفاذ کے سلسلے میں ایک پروگرام ہوا جس میں انگریزی الفاظ بڑی ڈھٹائی سے بے دریغ استعمال کئے گئے۔ پروگرام کا عنوان تھا ’’اردو کا نفاذ۔۔۔ چیلنج اور امکانات‘‘ جس میں اردو کو سرکاری زبان کے طور پر نافذ کرنے کے سلسلے میں پیش رفت پر غور کیا گیا۔ پروگرام کی میزبان ایک خاتون تھیں جبکہ ماہرانہ رائے کیلئے مانند خورشید صحافت کے افق پر چمکنے والے ایک دانشور کو مدعو کیا گیا تھا جو آج کل اسی سرکاری چینل کے ندیم ہیں۔ اس سے قبل البتہ وہ ایک زمانے میں سب سے مقبول لیکن آج کل زیر عتاب چینل کے مذہبی پروگرام میں ’لنگر شخصیت‘ (اینکر پرسن) بھی رہے ہیں۔ پروگرام کی اہمیت کے پیش نظر اس کا وقت رات گیارہ بجے رکھا گیا تھا تاکہ میرے جیسے صرف کلاسیکی موسیقی میں دلچسپی رکھنے والے افراد ہی اس سے فیض یاب ہوسکیں۔ فاضل دانشور نے جن کا ایک گھنٹے کے پروگرام کے دوران تکیہ کلام انگریزی لفظ آڈاپٹ (Adopt) بمعنی اختیار کرنا یا اپنانا رہا اردو کے اب تک سرکاری زبان نہ بن پانے کی وجہ نیپوٹزم (nepotism) بمعنی اقربا پروری اور کرپشن بتائی۔ انہوں نے سچوایشن (Situation) بمعنی صورتحال سے لے کر آسپکٹ (aspect) بمعنی پہلو تک انگریزی کے درجنوں الفاظ اس قدر روانی سے بولے گویا وہ اردو زبان کا ہی حصہ ہوں۔

یہ پروگرام دیکھ کر میں نے اپنے طور پر تو یہی نتیجہ اخذ کیا کہ اردو کو سرکاری زبان بنانے کے بجائے اگر سب لوگ فاضل دانشور کی طرح انگریزی ہی سیکھ لیں تو مسئلہ ہمیشہ کیلئے حل ہو جائے گا۔ اسی لئے تو میں انگریزی کو بسم اللہ سے ہی ذریعہ تعلیم بنانے کا حامی ہوں جیسا کہ حکمرانوں کے بچے کرتے ہیں۔ انگریزی کو سرکاری زبان بنائے رکھنے کا میں اس لیے بھی حامی ہوں کہ جب میرے‘ تیرے ہماشما سبھی کے بچے جوق در جوق انگلش میڈیم میں جا رہے ہوں تو اردو کے سرکاری زبان ہونے کا کیا مطلب؟ اردو سرکاری زبان ایک نہ ایک دن بن جائے گی لیکن اس وقت ملک میں غریبوں کی حکومت ہوگی جن کے بچے اردو میڈیم سکولوں میں پڑھ رہے ہوں گے۔ یہاں تو حال یہ ہے کہ ملک میں آبادی کی اکثریت نے کبھی سکول کا منہ ہی نہیں دیکھا تو سرکاری زبان اردو میڈیم ہو یا انگلش ان کو کیا فرق پڑتا ہے؟ ہاں البتہ اردو کو سبھی قومی زبان سمجھتے ہیں اور اسی زبان میں کسی بھی چینل پر بات سننا پسند کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قومی سطح پر تمام ٹی وی چینل اردو میڈیم ہیں۔ ایک آدھ انگلش میڈیم چینل بھی تھا لیکن اس کو بھی انگریزی کو تیاگ کر عوام کی زبان ہی اختیار کرنی پڑی۔اس کی غالباً ایک وجہ یہ بھی تھی کہ انگریزی بولنے والے نہیں ملتے تھے اور انگریزی سمجھنے والے تو اس سے بھی کم ہیں۔

انگریزی میں البتہ کچھ اخبار ضرور شائع ہوتے ہیں لیکن ان کے قارئین کی تعداد کچھ زیادہ قابل ذکر نہیں۔ ان کے مقابلے میں اردو اخبارات کی تعداد نہ صرف زیادہ ہے بلکہ قارئین کی تعداد بھی لاکھوں میں ہے یعنی یہ کہ سرکاری زبان بنے یا نہ بنے ،روزمرہ کی زندگی میں اردو پاکستان کی قومی زبان کی حیثیت سے اپنی جگہ بناچکی ہے اور روز بروز اپنا دائرہ اثر و رسوخ وسیع تر کرتی چلی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں اردو کے ساتھ البتہ ایک واردات خاموشی کے ساتھ یہ ہو رہی ہے کہ اس میں انگریزی کے علاوہ مقامی زبانوں کے الفاظ بھی زبردستی ٹھونسے جا رہے ہیں۔ انگریزی کے الفاظ تو خواہ مخواہ میں اس لیے بھی لادے جاتے ہیں تاکہ اپنے پڑھے لکھے ہونے کا احساس دلایا جائے جبکہ مقامی الفاظ اس لیے ڈالے جاتے ہیں کہ یا تو ان کی متبادل اردو نہیں آتی یا پھر عادتاً ایسا کیا جاتا ہے۔ خاص طور پر ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والے ’’ٹاک شوز‘‘ میں اینکر پرسن اور شرکاء بڑے زعم کے ساتھ ایک شان بے اعتنائی سے مقامی زبان کے الفاظ استعمال کرتے ہیں گویا کسی دوسرے صوبے میں ان کی آواز سنی ہی نہیں جا رہی ہوگی۔ ممکن ہے ان میں سے کئی اپنے صوبے سے باہر نہ نکلے ہوں اور اسی کو پاکستان سمجھتے ہوں‘ لیکن بہرحال گوشمالی تو ان کی بھی ہونی چاہیے۔ اردو کو اپنے ساتھ اس سلوک پر بذات خود تو کوئی اعتراض نہ ہوگا۔ وہ تو ہے ہی کئی زبانوں کا مجموعہ اور اس نے جنم بھی رابطے کی زبان کے طور پر لیا تھا بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ بازار کی زبان ہے اور فاتح و مفتوح دونوں کی بولیوں کو اپنے اندر سمو لیتی ہے۔

یہ سب اپنی جگہ پر درست لیکن اگر قومی زبان کے طور پر اس کا کوئی معیار یا وقار قائم رکھنا ہے تو اس کا کوئی والی وارث تو ہونا چاہئے جو یہ فیصلہ کرے کہ کون سا لفظ اس میں شامل ہوگا اور کون سا نہیں تاکہ میرے جیسے نام نہاد صحافی اس سے راہنمائی حاصل کرسکیں۔ پہلے یہ فریضہ بڑے بڑے ادیب اور شاعر انجام دیا کرتے تھے جن کی زبان ٹکسالی سمجھی جاتی تھی لیکن اب تو اس میدان میں بھی قحط الرجال ہے۔ اس بحران سے قطع نظر اصولاً یہ ذمہ داری اردو ڈکشنری بورڈ پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اپے وسیع تر مشاہدے کے ذریعے مقررہ وقفوں کے بعد اس امر کا تعین کرے کہ کون سے الفاظ شریک قرار پائے اور کون سے نئے الفاظ شامل ہوئے۔ کیا ہی اچھا ہو جیسے برطانیہ سے اس قسم کی خبریں آتی ہیں کہ زبان زد عام ہونے کے بعد اردو کے الفاظ گلوبٹ‘ پلاؤ یا پراٹھا انگریزی لغت میں شامل کرلئے گئے ایسے ہی ہمارا ڈکشنری بورڈ بھی پریس ریلیز یا ٹویٹ کے ذریعے بتائے کہ فیس بک یا انٹرنیٹ جیسے مستعمل الفاظ اردو لغت میں بھی شامل کئے جاچکے ہیں۔ قومی زبان کے لئے اس کی مقتدرہ نے بھی بڑی خدمات انجام دی ہیں جن کے بارے میں بھی عوام کو گاہے بگاہے آگاہ کیا جانا چاہئے۔ اردو سائنس بورڈ کا بھی انتھک محنت کے بعد سانس اس لیے پھول گیا ہے کہ انگلش میڈیم میں اسے اپنی دال گلتی نظر نہیں آتی چنانچہ اس کی تیار کردہ سائنسی اصلاحات کو اگر عجائب گھر میں محفوظ کردیا جائے تو ان کے ہمیشہ کیلئے ناپید ہونے کا خطرہ کم از کم ٹل جائے گا۔ اردو کی سائنسی اصلاحات مستعمل ہوں یا نہ ہوں اردو ہمیشہ عوامی رابطے اور بازار کی زبان کے طور پر زندہ رہے گی اور ہاں شاعری کی زبان کے طور پر بھی کیونکہ یہ اپنے اندر آفاقی شاعری کا انمول خزینہ سموئے ہوئے ہے۔ یہ ایک ایسا اعزاز ہے جو شاید دنیاکی کسی اور زبان کو حاصل نہیں۔ اردو دراصل شاعری کی زبان ہی تو ہے۔

مزید : کالم