پاک افغان تعلقات

پاک افغان تعلقات

افغان صدر کے ترجمان سید ظفر ہاشمی نے اتوارکو کابل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر پاکستان پرشدید تنقید کی، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان کااچھا دوست صرف اسی صورت میں بن سکتا ہے جب پاکستان اپنے علاقوں میں ان دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کرے جنہوں نے افغانستان کے خلاف جنگ شروع کررکھی ہے۔پاکستان کے وزیر اعظم کو اپنے نعرے ’’افغانستان کا دشمن، پاکستان کا دشمن ہے ‘‘پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔جس دن افغان صدر کے ترجمان پاکستان کی ’سرزنش‘ کر رہے تھے اسی دن افغانستان کی طرف سے پانچ راکٹ فائر کئے گئے۔ یہ راکٹ انگور اڈا میں پاک افغان گیٹ کے قریب گرے، جواب میں پاکستانی سکیورٹی فورسز نے راکٹ فائر ہونے کی سمت پر جوابی فائر کیا تاہم کوئی جانی و مالی نقصان نہیں ہوا۔سرحد پار سے پہلے بھی ایسے حملے ہوتے رہتے ہیں،یہ قوی امکان موجود ہے کہ پاکستان میں آپریشن ضرب عضب کے باعث بہت سے شدت پسندوں نے افغانستان کے سرحدی علاقوں میں اپنی پناہ گاہیں بنالی ہوں اوروہ وہیں سے پاکستان کی سرحدی چوکیوں پر حملے کرتے رہتے ہیں۔سکیورٹی حکام بارہا افغان حکام کی توجہ اس طرف دلا چکے ہیں اور ان کے پاس اس بات کے ثبوت بھی موجود ہیں کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی ان کارروائیوں میں ملوث شدت پسند افغانستان کے راستے ہی پاکستان آتے ہیں۔

ترجمان پاک فوج لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے بھی اتوار کو واشنگٹن میںآرمی چیف کے دورہ امریکہ کے آغاز سے قبل گفتگو کرتے ہوئے اسی بات پر زور دیا کہ پاکستان نے پہلے ہی افغانستان اور امریکا کوبتا دیا تھا کہ ضرب عضب سے بچنے کیلئے دہشت گرد افغانستان فرار ہوں گے ، دہشت گردوں کا فرار روکنے کیلئے سرحد پر سخت نگرانی کی ضرورت ہے۔ساتھ ہی انہوں نے شکوہ بھی کر دیا کہ ضرب عضب کی کامیابی کیلئے افغانستان نے مناسب اقدامات نہیں کئے ، افغانستان میں موجود فورسز کو پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہئے تھا۔لیکن یہ بھی کہا کہ ماضی میں کیا کچھ غلط ہوا اس پر بحث کرنے کی بجائے ہمیں دہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے آگے بڑھنا چاہئے اور مشترکہ طور پر تعاون کرنا چاہئے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ خلوص نیت کے ساتھ افغانستان میں امن بحال کرنے کی کوشش کی ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے دورہ امریکہ سے بھی یہی امید کی جارہی ہے کہ اس دوران افغانستان میں امن کی صورتحال اور علاقے میں امن قائم کرنے پر غور کیا جا ئے گا۔

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں گزشتہ برس کافی سدھار پیدا ہواتھا، جب افغانستان میں جمہوری حکومت قائم ہوئی تھی، افغان صدر اشرف غنی تمام تر اندرونی مخالفت کے باوجود پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کے خواہاں تھے۔دونوں ممالک نے دہشت گردی کے خلاف متحد ہو کر جنگ لڑنے کا عہد بھی کیا۔ افغان صدر جب پاکستان کے دورے پر آئے تو انہوں نے راولپنڈی میں جی ایچ کیو کا دورہ بھی کیا، وہ پہلے سربراہ تھے جنہوں نے جی ایچ کیو کا دورہ کیا تھا۔انہوں نے پاک آرمی کی دہشت گردی کے خلاف کوششوں کو سراہا اور تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔پاکستان کے صدر، وزیراعظم ،آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی نے کابل کے دورے کئے،دونوں ممالک کے درمیان انٹیلی جینس شئیرنگ کا معاہدہ ہوا، کور کمانڈر کوئٹہ نے کور کمانڈر جلال آباد سے ملاقات کی۔طویل عرصے بعد اعتماد کی فضا بحال ہوتی نظر آئی، الزامات کی بجائے ایک دوسرے کی بات سنی گئی، اس کے مطابق اقدامات کئے گئے، پاکستان کی رپورٹ پر افغانستان نے سرحدی علاقے میں کارروائی بھی کی۔پاکستان نے افغان طالبان مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔۔۔ لیکن پھر افغانستان میں دہشت گردی کی بد ترین لہراٹھی، اگست کے پہلے ہفتے میں طالبان نے پے در پے حملے کئے اور پھر جب کابل کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا تویہ حملہ اونٹ کی کمر پر آخری تنکا ثابت ہوا، افغان صدر اشرف غنی اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔ انہوں نے غم و غصے کا بھر پور اظہار کرتے ہوئے افغانستان میں دہشت گردی کی تمام تر ذمہ داری براہ راست پاکستان پر ڈال دی، انہوں نے بھی بھارت کی’بھاشا‘ بولنی شروع کر دی۔کابل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان کے ملک کو امن کی امید تھی، لیکن پاکستان سے کابل کو جنگ کے پیغامات مل رہے ہیں۔حامد کرزئی کے دور حکومت میں پاکستان پر الزامات کی بارش جاری رہی لیکن اشرف غنی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا ساتھ دینے ہی کی بات کی، جب افغان پارلیمنٹ پر حملہ ہوا تھا تو بھی افغانستان میں پاکستان مخالف حلقوں نے ڈھکے چھپے انداز میں پاکستان کو مورد الزام ٹھہرایا تھالیکن ایسا دو ٹوک موقف نہیں اپنا یا گیا تھا۔

اس وقت مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان اور افغانستان دونوں ہی دہشت گردی کا شکار ہیں اور اس کے خلاف نبر د آزما ہیں۔ ایسے میں ایک دوسرے پر الزامات دھرنے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا،اچانک پیدا ہونے والی تلخی کو بھلا کر آگے بڑھنا ہو گا۔یہ بات تو طے ہے کہ بندوق کے زور پر اپنی بات مسلط کرنے کی کوئی بھی کوشش کسی بھی حال میں قابل قبول نہیں ہے۔دونوں ممالک پر لازم ہے کہ وہ مشترکہ طور پر دہشت گردی کے خاتمے کے لئے کوشش کریں، مل کر آگے بڑھیں۔پاکستان بارہا واضح کر چکا ہے کہ وہ بغیر کسی تفریق کے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کر رہا ہے،پاکستان افغانستان میں امن کا خواہاں ہے ، وہاں امن ہو گا تو پاکستان میں بھی سکون ہو گا،خوشحالی ہو گی۔ افغان حکومت او ر پاکستان دونوں کو ہی ایک دوسرے کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہ ہونے کے عزم پر ڈٹے رہنے کی ضرورت ہے،کسی اور کی زبان بولنے کی بجائے مل کر خطے میں مستقل امن و استحکام قائم کرنے کی کوشش ہی اولین ترجیح ہونی چاہئے۔

مزید : اداریہ