غربت یا گھریلوں ناچاقی ؟ سنگدل ماں اور باپ 3ننھے معصوم بچوں کو فٹ پاتھ پر چھوڑ گئے

غربت یا گھریلوں ناچاقی ؟ سنگدل ماں اور باپ 3ننھے معصوم بچوں کو فٹ پاتھ پر چھوڑ ...

لاہور(ملک خیام رفیق)اسے غربت کہیں یا بے چارگی یا گھریلو ناچاکی کا شاخسانہ یا اسے سنگدلی کا نام دیا جائے یا پھر میاں بیوی کے تنازعات کا گھناؤنا انجام قرار دیا جائے اسے کسی بھی نام سے پکا را جائے لیکن یہ حقیقت ہے کہ سمن آباد کے علاقہ میں شقی القلب والدین نے تین معصوم بچوں کو سر بازار پھینک دیااور اچانک غائب ہو گئے کمسن بچے لاچارگی کی تصویر بنے سردی میں ٹھٹھرتے اور ماں باپ کی راہ تکتے رہے ان بچوں کی بے بسی کا انکشاف سمن آباد مین روڈ فٹ پاتھ کے قریب سے گزرنے والے ایک راہ گیر کے ذریعے سے ہوا جس نے ان تین معصوم پھول سے بچوں کوفٹ پاتھ پر حسرت و یاس کی تصویر بنے دیکھا کچھ ہی دیر میں فٹ پاتھ پر راہ گیروں کا رش لگ گیا جو ان معصوموں کی لاوارثی کا تماشہ دیکھتے رہے مقامی نو منتخب کونسلر کو اطلاع دی گئی اور پھر پولیس کو بلایا گیا اور بعد ازاں ان بے کسوں اور لاچاربچوں کو چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے حوالے کر دیا گیا بڑے بچے حسنین کی عمر 5سال جبکہ دوسرے کی 4سال اور تیسرے کی 3سال ہے ان بچوں نے رنگ دار اور پھولدار کپڑے پہن رکھے ہیں اور حلیے سے کسی غریب گھرانے کے چشموں چراغ معلوم ہوتے ہیں ان بچوں کے قریب ایک شاپر بھی پڑا تھا جس میں شاید ان کے پہننے کے کپڑے موجود تھے۔انہیں کس نے اور کیوں فٹ پاتھ کی زینت بنایا وہ چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں کتنے روز تک گوشہ گمنامی میں لاوارث زندگی گزاریں گے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ماں باپ کی زندگی میں سایہ پدری اور مدری سے محروم کس طرح رہیں گے انہیں کس جرم کی سزا ملی کیا یہ والد کی طرف سے بچوں کی ماں پر کسی شک کا نتیجہ ہے یا پھر نا کردہ گناہ کی سزااس سوال کا جواب چائلڈ پروٹیکشن کی کسٹڈی میں موجود بچے معاشرے کے ہر ذی شعور فرد سے کر رہے ہیں ۔

مزید : صفحہ اول