پی سی بی بھارتی سازشوں کے باوجود اس کیساتھ کھیلنے کیلئے اتنا پرجوش کیوں ہے ؟

پی سی بی بھارتی سازشوں کے باوجود اس کیساتھ کھیلنے کیلئے اتنا پرجوش کیوں ہے ؟

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

وزیراعظم نواز شریف نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو ہدایت کی ہے کہ کرکٹ حکام یا ٹیم کے دورۂ بھارت پر کوئی فیصلہ حکومت کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے، اور تمام معاملات پر حکومت سے پیشگی مشاورت کی جائے، اس سے پہلے وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے دورۂ بھارت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ فیصلے کا اختیار وزیراعظم کے پاس ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی حدتک بھرپور مخالفت کریں گے، انہوں نے بالکل بجا طورپر کہا تھا ’’بھارت، دشمنی، دشمنی اور ہم دوستی دوستی کرتے رہیں، ایسا ہو نہیں سکتا‘‘ ، تاہم کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان کو چودھری نثارعلی خان کا بیان پسند نہیں آیا، اور انہوں نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہم تو بھارت سے میچز چاہتے ہیں جو چودھری نثارعلی خان کہہ رہے ہیں اسے مناسب نہیں سمجھتے ، ان کا کہنا تھا بھارت سے کھیلنے کا فیصلہ چار سے پانچ روزمیں ہوجائے گا۔

شہریار احمد خان اور نجم سیٹھی کی ممبئی میں جو ’’عزت افزائی‘‘ ہوئی تھی، اس کے باعث امید تھی کہ وہ اپنا طرز فکر وعمل تبدیل کریں گے لیکن ایسے لگتا ہے کہ وہ بھارت سے کھیلنے کی محبت میں اس حدتک مبتلا ہیں کہ انہیں وزیرداخلہ کی رائے بھی پسند نہیں آئی، تاہم وزیراعظم نواز شریف نے بہت بروقت مداخلت کی ہے، وہ نہ صرف ملک کے وزیراعظم ہیں بلکہ کرکٹ بورڈ کے بھی سرپرست اعلیٰ ہیں لیکن شہریارخان کے حالیہ طرزِ عمل سے ایسے محسوس ہوتا رہا ہے کہ وہ من مانی پر تلے ہوئے ہیں، وہ بھارت کے دورے پر گئے تو بھارتی کرکٹ حکام نے ان سے ملاقات نہیں کی، عذر یہ تراشا کہ ان کے دفتر کے باہر احتجاج ہورہا ہے، چلئے یہ مان لیا، دفتر کے باہر اگر احتجاج ہورہا تھا توبھارتی کرکٹ حکام اگر چاہتے تو اس ہوٹل میں جاکر ملاقات کرسکتے تھے جہاں شہر یار ٹھہرے ہوئے تھے لیکن سارے معاملے کا بھانڈا تو نجم سیٹھی نے یہ کہہ کر پھوڑ دیا کہ شہریار خان کی اہلیہ نے بھی ’’بیک چینل ڈپلومیسی‘‘ کا استعمال کیا تھا ،ابھی دوروز پہلے بھی شہریار خان نے دعویٰ کیا کہ بھارت نے پاکستان کو کرکٹ کھیلنے کی دعوت دی ہے جبکہ بھارتی حکام نے اس کی تردید کردی۔ سوال یہ ہے کہ بھارت کی تمام تر شرانگیزیوں کے باوجود آخر بھارت کے ساتھ کھیلنے کے لئے ہم کیوں مرے جارہے ہیں ؟بھارت تو وہ ہے جس نے سری لنکا کی ٹیم کے دورۂ پاکستان کی مخالفت کی تھی، بلکہ اسے سختی سے روکا تھا۔ اس کے باوجود جب سری لنکا کی ٹیم پاکستان میں کھیلنے کے لئے آگئی تو لاہور میں ٹیم پر دہشت گردانہ حملہ ہوگیا، جو آج تک اسرار کے پردے میں لپٹا ہوا ہے، سری لنکا کے بعد کوئی ٹیم پاکستان نہیں آئی اور کرکٹ گراؤنڈ ویران ہوگئے، سری لنکا کے بعد جس ٹیم نے پاکستان آنے کی ہمت کی وہ زمبابوے کی ٹیم تھی، اسے بھی بھارت نے بہت ڈرایابلکہ بعض اطلاعات کے مطابق لالچ بھی دیا لیکن زمبابوے کی ٹیم اور حکومت پاکستان کے دورے کے فیصلے پر قائم رہے ٹیم نے خوش اسلوبی سے پاکستان کا دورہ کیا، ہرمیچ کے موقع پر سٹیڈیم تماشائیوں سے کھچا کھچ بھرا رہا ، زمبابوے کی ٹیم خوش خوش واپس گئی اور جاکر بیان دیا کہ پاکستان کرکٹ کے لئے محفوظ جگہ ہے، یہ بات بھی ثابت ہوگئی کہ دہشت گردی کے واقعات کے باوجود پاکستان میں مہمان ٹیم بحفاظت کھیل سکتی ہے اور مہمان ملک ان کی اچھی طرح حفاظت بھی کرسکتا ہے، جہاں تک دہشت گردی کا تعلق ہے یہ تو اب عالمی مسئلہ ہے ابھی 13نومبر کو فرانس کا دارالحکومت پیرس خون میں نہلا گیا، اس سٹیڈیم کے باہر دھماکے ہوئے جہاں فرانس کے صدر سمیت پوری کابینہ کے ارکان فٹ بال کا میچ دیکھ رہے تھے، سوال یہ ہے کہ اتنی شدید دہشت گردی کے بعدکیا اب کوئی ملک فٹ بال کھیلنے فرانس نہیں آئے گا؟ حالات معمول پر آتے ہی کھیلوں سمیت تمام سرگرمیاں شروع ہونے کا امکان ہے اب اگر اتنی بڑی دہشت گردی کے بعد فرانس میں کھیلوں سے کوئی ٹیم انکار نہیں کرتی تو کیا اس اصول کی روح کا اطلاق پاکستان پر نہیں ہوتا ؟ پاکستان کی کرکٹ کو دراصل ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نقصان پہنچایا گیا اس کے ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں خصوصاً باؤلروں سے خوفزدہ ہوکر ان کے باؤلنگ ایکشن کو مشکوک قرار دلوایا گیا ، ستم ظریفی یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھی ان باؤلروں کو تنہا چھوڑ دیا کہ وہ خود ہی اپنا مشکوک باؤلنگ ایکشن کلیئر کرائیں، کرکٹ بورڈ نے ہرآزمائش میں کھلاڑیوں کو نہ صرف تنہا چھوڑا بلکہ کرکٹ بورڈ کے بعض حکام تو جان بوجھ کر ایسے کھلاڑیوں کی راہ میں روڑے اٹکاتے رہے، کبھی ایک کھلاڑی کو باہر بٹھایاگیا اور کبھی دوسرے کو، جن کھلاڑیوں نے اپنے آپ کو ہرلحاظ سے فارم میں اور فٹ ثابت کیا انہیں باہر بٹھا دیا گیا اور ان کی جگہ نسبتاً نو آموز کھلاڑیوں کو موقع دے دیا گیا۔ حیدرآباد کے واقعے میں عمر اکمل کو سزادینے میں جتنی پھرتی دکھائی گئی اس کی بھی چنداں ضرورت نہ تھی، جرم اور سزا میں بہرحال کوئی نسبت تناسب تو ہونا چاہئے ، کسی محفل موسیقی سے اگر کسی ہمسائے کا سکون متاثر ہورہا تھا اور اس نے اس بنیاد پر پولیس کی امداد طلب کرلی تھی، تو ’’قصور وار‘‘ میزبان تھا نہ کہ مہمان، لیکن کرکٹ بورڈ نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور عمر اکمل کو سزادے ڈالی اب وزیراعظم کو کرکٹ بورڈ سے یہ تو پوچھنا چاہئے کہ اسے بھارت کی ٹیم سے کھیلنے کی جلدی کیا ہے ؟ سیریز بھارت کے اندر ہوتی ہے یا کسی تیسرے مقام پر، یہ بات اہم نہیں ہے، اہم بات یہ ہے کہ بھارت اگر پاکستان سے کھیلنے میں مخلص ہے تو اس کی ٹیم پاکستان کیوں نہیں آتی ؟ بھارت نیک نیت ہے تو سیدھے سبھاؤ پاکستان اپنی ٹیم بھیجے، لیکن ایسا نہیں ہورہا، بھول بھلیاں اور بجھارتیں ڈالی جارہی ہیں، کبھی شہریار کو اپنے ہاں بلا کر ذلیل کیا جاتا ہے اور کبھی دعوت دے کر انکار کردیا جاتا ہے ایسے مشکوک اور شبہات سے لبریز ماحول میں کرکٹ کیا خاک ہوگی، ایسے میں تو سازش ہی پروان چڑھ سکتی ہیں جس میں بھارتی حکام خصوصی مہارت رکھتے ہیں، چودھری نثار علی خان نے بالکل درست کہا کہ بھارت دشمنی دشمنی کرتا رہے اور ہم دوستی دوستی کہتے رہیں، ایسا نہیں ہوسکتا۔

یہ درست ہے کہ شہریارخان فارن سروس میں اعلیٰ عہدوں پر رہے ہیں اور اب طویل عرصے سے کرکٹ بورڈ میں بھی اپنا جادو جگا رہے ہیں لیکن کیا اب وقت نہیں آگیا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو کسی پروفیشنل کھلاڑی کے سپرد کردیا جائے جو اس ادارے کو غیر جانبداری کے ساتھ چلائے، اور کھلاڑیوں کے خلاف سازشوں کے دروازے بھی بند کردے۔ کرکٹ میں بگ تھری کا تصور بھارت نے اجاگر کیا، اس کا بنیادی مقصد کرکٹ کی آمدنی کی ساری کریم صرف تین بڑوں کے لئے مخصوص کردینا تھا، باقی تلچھٹ ’’غریب غربا‘‘ کے لئے رہ جاتی ہے، پاکستان بھارت کے مقابلے کا ملک ہے اور کرکٹ بھی برابری کی بنیاد پر کھیلنا چاہتا ہے اگر ایسا نہیں ہوسکتا تو بھارت کے ساتھ کھیلنا ضروری بھی نہیں، وزیراعظم نواز شریف نے مداخلت کرکے بورڈ کو بھارت کے ضمن میں کسی بھی فیصلے سے بروقت روک دیا ہے، اب جو بھی فیصلہ ہونا ہے حکومت کی سطح پر ہی ہوگا۔ حکومت ضرورت محسوس کرے تو کرکٹ بورڈ کی موجودہ انتظامیہ کو بدلا جاسکتا ہے اور نیا مؤثر ڈھانچہ تشکیل دیا جاسکتا ہے کرکٹ کی سطح پر فیصلے بھارت کی محبت میں نہیں کئے جاسکتے ۔

مزید : تجزیہ