عالمی امن کیلئے کشمیر، فلسطین، یمن، شام کے مسائل کا حل ناگزیر

عالمی امن کیلئے کشمیر، فلسطین، یمن، شام کے مسائل کا حل ناگزیر

ٖٖٖفیس بک پر آج کل ہر کو ئی پیرس دھماکوں کے مقتولین سے اظہار یکجہتی کے لئے اپنی ڈی پی کو فرانس کے جھنڈے کے رنگ میں رنگ رہا ہے،ایسے لوگوں سے گزارش ہے کہ کیا انہوں نے کبھی فلسطین،شام،کشمیر،یمن میں ہزاروں شہید ہونے والے بچوں،عورتوں،مردوں سے اظہار یکجہتی کے لئے کچھ کیا ہے؟ان ملکوں میں بھی تو انسان ہی مر رہے ہیں۔ان لوگوں کی سوچ پر ماتم کرنے کو دل کرتا ہے،کیا مسلمانوں کے خون کی کوئی وقعت نہیں ہے،ٹھیک ہے بے گناہ لوگوں کا قتل کسی صورت درست نہیں،اسلام میں تو کہا گیا ہے کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے،ہمیں منافقانہ پالیسیوں سے نکلنا ہو گا۔اگر کسی کے گھر کو آگ لگاؤ گے تو آپ کا گھر بھی محفوظ نہیں رہے گاجہاں جہاں بھی انسانیت کی تذلیل ہو رہی ہے اس کا حل نکا لنا ہو گا تاکہ وہ بھی دنیا میں امن و آشتی سے زندگی گزار سکیں۔دنیا کے منصفوں کو اب اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنا ہو گی ،فلسطین،کشمیر،شام،عراق،یمن کے مسائل حل کرنا ہوں گے،پیرس دھماکوں نے پورے یورپ اور مغربی دنیا کو ہی نہیں،امریکہ جیسی سپرطاقت کو بھی ہلاکر رکھ دیا ہے، فرانس دنیا کا پہلا ملک ہے جس نے دہشت گردی کے خلاف سپیشل فورس تشکیل دی تھی، لیکن پیرس کی حدتک یہ واقعہ کسی طرح نائن الیون سے کم نہیں، جس سٹیڈیم کے باہر تین دھماکے ہوئے وہاں فرانس کے صدر اولاند، وزیراعظم اور کابینہ کے ارکان فرانس اور جرمنی کا فٹ بال میچ دیکھ رہے تھے۔ فرانس کی پوری حکومت اس وقت سٹیڈیم میں جمع تھی، اس سے ایک جانب تو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ میچ کس حدتک دلچسپ اور اہمیت کا حاصل تھا اور سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کئے گئے تھے۔ٖٖٖ جہاں تک داعش کا تعلق ہے تو یہ بھی ان ممالک کی پیداوار ہے جو آج ترقی یافتہ اور داعش مخالف ہیں، اس لئے ان کو بھی غور کرنا چاہیے کہ کسی بھی نوع کی انتہا پسندی کو رکاوٹ نہ بننے دیا جائے۔ چاہے کچھ بھی ہو،ہمارا دین خیر و امن کا دین ہے اس سے کسی کو کوئی شکائت نہیں ہونا چاہیے لیکن شرط یہ ہے کہ لوگ دین کی حقیقت تک محدود رہیں اور انتہاپسندی سے گریز کریں دین میں جبر اور انتہا پسندی نہیں، تلقین و تبلیغ ہے۔ مغربی ممالک کو اپنی پالیسیاں پھر سے ترتیب دینا اورہر نوع کی انتہا پسندی اور دہشت گردی کی حمایت اور سرپرستی سے دستبردار ہونا ہوگا، چاہے وہ ریاستی ہی ہو۔سعودی عرب کے فرماں روا شاہ عبداللہ نے اپنی وفات سے قبل ایک پیش گوئی کی تھی اور اہل مغرب کو بارہا متنبہ کیا تھا کہ دہشت گردی کا جو الاؤ ایشیاء اور مشرق وسطیٰ میں بھڑک رہا ہے اس کے انسداد کے لیے جلد اقدامات نہ کیے گئے تو یہ آگ یورپ تک جا پہنچے گی۔ مگر اس وقت مغربی ممالک نے ان کی نصیحت پر کان نہیں دھرا۔ اب فرانس خون کی ہولی کھیلے جانے کے بعد ان کی پیش گوئی سچ ثابت ہونے پر سوشل میڈیا پر انہیں اور ان کی باتوں کو یاد کیا جا رہا ہے۔شاہ عبداللہ نے ایک تقریب میں دنیا بھر کے سفیروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’میں تمام سفیروں کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ اپنے ممالک کی حکومتوں کو میرا یہ پیغام پہنچائیں کہ دہشت گردی کے ناسور سے صرف طاقت سے ہی نمٹا جا سکتا ہے اور ان کے خلاف کارروائی جلد از جلد ہونی چاہیے۔بدقسمتی سے آپ میں اکثر سفیروں کے ممالک نے دہشت گردی کے خلاف کوئی خاطرخواہ اقدامات نہیں کیے جو انسانیت کے لیے خطرناک طرزِعمل ہے۔آپ سب دیکھ رہے ہو کہ کس طرح لوگوں کے سر قلم کیے جا رہے ہیں اور کس طرح بچوں کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ ان کٹے ہوئے سروں کو لے کر گلیوں میں چلیں۔اللہ تعالیٰ نے کسی ایک انسان کے ناحق قتل کو پوری انسانیت کا قتل قراردیا ہے مگر دہشت گرد دن رات لوگوں کو ناحق قتل کر رہے ہیں اور آپ سب اس بات سے آگاہ ہیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں اور مستقبل میں کیا کریں گے۔مجھے یقین ہے کہ اگر دہشت گردوں نظرانداز کیا گیا تو وہ ایک مہینے میں یورپ تک پہنچ جائیں گے۔ اور یورپ پہنچنے کے ایک ماہ بعد وہ امریکہ پہنچ چکے ہوں گے۔‘‘

مزید : عالمی منظر