’’جوازیئے‘‘

’’جوازیئے‘‘
 ’’جوازیئے‘‘

  

فرانس کے شہر پیرس میں جو کچھ ہوا یہ عمل اور ردعمل کی وہ گھسی پٹی کہانی ہے جوصدیوں سے سنائی جا رہی ہے۔ دہشت گردی ریاستی ہو یا غیر ریاستی، اسے ہمیشہ ردعمل قرار دیا جاتا ہے ۔عمل کی بجائے ردعمل قرار دینا اسے جواز اور جائزیت فراہم کرنے کے لئے ہوتا ہے حالانکہ کسی بے گناہ کی جان لینے کاکوئی بھی جواز جائز نہیں ہوتا۔ ہمارے بہت سارے دوست پیرس میں ہونے والی دہشت گردی کی براہ راست حمایت نہیں کر پارہے مگر اسے جواز دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دلیل فلسطین، عراق اور شام میں حملوں اور ہزاروں بے گناہوں کی جان لینے کی دی جا رہی ہے ، یہ دلیل ہم مسلمانوں کے لئے اسی طرح قابل قبول ہے جس طرح ان پر حملہ کرنے والوں کا موقف ان کے حامیوں میں اسلام اور دہشت گردی کو ایک ساتھ بیان کرنے کی وجہ سے قبولیت پاتا ہے ۔ جب ہم دہشت گردی کو جوا ز دیتے ہیں تو پھر یہ معاملے جواز در جواز چلتے ہیں۔ظلم کی ایک کڑی سے دوسری ملتی ہے اورایک زنجیر پوری انسانیت کو جکڑ لیتی ہے حالانکہ لہو شام میں بہے یا فلسطین میں، لہو عراقیوں کا ہو یا افغانیوں کا، لہو امریکہ میں گرے یا فرانس میں، وہ انسانوں کا ہوتا ہے ، وہ ایک ہی جتنا گرم اورایک ہی جیسا سرخ ہوتا ہے۔ جب ہم اپنے خوں خوارساتھیوں کی طرف سے خون بہانے کے جواز تسلیم کرلیتے ہیں تو دوسری طرف والے بھی اپنوں کومطمئن کرنے کے بہانے گھڑ لیتے ہیں۔ پھر ہم سب بھی لڑتے ہیں بالکل اسی طرح جیسے ہمارے دیہات میں مرغے لڑائے جاتے ہیں۔ لڑنے والے کبھی ہاتھوں ، تیروں اور تلواروں سے لڑتے تھے اور پھر بندوقیں، توپیں اور جہاز آگئے ۔ ہم جیسے لوگ قلم کے ساتھ لڑتے ہیں۔ بہت سارے قلم اپنے اثر میں تلوار جیسے ہوتے ہیں۔یہ زبانیں اور یہ تلواریں بیویوں سے ان کے سہاگ چھین لیتی ہیں، ماوں کو ان کے بیٹوں اوربچوں کو ان کے باپوں سے محروم کر دیتی ہیں۔ آپ نے کہا اور بار بار کہا کہ افغانستان پر حملہ نائین الیون کا ردعمل تھا، اگر طالبان حکومت اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کر بھی دیتی تو پھر بھی اس بدقسمت ملک میں مزید تباہی ناگزیر تھی، پھر یہ سوال بھی پوچھا جانا چاہئے کہ نائین الیون کس کا ردعمل تھاکہ یہ خون آشام قصہ اسی روز تو شروع نہیں ہوا تھا۔

ماننے والے مان لیں کہ امریکہ اور داعش اصل میں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ اس سکے سے ظلم او ربربریت کے بازار میں کھوپڑیوں کے مینار تعمیر کئے جاتے ہیں۔ جب ہم داعش کی بربریت کو مسترد کرتے ہیں تو پھر ہمیں امریکہ سمیت ان تمام ممالک کی اسلحہ ساز فیکٹریوں کو بھی مسترد کردیناچاہیے جو موت بانٹنے کے نت نئے آلات تیار کرتی ہیں۔ایک نے کہا کہ امریکہ نے امن،انصاف اور جمہوریت کے قیام کے لئے طاقت استعمال کی، میں نے اس سے اختلاف کیا، دوسرے نے کہا کہ امریکہ کے ظلم کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیاں جہادی نوعیت کی ہیں، میں نے اس سے بھی اختلاف کیا۔ کیا وہ وقت ابھی نہیںآیا کہ دنیا بھر کی جامعات عالمی امن کے لئے سٹڈی پیپرز تیار کریں۔ریاستیں انسانوں سے ہی بنتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ انسانوں کی طرح ہی سوچتی ہیں۔ وہ غم، غصے اور خوشی ، برتری اور کمتری، کامیابی اور ناکامی ، دوستی اور دشمنی جیسے احساسات کو اپنے اندر سموئے رکھتی ہیں۔ ریاستی نظام ایک حقیقت بن چکا مگر اس حقیقت کو خون آشام نہیں ہونا چاہئے۔ ایک خیال تھا کہ اقوام متحدہ عالمی برادری میں ایک قانون ساز اسمبلی کے طور پرکام کرے گا مگر ڈھیلے ڈھالے عالمی قوانین ریاستی اور غیر ریاستی دہشت گردی میں ملوث عناصر کو اتنا خوفزدہ بھی نہیں کرپاتے جتنا خوف کسی ریاستی قانون کا مقامی بدمعاش کوہوتا ہے۔ یہ امر تو طے شدہ ہے کہ ہم دنیا والوں نے نظریاتی، معاشی اور معاشرتی اختلافات کے ساتھ ہی آگے بڑھنا ہے مگر ان اختلافات کو جان لیوا نہیں ہونا چاہئے۔ طویل عرصے سے بات ہو رہی ہے کہ اب ایک نیو ورلڈ آرڈر کی ضرورت ہے جو ان تنازعات کے حل کی طاقت رکھتا ہو۔ اس بات کو تسلیم نہیں کیاجانا چاہئے کہ زمین پر کھینچی ہوئی لکیر کے ایک طرف تو امن، تعلیم، صحت اور روزگار کی سہولتیں مل رہی ہوں اور لکیر کے دوسری طرف بھوک،ننگ، جہالت اور بے روزگاری ناچ رہی ہو۔جب قدرت نے یہ دھرتی ہم سب کو سانجھی دی ہے تو پھراس کے وسائل کی تقسیم میں عدم توازن کیوں ہے۔ میں یقینی طور پر سوشلزم کی بات نہیں کر رہا کہ یہ نظام بھی ناکام ہو چکا۔میں ایک ایسے نئے عالمی نظام کی بات کر رہا ہوں جس میں سب ریاستوں اور تمام نظریوں کو مساوی مقام حاصل ہو۔ایک ایسا نظام جس میں افغانستان ، عراق اورفلسطین میں مرنے والوں کی بھی اتنی ہی اہمیت ہو جتنی اہمیت برطانیہ، امریکہ اور فرانس میں مرنے والوں کی ہوسکتی ہے۔اگر کوئی یہ سوچ رہا ہے کہ صرف طاقت کے استعمال سے دنیا میں امن کو یقینی بنایا جا سکتا ہے تو پھر اس سے بڑا احمق کوئی نہیں ہے۔ داعش نے یقینی طور ان حملوں کے ذریعے اسلام کی کوئی خدمت نہیں کی ۔ تازہ حملوں نے پرانی اور جاری جنگ کے ایک نئے مرحلے کا آغاز کر دیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ مگرمچھ کے آنسو بہانے والے کچھ ایسے بھی ہوں جن کی حقیقت میں باچھیں کھلی جا رہی ہوں۔ انہیں اپنے تجارتی مفادات اور کاروباری فائدوں کی ایک نئی دنیا نظر آ رہی ہو۔ ایک نئے عالمی نظام میں ان سب کو نکیل ڈالنے کی ضرورت ہے جوجنگوں سے مال بناتے ہیں۔ اقتدار اور مال بنانے کے لئے جنگیں کراتے ہیں۔

دنیا کی اصل لڑائی جہالت، غربت اور بیماری سے ہے مگریہ دنیا آپس میں لڑے جا رہی ہے۔مجھے کہنے دیجئے کہ وہ ریاست کبھی اپنے لوگوں کو خوشحال زندگی نہیں دے سکتی اگر وہ اپنے وسائل کا بڑا حصہ امن و امان کے نام پر فوجوں کی تیاری اور ہتھیاروں کی خریداری پر خرچ کردیتی ہے۔ لوہے کے فضول سے ڈھیر ایک ٹینک کی قیمت میں کتنی ہی درس گاہوں کی عمارتیں بن سکتی ہیں، ایک جنگی طیارے کی قیمت میں لاتعدادشفا خانے بنائے جا سکتے ہیں۔ ہر ملک اپنی اپنی فوج کے بجٹ میں ترقی اور خوشحالی کے ڈھیر سارے منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکتا ہے مگر یہ سوچ ابھی ایک خواب ہی ہے کیونکہ دونوں اطراف میں ہی معصوم اور بے گنا ہ انسانوں کو ہسپتالوں، تفریح اور خریداری کے مراکز، کھیل کے میدانوں اور ان کے گھروں میں اجتماعی طور پر قتل کردینے کے جواز موجود ہیں۔ جب اتحادی طیارے حملہ آور ہوتے ہیں تو انہیں بھیجنے والوں کے پاس اپنی منطق اور اپنی وجہ ہوتی ہے اور دوسری طرف جب ان طیاروں کو بھیجنے والوں کے ہم وطنوں کو موت کے گھاٹ اتارا جاتا ہے تو وہ بھی کسی جذباتی عدالت میں اپنی زندگی کا مقدمہ ہارتے ہوئے موت کی سزا کے حقدار قرار دئیے جا چکے ہوتے ہیں۔ دونوں اطراف کے جوازئیے اگر اتنے ہی بہادر ہیں تو بے گناہ نہتے شہریوں پر ریاستی اور غیر ریاستی حملے بندکر دیں، اپنے اور اپنے مخالفوں سے مقابلے کے لئے بہت بڑاکولیزئیم تیار کریں۔اک دوجے کے اعضا کاٹیں ، ایک دوسرے پر روایتی ہی نہیں ایٹمی اور کیمیائی ہتھیار بھی د ے ماریں ۔ان جنونیوں میں سے جو جیت جائیں وہ ہارنے والوں کے سروں کے مینار تعمیر کریں اور ان پراپنے اقتدار کے تخت سجالیں مگرجو لوگ اپنے پیاروں کے ساتھ ایک تحفے کے طور پر ملی ہوئی زندگی ہنستے مسکراتے ہوئے گزارنا چاہتے ہیں، انہیں اپنے جنون کی سزا نہ دیں۔

مزید : کالم