مظفر گڑھ تھرمل پاور سٹیشن کا سفر

مظفر گڑھ تھرمل پاور سٹیشن کا سفر
مظفر گڑھ تھرمل پاور سٹیشن کا سفر

  

پا ک امریکہ تعلقات بھی عجیب ہیں۔ ویسے تو مظفر گڑھ تھرمل سٹیشن کی بحالی کے منصوبہ کی تکمیل کی تقریب کے موقع پر خود وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف بھی یہ کہہ رہے تھے پاک امریکہ تعلقات نے بہت سے نشیب و فراز دیکھے ہیں۔ یہ ایک سے نہیں رہے کبھی اونچے اور کبھی نیچے رہے ہیں۔ امریکہ نے پاکستان کو دل کھول کر امداد بھی دی ہے، لیکن پابندیاں بھی لگائی ہیں۔ اسی نشیب و فراز نے عوام کے دل میں امریکہ کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا کئے ہیں۔ اسی وجہ سے عوام میں امریکہ کے ساتھ محبت و نفرت کا ایک عجیب رشتہ بن گیا ہے۔ ہم بیک وقت امریکہ کے اتحادی بھی ہیں۔یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ہم نہ تو امریکہ کے بغیر رہ سکتے ہیں۔ اور نہ ہی امریکہ کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ اگر ہمارے ارباب اقتدار امریکی امداد اور سرمایہ کاری کھا گئے ہیں۔ تواس میں امریکیوں کا کیا قصور ہے۔ لیکن ہم شاید اس کابھی امریکیوں کو ہی قصوروار سمجھتے ہیں۔

پاکستان میں ہر طرف پاک چین اقتصادی راہداری کا چرچا ہے،یہ ایک بڑا منصوبہ ہے۔ اس کے تحت ملک میں ایک بڑی غیر ملکی سرمایہ کاری ممکن ہو رہی ہے۔ لیکن اس سارے نے ایک ایسا تاثر بھی قائم کر دیا ہے کہ اس وقت پاکستان صرف چینی منصوبوں پر ہی کام ہو رہا ہے۔ ہمارا باقی تمام دنیا سے رابطہ ختم ہو گیا ہے۔ اور کسی کو ہم میں اور نہ ہی ہم کو کسی میں کوئی دلچسپی رہی ہے۔ بالخصوص بجلی کے منصوبوں کے حوالہ سے یہ تاثر زور پکڑرہا ہے کہ صرف چین پاکستان میں بجلی کے منصوبے لگا رہا ہے۔ لیکن گزشتہ روز وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے ساتھ مظفرگڑھ تھرمل پاور سٹیشن کی بحالی کے منصوبہ کی تکمیل پر منعقدہ تقریب میں جانے کا موقع ملا تو اس ضمن میں میرا سارا تاثر ہی بدل گیا۔ مجھے مظفر گڑھ جا کر احساس ہوا کہ بجلی کے منصوبوں میں صرف چین نہیں بلکہ امریکہ کی سرمایہ کاری و امداد بھی کسی سے کم نہیں ہے۔ مظفر گڑھ تھرمل پاورسٹیشن کو حکومت نے امریکی تعاون سے بحال کیا ہے۔ پاکستان میں اس وقت بجلی کے نئے منصوبے تو روز لگ رہے ہیں۔ ان نئے منصوبوں کے ٹینڈر اور افتتاح کی تقریبات بھی زوروں پر ہیں۔ لیکن مظفر گڑھ پہنچ کر ہی احساس ہوا کہ جہاں نئے منصوبے لگانے ضروری ہیں۔ وہاں پرانے منصوبوں کی بحالی اور ان کی کارکردگی کو بہتر بنانا بھی بہت ضروری ہے۔ مظفر گڑھ تھرمل پاور سٹیشن کی بحالی سے اس میں پانچ سو میگاواٹ اضافی بجلی ممکن ہوئی ہے۔ جب مظفر گڑھ تھرمل سٹیشن قائم ہوا تھا تو اس میں 1350میگاواٹ بجلی بنتی تھی۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس کی استطاعت کم ہو کر 650میگاواٹ رہ گئی۔ اس طرح اس بات کاخدشہ تھا کہ اگر اس منصوبہ کی بحالی کا کام نہ کیا گیا تو یہ بند ہو جائے گا۔ اس لئے حکومت نے امریکی تعاون سے اس منصوبہ کی بحالی پر 15.77 ملین ڈالر خرچ کئے ہیں۔جس سے اس کی ا ستطا عت دوبارہ بڑھ کر 1150 میگاواٹ ہو گئی ہے۔میرے نزدیک یہ سوال بھی اہم تھا کہ ہم اس پرانے منصوبے پر اتنے پیسے کیوں خرچ کررہے ہیں۔لیکن جب یہ بتا یا گیاکہ اگر اس وقت تھرمل کا پانچ سو میگاواٹ کا نیا منصوبہ لگا یا جائے تو اس کی لاگت کسی بھی طرح پانچ سو ملین ڈالر سے کم نہ ہو تی۔ جبکہ اب ہم نے صرف پندرہ ملین ڈالر کی خطیر رقم سے نہ صرف اس منصوبہ کو بحال کر لیا ہے۔ بلکہ پانچ سو میگاواٹ اضافی بجلی بھی حاصل کر لی ہے۔ جب میاں شہباز شریف اس پر امریکی حکومت کا شکریہ ادا کر رہے تھے۔ تو سٹیج پر بیٹھے امریکیوں کے چہرے پر اطمینان نظر آرہا تھا ۔ کہ چلو شکر ہے کہیں امریکہ کو نیک نامی بھی تو ملی۔یہ بھی حقیقت ہے کہ امریکی امداد کے بجلی کے حوالہ سے ان مختلف منصوبوں سے اب تک 1700میگاواٹ بجلی نظام میں پہنچ چکی ہے۔ میرے علم میں مظفرگڑھ پہنچ کر یہ بھی اضافہ ہوا ہے کہ امریکی صرف مظفر گڑھ ہی نہیں اس کے ساتھ جام شورو اور گڈو کے پاو ر پلانٹس کی بحالی کا کام بھی کر رہے ہیں۔

امریکہ پاکستان میں صرف بجلی کے پرانے منصوبوں کی بحالی کا کام ہی نہیں کر رہا بلکہ میاں شہباز شریف نے یہ کہہ کر حیران کر دیا کہ امریکہ پاکستان میں 3000 میگاواٹ کے کلین انرجی کے منصوبے بھی لگا رہا ہے۔ جو اگلے تین سال میں مکمل ہو جائیں گے۔ اس طرح مظفر گڑھ میں تھرمل پاور سٹیشن کی تقریب سے یہ بات تو منظر عام پر آئی کہ پاکستان میں انرجی کے شعبہ میں صرف چین نہیں بلکہ باقی دنیا بھی سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ یہ بات بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ تقریب میں شریک امریکہ کی ایجنسی برائے انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ کے مشن ڈائریکٹر جان گرورک اور لاہور میں امریکی قونصل جنرل ہارکن رائیڈر نے حکومت پنجاب کے تعاون کی جہاں تعریف کی وہاں ملک بھر میں لگنے والے بجلی منصوبوں میں وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے کردار اور ان کی کاوشوں کی بھی بے پناہ تعریف کی۔اور ان کا کہنا تھا کہ میاں شہباز شریف کے تعاون کے بغیر ان منصوبوں کی تکمیل ممکن نہیں تھی۔ بہر حال یہ بات اپنی جگہ حقیقت ہے کہ ماضی میں منصوبے بنتے تو تھے لیکن مکمل نہیں ہوتے تھے۔ لیکن اب مکمل بھی ہو رہے ہیں۔

پاک چین اقتصادی راہداری کی اہمیت اپنی جگہ۔ لیکن اس کے ساتھ پاکستان ایک کا میا ب ملک تب ہی بن سکتا ہے جب ہم سب ملکوں کے ساتھ کام کریں۔ جب ساری دنیا پاکستان میں سر مایہ کاری کرے گی تب ہی ساری دنیاکے دروازے ہم پر کھلیں گے۔ روسی سرمایہ کاری کے دروازے بھی کھل رہے ہیں۔ تا ہم امریکی سرمایہ کاری کی اپنی اہمیت ہے۔ جس سے کسی بھی طرح انکار ممکن نہیں۔

مزید : کالم