اقبال سے بھی بڑھ کر اقبال کی ضرورت

اقبال سے بھی بڑھ کر اقبال کی ضرورت

امام ابنِ تیمیہؒ کی جلالت،ثقاہت اوربغاوت نے مسلم فکر میں جو اتھل پتھل اور ہلچل مچائی تھی۔۔۔اس کے اثرات صدیوں محسوس کئے جاتے رہے ۔نگاہ بینا اور قلب وسعت کا نقیب ہو تو صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ ان ارتعاش کی لہروں کا سلسلہ ابھی تھما نہیں۔دہلی سے شاہ ولی اللہ ہو،افغان سر زمین سے جمال الدین افغانی ہو ،مصر کی دھرتی سے مفتی عبدہُ ہو یا پھر سیالکوٹ کی سر زمین سے اٹھنے والا علامہ اقبال۔۔۔ان سبھوں کی فکری اٹھان اور نظری مچان پر ابنِ تیمیہ ؒ کی جھلک اور رنگ وآہنگ کے اثرات صریح دیکھے جا سکتے ہیں۔اقبال کے خطبات ،مکاتیب اور سوالات میں آج بھی اتنی حدت اور حرار ت موجود ہے کہ اگر مفکرین و متفکرین انہیں غورو فکر کا موضوع بنائیں تو کسی نئی ابتداکا اہتمام یا احیائے نو کاامکان ممکن ہے۔گو ان کے خطبات و سوالات کو پون صدی بیت چکی لیکن مسلم ذہن آج بھی اپنے آپ کو چبھتے ہوئے سوالات کی زد میں پاتا ہے ۔سطح بیں نظریں تعطیلِ اقبال میں ہی الجھ کررہ گئی ہیںیا پھر بزعم خویش ثقہ دانشور تو ان کی ذہنی معراج و منتہا یہی کہ وہ اقبال کی شاعری پراپنا عامیانہ سابیان سپرد قلم کر دیں اور بس۔اقبالیات پر ہمارے شارحین یا عبقرین نے بہت کام بھی کیا تو ۔۔۔احساس و ادراک یہی رہا کہ ہمارے بڑے ابھی اپنی ناک سے آگے دیکھنے کی صلاحیت نہیں پاتے۔تنقیدی مطالعہ یا پی ایچ ڈی کے مقالہ میں بھی حال بعینہٖ رہا کہ اقبال پر بے تکے اور بے مغز صفحات کے صفحات سیاہ کر دیئے جائیں اور داد پائیں۔زندگی کی ہماہمی اور چہل پہل میں کسے فرصت کہ وہ مروج فکری چوکھٹے اور متداول نظری ڈھانچے سے اوپراٹھ کر اقبال کا تحلیل وتجزیہ کرے۔

مسلم ماخذ و مصادر میں اقبال پہلے آدمی ہیں جنھوں نے اسلامی فقہ کے متعلق سوالات اٹھائے۔وہ سوالات اٹھانے کی صلاحیت سے خوب متصف تو تھے ہی۔۔۔انہیں سوالات کو سلیقے سے سنبھالنا بھی آتا تھا ۔کہا جاتا ہے کہ درست سوال اٹھانابھی جواب کے قائم مقام ٹھہرا۔وادریغا کہ وہ جواب دینے کی خوبی سے تہی دامن تھے کہ اس ضمن میں ان کی جیب اور جھولی خالی تھی ۔بقول ڈاکٹر راشد شاز ۔۔۔’’اقبال صرف brain -stormingکے ماہر تھے ۔انہیں پریشان کن سوالات کے کناروں کو تیز کرنا تو ضرور آتا تھا البتہ وہ ان سوالات کاجواب تلاش کرنے میں اس اعتماد سے خالی تھے جو کتب فقہ کی ضخیم مجلدات سے ڈرنے والوں کی نفسیات سے عبارت ہے ‘‘۔(ادراک زوال امت۔ج1 ۔ص352)اجتہاد کے جدید داعیوں میں بھی وہ منفرد اور ممیزآدمی ہیں جنھوں نے راست جرات کے ساتھ متعدد مسلمات کا محاسبہ کیا ۔انہوں نے اجماع اور قیاس کا حق فرد کی بجائے ادارے کے سپرد کرنے کی بات کی ۔یہ الگ بات وہ عمر بھر ان مسائل سے ہی ا لجھا کئے کہ قیاس اور اجماع کی آخری سرحد آخرہے کہاں ؟

مشہورِزمانہ خطبہ اجتہاد میں اقبال نے سوال اٹھایا کہ جب قرآن مجید ایک مکمل کتاب ہدایت ہے اور وہ اپنے اندر کلی و کامل رہنمائی کا سامان رکھتی ہے تو ہم غیر مسلم اقوام کا جائزہ خالص قرآنی نقطہ نظر سے کیوں نہ لیں؟اس کے لئے مناسب اور موزوں طریقہ کار کیا ہو ؟اس مسئلہ کو بھی انہوں نے غورو فکر کا محور گردانا۔اقبال کے اس سوال کی سریت میں سرالاسرار چھپا پڑا ہے کہ اصولی طور پر تو علماء و فقہاء یہی کہتے ہیں کہ وحی الہی حتمی اتھارٹی ہے لیکن عملی طور پر ان کے تمام فتوے اور فیصلے فقہ کی بنیاد پر ہی ہوا کئے۔وہ خوب واقف تھے کہ ’’سنت‘‘کے نام پر صحاح ستہ کے جو موٹے موٹے مجموعے مرتب ہوئے ہیں۔۔۔حقیقت میں انہی کی اجارہ داری اور فرمانروائی ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ اجماع کے ذریعے قرآنی نص کالعدم یا معطل کی جا سکتی ہے؟جیسا کہ چند حنفی علماء کا کہنا اور متعدد معتزلی علماء کا موقف ہے۔مثال کے طور پر انہوں نے کہا کہ کیا یہ ممکن ہے موجودہ پسِ منظر میں احکام وصیت میں کوئی تغیر و تبدل کیا جائے؟

انہوں نے کمال جرات سے سوال اٹھایا فقہاء جب قرآنی آیات کی تخصیص یا تعمیم کا حکم برآمد کرتے ہیں اور اس کے لئے اجماع سے دلیل لاتے ہیں تو ایسا کرنے کا استحقاق انہیں کن بنیادوں پر ہوتا ہے ؟انہوں نے سوال کی ہتھیلی پھیلائی کہ کوئی مائی کا لال تو جواب کا سکہ دھرے کہ ہم آسمانی وحی اور حدیث کے مابین کس طرح خطِ امتیاز قائم کرسکیں گے؟نفسیاتی اعتبار سے وحی غیر متلو کی تعریف کیا ہو گی؟کیا عہدِنبوی میں وحی متلو اور وحی غیر متلوکی تفریق و تقسیم موجود تھی؟یایہ بعد کی پیداوار ہے؟آگے چل کر انہوں نے سوالات کی دھار مزید تیز کرنا چاہی کہ منصبِ امامت پرفر د کو ہی متمکن کیا جا سکتا ہے یاافراد کا ایک گروپ بھی مشترکہ طور پر اس ذمہ داری کو انجام دے سکتا ہے؟کیا مسلمانوں کے امیر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ حدودِ قرآنی مثلاًچور کے لئے قطع ید کی سزا وقتی طور پر معطل کر دے؟اگر ہاں تو اس کی قرآنی بنیاد کیا ہے ؟خلیفہ ثانی کا طلاق ثلاثہ کا اقدام کس حد تک مناسب تھا اور اس کی شرعی بنیاد کیا ہے؟دراصل ان سوالات کے توسط سے اقبال دراصل یہ پوچھنا یا جاننا چاہ رہے تھے کہ اسلامی ریاست کا دستور اپنے حاکم کو اس طرح کے وسیع اختیارات دے سکتا ہے یا نہیں؟فقہ کے چھتناور شجر کی بنیادوں پر تیشہ چلاتے ہوئے انہوں نے پوچھا کہ مالکیہ ،حنفیہ اور شیعہ کے مابین نماز جیسی متوارث عبادت میں اس قدر فقہی اختلافات کا آخر سبب کیا ہے ؟(جاوید اقبال۔زندہ رود لاہور۔1984ء ج 3ص348)

مضطرب طبیعت کے مالک اقبال کے لئے روایتی مولوی حسین احمد مدنی سے لو ہا لینا تو آسان تھا کہ جمہور میں ان کا شعور استناد رکھتا تھا۔اپنے ہی اٹھائے ہوئے سوالات کے جوابات کی تلاش میں مگر انہوں نے قدامت پرست عالموں پر ہی تقیہ کیاکہ خود جواب حاصل کرنے کے لئے پرانی اور موٹی موٹی کتابوں کی ورق گردانی اور ان کے ابہام و سقام کو سمجھنا خاصا کٹھن جوتھا۔گویا اقبال بھی فکری التباسات ،نظری سقامات،مسلکی تشتت اورفقہی تشنج کا علاج اسی طرق اور سبیل سے کرنا چاہتے تھے جس طریقے اور راستے سے یہ درآئے تھے۔یہ بھی عجب ستم کہ سر سید نے بھی ان لوگوں سے راست ٹکر لی لیکن بعد میں اپنے صلح جو مزاج کے مطابق یا مزید فتوؤں کے ڈر سے علی گڑھ میں دینیات کا شعبہ انہی مولویوں کے حوالے کر دیا ۔دانائے راز،حکیم الامت،شاعر مشرق اورمفکر اسلام ایسے خطابات و القابات سے نوازے جانے کے باوجودیہ لوگ اقبال کی مجتہدانہ قیل وقال سے راضی بھی کب تھے ۔کہا جاتا ہے کہ عبدالماجد دریا آبادی نے اقبال کے خطبہ اجتہادکابہت برامنایاتھا۔(عبدالماجد دریا آبادی ’’اقبال‘‘ اقبالیات ماجد۔ص ۔9 اقبال اکیڈیمی حیدرآباد۔1979ء)لو جی ماجد پر ہی کیا موقوف !ابوالحسن علی ندوی کے بقول سید سلیمان ندوی کو گوارا نہ تھا کہ اقبال کے انگریزی خطبات جو ان کے اجتہادی غوروفکر کا نچوڑ ہیں ۔۔۔انہیں شائع ہی کیا جاتا۔(نقوش اقبال۔ص40۔کراچی۔1973ء)

تفصیل مت پوچھ ،ہیں اشارے کافی

یہ کہانیاں یونہی کہی جاتی ہیں

اقبال پہلے آدمی نہ تھے جنہیں یہ احساس ستائے مارتا تھا کہ مسلمانوں کی مذہبی اورفقہی زندگی ایک نئی زندگی چاہتی ہے ۔وہ اپنی تمام تر سعی مسعود کے باوجود اگر کسی فجر جدید کا ڈول ڈالنے میں ناکام رہے تو اس کا بنیادی و جوہری سبب اس کے سوا کیا تھا کہ وہ مسلم ماخذات اور متعلقات سے راست واقفیت نہ رکھتے تھے ۔پھر ان کے ساتھ عجب واقعہ ہوا کہ وہ اپنے اکثر استفسارات مطالعہ مستشرقیات کے حوالے سے ہی پیش کیا کئے کہ جس سے خواہ مخواہ یہ تاثر ابھرتا کہ ان سوالات کی جڑیں اسلام کی دانشوارانہ ثقافت میں نہیں ملتیں۔عجب واقعہ کو تو چھوڑیئے کہ رہی سہی کسر انہوں نے اجماع کا حق منتخب اسمبلی کو سونپنے کا خاکہ پیش کر کے پوری کر ڈالی تھی۔اللہ ری قیامت!اس سے تو فقہاء و علماء کی جان جاتی تھی کہ یہ ایک ایسا مہیب خواب تھا جس کی تعبیر سے انہیں اپنا اقتدار ہاتھوں سے جاتا صاف دکھائی پڑتا تھا۔اس کے ساتھ اہل فکر و نظر کو یہ بھی صاف دکھائی دیتا ہے کہ آج ہمیں اقبال سے بھی بڑھ کر ایک اقبال کی ضرورت آن پڑی ہے کہ منجمد سماج میں کوئی تو ہو جو سوالات کے بعد جوابات بھی عنایت کرے۔آخری تجزیے میں خاموش رہئے یا پھر جادوگر شاعر کا شعر سنیے اور سر دھنیے:

غالب اک خاص ادا سے ہوا ہے نکتہ سرا

صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لئے

مزید : کالم