اندر سے کچھ، باہر سے کچھ

اندر سے کچھ، باہر سے کچھ
اندر سے کچھ، باہر سے کچھ

  

پاکستان میں جہاں مختلف نوعیت کے سنگین جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے، وہاں رشوت، کمیشن مافیا اور سرکاری محکموں میں فراڈ اور جعلسازی کے عنصر میں بھی بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ رشوت اور کمیشن کی روش نے اب سرکاری محکموں کے سربراہوں، حتیٰ کہ اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کو بھی،اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ آئے روز ایسی خبریں منظر عام پر آتی ہیں اور میڈیا کی زینت بنتی ہیں، جنہیں سن کر ہی سر شرم سے جھک جاتے ہیں۔ شرم نہیں آتی تو اُن کو جو سیاست میں ہیں، سیاست بھی کرتے ہیں اور سیاست کے طفیل اعلیٰ حکومتی عہدے حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہو جاتے ہیں۔ قومی خزانے پر اپنا ہاتھ صاف کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں ایسے افراد کو ’’قابو‘‘ کرنے کے لیے سخت قوانین تو ضرور موجود ہیں۔ ہتھکڑیوں کا زیور بھی پہنایا جاتا ہے۔ جیل بھی ایسے لوگوں کو جانا پڑتا ہے۔ لیکن یہ سب کچھ اُس وقت فضول سا ہو جاتا ہے۔ جب یہ لوگ انتہائی صفائی کے ساتھ اپنے آپ کو اِن تمام ’’معاملات‘‘ سے بچا لیتے ہیں۔ سزا تو دُور کی بات، اُن کا بال تک بیکا نہیں ہوتا۔کسی پر بھی انگلی اُٹھا لیں، کچھ بھی کہہ لیں، سوال پھر وہی ہے کہ رشوت، کمیشن اور جعلسازی کے نتیجے میں ناانصافی کا جو نظام قائم و دائم ہے، وہ کب ختم ہو گا؟

رشوت اور کمیشن سے نا انصافی جنم لیتی ہے اور معاشرے کبھی ناانصافی پر مبنی نظام سے قائم نہیں رہتے۔ ہم گزشتہ 60سال سے اسی ناانصافی پر مبنی نظام کے تابع ہیں۔ امیر، امیر سے امیر تر اور غریب، غریب سے غریب تر، ہوتا جا رہا ہے۔ جس سے پورے نظام اور معاشرے میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ جو اب اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ لوگوں نے پوچھنا شروع کر دیا ہے کہ جمہوریت کا دعویٰ کرنے والے کب ایسا نظامِ حکومت یا نظامِ جمہوریت لائیں گے جس میں وہ کچھ نہ ہو گا، جو آج ہم دیکھ رہے ہیں اور جو ہمارے مقدر کا لازمی جزو بن گیا ہے۔ اس سے مایوسی پھیل نہیں رہی، پھیل چکی ہے۔ نیب، احتساب بیورو اور اینٹی کرپشن جیسے ادارے ملک بھر میں موجود ہیں اور اپنا اپنا کام کر رہے ہیں۔ لیکن کیا اپنے فرائض اور اختیارات میں اُن کا کوئی فعال کردار بھی ہے تو اس کا جواب ہمیشہ نفی میں ہی ہو گا۔ اُن کے نیگیٹو یا غیر فعال کردار کا ہی نتیجہ ہے کہ رشوت اور کمیشن ہمارے تمام سرکاری محکموں اور وزارتوں میں اس قدر عام ہے کہ رشوت یا کمیشن دئیے بغیر کوئی جائز کام بھی نہیں ہو سکتا۔

سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی ہوں یا راجہ پرویز اشرف، ہر ایک پر سنگین الزام لگے ہیں۔ کئی وزیر بھی نہیں بچ سکے۔ یعنی سب کمیشن اور مالی اسکینڈل کے حمام میں ننگے نظر آتے ہیں۔ اُن کے خلاف ایک نہیں کرپشن اور مالی بدعنوانیوں کے کئی مقدمات ہیں جو عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، کئی کی تحقیقات بھی ہو رہی ہیں۔

ضرور پڑھیں: اسد عمر کی چھٹی

جب بھی بات ہوتی ہے گیلانی صاحب اور راجہ پرویز اشرف کی، وہ یہی کہتے نظر آتے ہیں کہ اُن کے خلاف تمام کیسز سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے ہیں۔ یعنی سیاسی انتقام کا نتیجہ ہیں۔ تمام معاملات اب چونکہ عدالتوں میں ہیں، اس لیے اب عدالتیں ہی خود دیکھ لیں گی کہ ان دونوں صاحبان کے اس الزام یا مؤقف میں کس حد تک صداقت ہے کہ کیا وہ واقعی سیاسی انتقام کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ میں تو یہ سوچتا ہوں کہ انہیں کیوں کوئی سیاسی انتقام کا نشانہ بنائے گا۔ وہ موجودہ حکومت کا کیا بگاڑ رہے ہیں، یا بگاڑ سکتے ہیں۔ پھر یہ انتقام کیسا؟

احتساب عدالتیں اپنا کام کر رہی ہیں اور وہ ادارے بھی جو اس قسم کے کیسز کی تحقیقات کے لیے مامور ہیں۔ تاہم کسی بھی انویسٹی گیشن کو اُس کے انجام تک پہنچانے کے لیے شہرت یا شواہد کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے۔ تاہم ہمارے نزدیک کسی بھی کرپٹ شخص کی کرپشن یا ناجائز ذرائع سے حاصل کی جانے والی دولت کو جانچنے کا ایک مسلّمہ راستہ، اصول یا طریقہ یہی ہے کہ جان لیا جائے اگر وہ شخص واقعی کرپٹ ہے، اُس کی ملکیتی پراپرٹی، طرزِ زندگی اور بینک اکاؤنٹس اس کی آمدن سے زیادہ ہوں گے، اگر اس کے 10یا 20سال پہلے کے ذریعۂ معاش، طرزِ زندگی اور رہن سہن کا جائزہ لے لیا جائے اور اس کی مکمل تفصیلات حاصل کر لی جائیں تو چنداں مشکل نہیں، تو ہر چیز، کرپشن، مالی بدعنوانی با آسانی سامنے آ سکتی ہے۔ میں ایک اہم شخصیت کو ذاتی طور پر جانتا ہوں جس کا رہن سہن چند سال پہلے انتہائی عام لوگوں جیسا تھا لیکن جیسے ہی وہ اقتدار میں آئے اور ایک بڑے عہدے پر براجمان ہوئے تو اُن سمیت اُن کے بچوں کا طرزِ زندگی ہی بدل گیا۔ وہ رکشوں سے بڑی گاڑیوں میں آگئے، او ر محلوں جیسا گھر اُن کی اقامت گاہ بنا۔ اثاثے بھی بڑھ گئے اور بینک اکاؤنٹس بھی۔ یہ صرف ایک مثال ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ ایسی کئی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔

پاکستان سے رشوت، کرپشن اور سرکاری محکموں میں سرکاری افسروں اور اہلکاروں کی رشوت ستانی کے واقعات جب تک ختم نہیں ہو جاتے، ہم تصور ہی نہیں کر سکتے کہ نئے پاکستان کا تصور شرمندۂ تعبیر ہو سکے گا، معاشرے میں وہ امن و سکون آ سکے گا جس کی خواہش ہم سب رکھتے ہیں۔ اگرچہ موجودہ دورِ حکومت میں احتساب کے عمل سے نظر آتا ہے کہ شاید حکومت اور احتساب پر مامور ادارے اسے ختم کرنے کی خواہش اور ضرورت محسوس کرتے ہیں لیکن یہ اُس وقت ممکن ہو گا، جب احتساب، بے حساب اور بے دریغ کیا جائے۔ چاہے احتساب کی زد میں کوئی بھی آ جائے۔ احتساب کو ہر لحاظ سے بے رحم ہونا چاہیے۔

مزید : کالم