یورپین مسلم کونسل:جانبِ منزل رواں دوں

یورپین مسلم کونسل:جانبِ منزل رواں دوں

مغرب میں اسلام اور مسلمانوں کی موجودگی محض سکونت سے متعلق معاملہ نہیں۔ اہم تر نکتہ یہ ہے کہ مغرب میں مسلم آبادی کی بدولت مغرب کی تہذیبی، نظریاتی، معاشی حتیٰ کہ سیاسی زندگی بھی مالامال ہوئی ہے۔ مغرب میں مسلم آبادی ایک ایسے پل کی مانند ہے، جس سے عالم مغرب اور عالم اسلام کے مابین بہتر سیاسی، معاشی اور ثقافتی تعلقات قائم اور مضبوط ہو سکتے ہیں۔ یورپ میں مسلمانوں کو درپیش مسائل سے نبردآزما ہونے کے لئے یہ لازم ہے کہ مسلمان اسلامی ماخذ کی نوعیت اور ان کے بنیادی مسلمات کو مدنظر رکھیں۔ اسلام کے پاس آفاقی اصول موجود ہیں ،جن کی روشنی میں ہم دور جدید کے مسائل سے نمٹ سکتے ہیں۔ بعض اندازوں کے مطابق اس وقت صرف مغربی یورپ میں مسلمانوں کی آبادی 20ملین (دو کروڑ) ہے۔ تمام مغربی ممالک میں مسلمان، اقلیت کے طور پر زندگی بسر کر رہے ہیں۔ یورپ میں اسلام کے حوالے سے بڑی حد تک لاعلمی پائی جاتی ہے اور اکثر باشندے دیگر مذاہب کے بارے میں واجبی سا علم رکھتے ہیں۔ مغربی باشندے اسلام کو دہشت گردی، انتہا پسندی، بنیاد پرستی کا نام دیتے ہیں۔ برطانیہ میں کئے جانے والے جائزے/سروے You Govکے اعداد و شمار کی روشنی میں: 58فیصد افراد کے مطابق اسلام کا تعلق انتہا پسندی اور 50فیصد کے مطابق دہشت گردی سے ہے، 69فیصد افراد کی رائے میں اسلام عورتوں پر ظلم کی ہمت افزائی کرتا ہے، 13فیصد افراد کی رائے میں اسلام کا تعلق امن سے، جبکہ صرف 6فیصد افراد کی رائے ہے کہ اسلام کا تعلق انصاف سے ہے۔۔۔ (یورپ کے مسلمان مسائل /مواقع۔ برطانیہ، اے۔ آر صدیق)

انگلستان کی مذکورہ بالا صورت حال کم و بیش دیگر یورپی ممالک کی بھی عکاس ہے۔یورپ میں مسلمان اور اسلامی طرز زندگی ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کی جاتی ہے۔ تمام مسائل اور درپیش چیلنجوں کے باوجود مسلمانوں کی آبادی، اسلامی مراکز کی تعمیر، نسل نو کی دینی تعلیم و تربیت کے لئے اسلامی سکولوں کا نظام،کاروباری مراکز کی بڑھتی ہوئی تعداد ایک باوقارمستقبل کی نوید ہے۔ گزشتہ صدی کے عظیم مفکراسلام مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ اور تربیت و تزکیہ کے عظیم استاد امام حسن البنا کی فکر نے لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کو بدلا ہے اور دنیا بھر میں اس قافلۂ حق کے ساتھی دعوت دین، اصلاح معاشرہ اور اسلامی اجتماعیت کے قیام کے لئے مقدور بھر کوششوں میں مصروف ہیں۔ دُنیا بھر کی اسلامی تنظیموں کا مشترکہ مقاصد کے حصول کے لئے سالانہ اجلاس ایک خوب صورت تحریکی روایت ہے۔ ان ہی خوب صورت تحریکی روایات کو بنیاد بناتے ہوئے یورپ بھر کے تحریکی حلقہ جات کا مشترکہ پلیٹ فارم 2010ء سے یورپین مسلم کونسل (ای ایم سی)کے نام سے عظیم مقاصدکے حصول کے لئے سرگرم عمل ہے۔ ان اجتماعات میں دین اسلام کی سربلندی کے لئے تڑپ اور فکر مندی سے خاص قسم کی لذت حاصل ہوتی ہے۔

یورپین مسلم کونسل کی جنرل باڈی کا چھٹا سالانہ اجلاس جرمنی کے شہر ہمبرگ میں 25تا 27 ستمبر منعقد ہوا، جس میں یورپ کے اہم ممالک ڈنمارک، جرمنی، سویڈن، ناروے،سپین، اٹلی، یونان، برطانیہ، فرانس اور آئرلینڈ کے ذمہ داران نے شرکت کی۔ اجلاس میں تزکیہ و تربیت کے لئے دروس قرآن و حدیث، مسنون دعاؤں و اعمال کی تذکیر، باہمی محبت و مودت کے لئے پُرتکلف کھانے، دعوتی تنظیمی کام کا جائزہ، اسلام اور مغرب ، اسلامی ادارہ جات کی اہمیت اور دور جدید میں کام کرنے کا موثر طریقہ، یورپین مسلم کونسل کے سالانہ منصوبۂ عمل کی روشنی میں کام کا جائزہ اور لیڈر شپ کی تیاری، دعوتی پراجیکٹس، تنظیمی تقسیم کار، مسلم نوجوانوں کی تعلیم و تربیت، تحفظ خاندان منصوبہ جات جیسے اہم ترین موضوعات پر تبادلۂ خیالات اور معیاری لیکچرز کا اہتمام کیا گیا۔ یورپین مسلم کونسل، یورپ بھر کی اسلامی تنظیموں کا مشترکہ پلیٹ فارم ہے، جو تنظیم سے کہیں زیادہ یورپ میں مسلم شناخت کے تحفظ کے لئے ایک نظریاتی تحریک ہے۔ یورپ میں نئی مسلم قیادت کی تیاری وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، جو مسلمانوں کے مسائل سے بخوبی واقف ہو اور ہر قسم کے گروہی، مسلکی اور فقہی اختلافات سے بالاتر ہو کراتحاد اُمت کے لئے کام کرے۔یورپین مسلم کونسل کا تعارف: یورپین مسلم کونسل کا مقصد یورپ میں اسلام کے درست تصور کو اجاگر کرنا ہے۔ اس میں کسی قومی، مسلکی یا گروہی عصبیت کا دخل نہیں۔یہ پورے یورپ میں اسلامی اقدار کو متعارف کرنے کی پابند ہے۔

ہمارا وژن ہے:

*۔۔۔دستیاب وسائل کی مدد سے اسلام کے اصولوں اور اقدار کی بہترین ترجمانی اور تعارف۔

*۔۔۔یورپ اور بین الاقوامی مسلم اداروں اور تنظیموں کے ساتھ باہمی اشتراک اور تعلقات کا قیام تاکہ مشترکہ مقاصد کے حصول میں آسانی ہو۔

*۔۔۔ یورپ میں اپنی دینی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ اجتماعی زندگی میں اس اعتبار سے شرکت کہ انسانی فلاح و بہبود کے مشترک مقاصد کی تکمیل ہو۔

*۔۔۔یورپی معاشروں میں مسلمانوں کی مثبت ہم آہنگی کی ہمت افزائی اور کاوش۔

*۔۔۔یورپ کی معاشرتی اور معاشی زندگی میں تعاون اور اشتراک کی ترویج کے لئے خاندانوں، نوجوانوں، تعلیم اور ہنر کی حوصلہ افزائی کرنا۔

مذکورہ وژن کی تعبیر کے لئے ہم درج ذیل مقاصد کی تکمیل چاہتے ہیں:

*۔۔۔یورپ کے مسلمانوں کی اس لحاظ سے مدد کہ وہ اپنے مذہبی فرائض ادا کریں، اپنا ثقافتی تشخص برقرار رکھیں اور اپنے معاشرتی، سیاسی اور مذہبی معاملات انجام دیں۔

*۔۔۔رکن تنظیموں کے تجربے اور کارکردگی میں اضافہ تا کہ اشتراک اور تعاون کی نئی اور بہتر راہیں کھلیں۔

*۔۔۔یورپین یونین کے وسیع تر تناظر میں مسلمانوں کو اس طور پر فعال بنانا کہ ان کے مفادات کا حصول ممکن ہو۔

*۔۔۔یورپ کے اداروں اور مراکز اقتدار میں مسلمانوں کی نمائندگی کے لئے کوشش۔

*۔۔۔پورے یورپ میں اسلام کو بحیثیتِ سرکاری مذہب تسلیم کروایا جانا۔اس سے یورپی مسلمانوں کے تشخص کو محفوظ رکھنے میں بہت مدد ملے گی۔

*۔۔۔مسلمانوں اور دیگر افراد میں ثقافتی اور تہذیبی مکالمہ تا کہ باہمی گفت و شنید ہو اور معاشرتی ہم آہنگی اور یگانگت پیدا ہو۔

*۔۔۔ایسی تمام کوششوں سے تعاون، جن کا مقصد آزادی، انسانی حقوق اور عزت نفس کا تحفظ ہو۔ نسلی تعصب اور تشدد کا انسداد ہو۔

*۔۔۔جس معاشرے میں مسلمان مقیم ہیں، ان سے مثبت تعلق مضبوط ہو۔

یو کے آئی ایم کے نائب صدر محترم میاں عبدالحق صاحب یورپین مسلم کونسل کی صدارت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ اسلامک کلچرل سنٹر ناروے کے سابق صدر، سنت نبوی ؐ سے مزین چہرہ اور روشن آنکھیں رکھنے والے محترم اخلاق احمد صاحب نائب صدر، ڈنمارک کی معروف سماجی شخصیت، اسلامی تحریک کے روح رواں محترم امتیاز احمد سیویافنانس سیکرٹری اور اسلامک سوسائٹی، اٹلی کے ہر دم متحرک رہنے والے محترم سجاد حسین بھٹی سیکرٹری جنرل، مغربی معاشرے میں صحافتی سرگرمیوں کے نقیب، اسلامی تحریک برلن جرمنی کے محترم رخسار احمد انجم اسسٹنٹ سیکرٹری کے طور پر کام کر رہے ہیں:

چھوٹا آغاز مسلسل ترقی کے زریں اصول کو بنیاد بناتے ہوئے یورپین مسلم کونسل کا قافلۂ حق جانب منزل رواں دواں ہے۔

مزید : کالم