اوبامہ اور پیوٹن کا داعش کے خاتمے ،شام تنازع کے سیاسی حل پر اتفاق

اوبامہ اور پیوٹن کا داعش کے خاتمے ،شام تنازع کے سیاسی حل پر اتفاق

 واشنگٹن،انقرہ (مانیٹرنگ ڈیسک)’’دیر آئیددرست آئید‘‘ پیرس حملوں نے دو بڑے حریفوں کوایک میز پر بٹھا کر سر جوڑنے پر مجبورکردیا۔داعش کے خاتمے اور شام کے مسئلے کے حل کیلئے امریکی صدر بارک اوباما نے ترکی میں جی 20 اجلاس کے موقع پر روسی صدر ولادی میر پیوٹن سے ملاقات کی ہے۔وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ ملاقات 35 منٹ تک جاری رہی جس میں شام میں جاری خانہ جنگی پر تبادلہ خیال کیا گیا اور دونوں رہنماؤں نے شام کے بحران کے سیاسی حل پر زور دیا۔ ملاقات میں بحران کے حل کیلئے پیش کردہ نئی تجاویز پر بھی غور کیا گیا اور امریکی صدر نے امید ظاہر کی کہ روس بشارالاسد کے مخالفین کے بجائے داعش کے خلاف فضائی حملے کرے گا۔ ترجمان وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر اوباما نے یوکرائن سے فوجی انخلا پر بھی زور دیا۔ روس کی جانب سے شام میں فضائی حملے شروع کئے جانے کے بعد اوباما اور پیوٹن میں یہ پہلی ملاقات ہے۔امریکی صدر باراک اوباما نے ترکی میں ہونے والے جی 20اجلاس کے موقع پر کہا ہے کہ وہ شدت پسند اسلامی تنظیم داعش کے خلاف پہلے سے زیادہ شدت سے کارروائی کریں گے۔ انہوں نے یہ بیان پیرس حملوں کے تناظر میں دیا گیا ہے۔ جی 20اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر اوبامہ کاکہنا تھاکہ ’’روایتی طور پر جی 20عالمی اقتصادی امور پر تبادلہ خیال کا ایک فورم ہے، تاہم جمعہ کے روز پیرس میں ہونے والے حملوں کے بعد آسمان سیاہ ہو گیا ہے‘‘۔ اوباما نے اجلاس کے خاتمہ پر ترک صدر رجب طیب اردگان سے بھی ملاقات کی۔

مزید : کراچی صفحہ اول