سپریم کورٹ کا خیبر پختونخوا کے تمام بجلی سارفین سے ڈیٹ سر چارج کے بقایاجات وصول کرنے کا حکم

سپریم کورٹ کا خیبر پختونخوا کے تمام بجلی سارفین سے ڈیٹ سر چارج کے بقایاجات ...

پشاور(نیوزرپورٹر)سپریم کورٹ آف پاکستان نے خیبرپختونخواکے صارفین سے بجلی کے بلوں میں ڈیٹ سروس سرچارج کی وصولی کے خلاف پشاورہائی کورٹ کے حکم امتناعی کو منسوخ کردیااورپیسکوکواحکامات جاری کئے ہیں کہ صوبے کے تمام کارخانہ داروں ٗ کمرشل اورگھریلوصارفین سے بقایاجات بھی وصول کئے جائیں سپریم کورٹ آف پاکستان کے جسٹس ثاقب نثار ٗ جسٹس اقبال حمود الرحمان اور جسٹس باقرعلی پرمشتمل لارجربنچ نے پیسکو کی جانب سے اپیل بذریعہ عبدالرؤف روحیلہ سماعت کے لئے منظورکرتے ہوئے پشاورہائی کورٹ کے جاری حکم امتناعی کو کالعدم قرار دے دیاحقائق کے مطابق حکومت نے بجلی کے صارفین پریکم جولائی 2014ء سے قرضہ جات پرسودادا کرنے اوردیگر اخراجات پورے کرنے کے لئے تمام بوجھ صارفین پرڈیٹ سروس سرچارج عائد کیاجس کے خلاف صارفین نے پشاورہائی کورٹ میں بذریعہ رٹ پٹیشن چیلنج کیااورہائی کورٹ نے حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے پیسکو کو مذکورہ سرچارج وصولی سے روک دیاتھابعدازاں پیسکو کی جانب سے درخواست دائرکی گئی کہ چونکہ حکم ا متناعی کو 6ماہ ہوچکے ہیں اس بناء اس میں مزید توسیع نہیں ہوسکتی جو عدالت نے آئندہ کے لئے صارفین کو متذکرہ اخراجات ماہانہ بلوں میں جمع کرنے کاحکم دیاالبتہ جملہ بقایا جات جس کے بارے میں عدالت عالیہ نے حکم امتناعی جاری کیا تھااسے اس کی وصولی رٹ پٹیشن کے آخری فیصلے تک روک دیاعبدالرؤف روحیلہ ایڈوکیٹ نے فاضل بنچ کودلائل دیتے ہوئے کہاکہ پشاورہائی کورٹ کافیصلہ آرٹیکل 199(4اے) کے رو کے منافی ہے انہوں نے مزید کہاکہ مقننہ نے یہ واضح کیاکہ کسی بھی عدالت سے جاری کردہ حکم امتناعی بشمول ہائی کورٹ 6ماہ کے بعد خودبخود کالعدم ہوجاتاہے جبکہ عدالت نے بقایاجات کی ادائیگی روک کرآئین کی خلاف ورزی کی ہے فاضل عدالت نے عبدالرؤف روحیلہ کے دلائل تسلیم کرتے ہوئے خیبرپختونخوا کے تمام بجلی صارفین سے ڈیٹ سرچارج کے بقایاجات وصول کرنے کاحکم دیا واضح رہے کہ اس حکم کے ذریعے کارخانہ داروں ٗ تجارت پیشہ اورکمرشل صارفین کے ساتھ ساتھ گھریلوصارفین سے کروڑوں روپے پیسکو وصول کرنے کی مجاز ہے ۔

مزید : پشاورصفحہ اول