سانحہ ماڈل ٹاؤن کی انکوائری رپورٹ منظر عام پر لانے اور جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کیخلاف درخواستوں پر سماعت 23 نومبر تک ملتوی

سانحہ ماڈل ٹاؤن کی انکوائری رپورٹ منظر عام پر لانے اور جوڈیشل کمیشن کی تشکیل ...

لاہور ( نامہ نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی انکوائری رپورٹ منظر عام پر لانے اور جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے خلاف درخواستوں پر پنجاب حکومت کے وکیل خواجہ حارث کے پیش نہ ہونے کے باعث سماعت 23 نومبر تک ملتوی کر دی۔مسٹر جسٹس خالد محمود خان کی سربراہی میں قائم فل بنچ نے درخواستوں پر سماعت شروع کی تو پنجاب حکومت کے وکیل خواجہ حارث کی طرف سے سماعت ملتوی کرنے کے لئے تحریری طور پر درخواست پیش کی گئی، جس پر عدالت نے سماعت ملتوی کر دی، اس کیس میں پنجاب حکومت کے وکیل کے جزوی دلائل مکمل ہو چکے ہیں جس میں انہوں نے موقف اختیار کررکھا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن جوڈیشل کمیشن کی تشکیل سے قبل چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سے مشاورت نہیں کی گئی۔ جبکہ اس معاملے کی انکوائری حکومت نے اپنی سہولت کے لئے کروائی تاکہ درست حقائق سامنے آ سکیں تاہم اس رپورٹ کو عوام کے سامنے لایا جانا ضروری نہیں۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ حکومت سانحہ ماڈل ٹاؤن کی انکوائری رپورٹ قصداً منظر عام پر نہیں لا رہی ، رپورٹ میں حکومتی وزراء کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے، درخواستوں میں مزید موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر لانے کا حکم دیا جائے تا کہ عوام کو حقائق کا علم ہو سکے۔

ملتوی

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر