’روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جاری مظالم کاروبار کے لئے بہت زبردست ہیں کیونکہ۔۔۔‘ یہ انتہائی شرمناک بات کس نے کہی؟ جان کر ہر مسلمان کی آنکھوں میں آنسو آجائے

’روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جاری مظالم کاروبار کے لئے بہت زبردست ہیں ...
’روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جاری مظالم کاروبار کے لئے بہت زبردست ہیں کیونکہ۔۔۔‘ یہ انتہائی شرمناک بات کس نے کہی؟ جان کر ہر مسلمان کی آنکھوں میں آنسو آجائے

  



ڈھاکہ(مانیٹرنگ ڈیسک) روہنگیا میں برمی فوج اور بدھ دہشت گردوں سے جان بچا کر بنگلہ دیش آنے والے لاکھوں روہنگیا مسلمان غذا اور ادویات کی قلت سے دوچار توتھے ہی، اب وہاں سے ایسی خبر آ گئی ہے کہ انسانیت شرم سے منہ چھپاتی پھرے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش میں قائم روہنگیا مسلمانوں کے کیمپوں میں انسانی سمگلر اور دلال دندناتے پھر رہے ہیں اور غیرشادی شدہ لڑکیوں اور کم عمر بیواﺅں، جن کے شوہروں کو برمی فوج اور بدھ دہشت گردوں نے قتل کر دیا، کو ورغلا کرساتھ لیجارہے اور قریبی شہروں کے قحبہ خانوں میں فروخت کر رہے ہیں۔یہ لوگ لڑکیوں کے ساتھ لڑکوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔

امریکہ میں خوفناک تباہی آنے والی ہے کیونکہ۔۔۔ وارننگ جاری کردی گئی، ریڈ الرٹ

رپورٹ کے مطابق انسانی سمگلر اور خواتین سے جسم فروشی کا دھندہ کرانے والے روہنگیا مسلمانوں کی اس دربدری پر بہت خوش ہیں۔ سکائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ایسے ہی ایک ننگ انسانیت کا کہنا تھا کہ ”6لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمانوں کا بنگلہ دیش آنا ان کے ’کاروبار‘ کے لیے بہت اچھا ثابت ہو رہا ہے۔یہاں آنے والے خاندانوں کی حالت بہت خراب ہوتی ہے اور کئی لڑکیاں اکیلی ہوتی ہیں۔ یہ ہمارے کاروبار میں آنے پر آسانی سے رضامند ہو جاتی ہیں، کیونکہ حکومت کی طرف سے انہیں خاطرخواہ امداد نہیں مل رہی اور انہیں روزمرہ ضروریات کے لیے جسم فروشی کرنی پڑتی ہے۔“

اس انسانی سمگلر کا کہنا تھا کہ ”یہاں سے 10سے 15لڑکیوں کے گروپ لیجائے جاتے ہیں اور قحبہ خانے میں انہیں فی کس 5پاﺅنڈ (تقریباً 700روپے) میں بیچا جاتا ہے۔“ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ وہ روہنگیا پناہ گزینوں کے کیمپوں میں انسانی سمگلنگ نیٹ ورکس کے متحرک ہونے سے آگاہ ہے۔ یونیسیف کے شعبہ چائلڈ پروٹیکشن کی سربراہ جین لیبی کا کہنا تھا کہ ”اس وقت پناہ گزینوں کے لیے انسانی سمگلنگ سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔یہاں سے لڑکیوں کونوکری کا جھانسہ دے کر لیجایا جاتا ہے اور پھر اسے کسی بڑے شہر کے قحبہ خانے میں فروخت کر دیا جاتا ہے۔“

مزید : بین الاقوامی