کرپشن کا خاتمہ سعودی ولی عہد کا عزم

کرپشن کا خاتمہ سعودی ولی عہد کا عزم
 کرپشن کا خاتمہ سعودی ولی عہد کا عزم

  

سعودی عرب کے اٹارنی جنرل شیخ سعود المجیب کا کہنا ہے کہ مملکت میں حالیہ کچھ عشروں کے دوران ایک کھرب ڈالر کی کرپشن کی گئی ہے، جس کی بنا پر انسدادِ بدعنوانی مہم کے تحت 201 افراد کو پوچھ گچھ کے لئے حراست میں لیا گیا ہے۔

شیخ سعود المجیب نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ انسدادِ بد عنوانی مہم کے تحت کی جانے والی گرفتاریوں کے باعث سعودی عرب میں عام کاروباری سرگرمیاں متاثر نہیں ہوئیں، مہم کے تحت صرف گرفتار افراد کے ذاتی اکاونٹس ہی منجمد کئے گئے ہیں۔

شیخ سعود المجیب نے کہا کہ حال ہی میں قائم کی جانے والی انسدادِ بدعنوانی کمیٹی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی سربراہی میں بہت متحرک ہے۔

کمیٹی کے پاس اگلی تحقیقات کے لئے واضح مینڈیٹ موجود ہے اور اس نے بعض بینک اکاؤنٹ منجمد کر دیئے ہیں۔اس کمیٹی میں اب تک 208 افراد کو تفتیش کے لئے بلایا گیا، جن میں سے 7 کو چھوڑ دیا گیا ہے، جبکہ 201 افراد کو حراست میں لے کر تفتیش کی جا رہی ہے۔

سعودی عرب میں جاری حالیہ انسداد بدعنوانی مہم شاہ سلمان بن عبدالعزیزکے ایماپرشروع کی گئی ہے، انہوں نے اینٹی کرپشن کمیٹی بنا کر ملک میں کرپشن کے خلاف تاریخی کریک ڈاؤن کیا ہے۔ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو اینٹی کرپشن کمیٹی کا سربراہ مقرر کرنے کے ساتھ ہی انتہائی اہم شخصیات کی گرفتاریاں کی گئی ہیں۔

شاہی فرمان کے مطابق کرپشن کو جڑ سے نہ اکھاڑا گیا اور کرپٹ عناصر کا احتساب نہ ہوا تو مادر وطن نہیں رہے گا۔ اینٹی کرپشن کمیٹی کو ملزمان کی گرفتاری کے احکامات جاری کرنے کا بھی اختیار حاصل ہے، جبکہ ملزموں کے اثاثے منجمد اور ان کے بیرون ملک سفر پر پابندی بھی عائد کی جا سکے گی۔

شاہی فرمان کے مطابق کمیٹی بعض افراد کی جانب سے ذاتی مفادات کو فوقیت دینے اور عوامی فنڈ چوری کرنے کے سبب بنائی گئی۔ جس کے خلاف بھی بدعنوانی کا جرم ثابت ہوگاوہ شہزادہ ہو یا وزیر ہو یا اعلیٰ عہدیدار ہو اُسے اپنے کئے کی سزا ملے گی۔

سعودی عرب مذہبی قیادت و سیادت کا پابند ہے اور اسلام بدعنوانی کو اصلاح کے منافی سمجھتا ہے۔ اسلام میں بدعنوانی حرام ہے۔ عدالتی اعتبار سے جرم ہے۔ بدعنوانی کا انسداد سماجی انصاف کی بنیادی ضرورت ہے۔ بدعنوانی کا انسداد ضروری ہے اسلام نے قومی مفاد کے لئے اس کاحکم دیا ہے۔

اسلام نے بدعنوانی کے خاتمے اور اس کے انسداد کی تاکید کی ہے۔ بدعنوانی کا انسداد دہشت گردی کے انسداد سے کم اہم نہیں۔ سعودی عرب کے ادارہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر نے انسداد بدعنوانی کے لئے اعلیٰ کمیٹی کے قیام کے شاہی فرمان کا خیرمقدم کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس سے عدالت کی بنیادیں راسخ ہوں گی اور حق کو حق ثابت کرنے کا نظام مضبوط ہوگا۔

ادارہ کے ڈائریکٹر جنرل شیخ ڈاکٹر ترکی الشلیل نے توجہ دلائی کہ ہماری قیادت سعودی عرب کو بدعنوانی اور بدعنوانوں کیخلاف فیصلہ کن جنگ کرنے والی ریاستوں میں سرفہرست لانے کیلئے کوشاں ہے۔

ہماری قیادت بدعنوانوں کے خلاف بے رحم کارروائی اور ان کی جڑیں کاٹنے کا عزم کرچکی ہے۔ شاہی فرمان کی بدولت عنوانی کے سوتے خشک ہوں گے، قومی مفاد حاصل ہوگا، سرکاری خزانے کی حفاظت ہوگی۔ آئندہ کسی بھی عہدیدار کو اپنے اختیارات غلط طریقے سے استعمال کرنے کی ہمت نہیں ہوگی۔

مزید :

کالم -