کیا خلیجی ممالک کسی بڑی تبدیلی کی طرف جا رہے ہیں

کیا خلیجی ممالک کسی بڑی تبدیلی کی طرف جا رہے ہیں
کیا خلیجی ممالک کسی بڑی تبدیلی کی طرف جا رہے ہیں

  

 سعودی حکومت کی بھاگ دوڑ جب سے شاہ سلمان اور ولی عہدہ محمد بن سلمان کے ہاتھ آئی ہے سعودی عرب میں حالات بہت تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں عورتوں کے آزادی کے پیکج اور سہولتوں تک ٹھیک تھا لیکن ولی عہدہ محمد بن سلمان  کی جارحانہ پالیسیوں کے باعث پورا خطہ ہل  کر رہ گیا ہے -کرپشن کے الزامات میں قید ہونے والے  شہزادوں اور ملک میں ہونے والی تبدیلیوں کے بعد اب لبنانی وزیر اعظم کی قید اور ایران کے ساتھ کشیدگی، خطہ کو ہلا نے سے کم نہیں-قطر کے ساتھ کشیدگی کو بھی ابھی زیادہ دیر نہیں گزری-جرمن خفیہ اجنسی پہلے ہی ولی عہدہ محمد بن سلمان  کو خلیجی ممالک کے لیے بہت بڑا خطرہ قرار دے چکی ہے جس سے اگرچہ جرمن سرکار  لاعلمی کا اظہار بھی کر چکی ہے لیکن یہ بات اب کافی حد تک درست نظرآ رہی ہے -

 سعودی نظام دنیا سے قدرے مختلف ہے سعودی ادارے شہزادوں میں تقسیم ہوتے ہیں وہی اس کو چلانے کے ذمہ دار ہوتے ہیں یہ پالیسی سعودی  ریاست کے  وجود میں آنے کے بعد سے نافذ ہے ،۲۲ وزرا ریاستی امور کو چلاتے ہیں جن کو ۱۵۰ممبران کی مجلس شوری کی مشاورت حاصل ہوتی ہے-لیکن اب صورتحال مختلف ہے  گیارہ شہزادے قید میں ہیں جن میں شہزادہ الولید بن طلال بھی شامل ہیں ارب پتی پرنس سٹی گروپ،ٹیوٹر،ایپل،سمیت کئی عالمی اداروں کے حصہ دار ہیں-سعودی کاروباری افراد کو بھی حراست میں لیا گیا اب صورتحال یہ ہے کہ سعودی عرب میں ادارے شدید مسایل کا شکار ہیں مملکت کے امور رک گیے ہیں-کرپشن کے نام پر شروع  ہونے والی مہم اصل میں اقتدار کی جنگ ثابت ہوئی-

 یمن کی جنگ نے سعودی عرب میں شدید ہیجان برپا کیا-ایران کے ساتھ مسایل میں اضافہ ہوا -پاکستان کے ساتھ بھی تعلاقات میں تلخی آئی-متحدۃ عرب امارات نے بھی سعودی عرب کا بھرپور ساتھ دیا-اس کے بعد قطر کے معاملات شروع ہو گئے جس میں ابھی تک تناو موجود ہیں -لبنان کے وزیر اعظم کی حراست بہت ہی معنی خیز صورتحال ہے-اس وقت لبنان اور سعودی عرب کے حالات بھی کشیدگی کے عروج پر ہیں اس کی بڑی وجہ ایران کے حذباللہ سے قریبی تعلاقات اور لبنان کاحذباللہ کےخلاف سعودی پالیسی کو ماننے سے انکار ہے- اسی لیے ایران اور سعودی مسلے میں لبنان بھی آچکا ہے-لیکن اگر ایران کا سعودی عرب سے تنازعہ طوالت پکڑ گیا تو جنگ بھی ہو سکتی ہے-ایرانی افواج کے  ہتھیار اگرچہ سعودی افواج کے مقابلہ پر اس قدر جدید نہیں لیکن ایرانی افواج بہت منظم اور پرعزم ہیں جبکہ سعودی ہمیشہ اس سلسلے میں مسایل کا شکار رہے ہیں-پاکستان کا اس سلسلے میں کیا کردار ہو گا یہ بھی ایک پہیلی ہے اس وقت پاکستان سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے اور ملک جنگ کی حالت میں ہے ایک طرف انڈیا کی طرف سے پریشر ہے تو دوسری طرف افغان دراندازی ہے-سعودی عرب کے اندرونی حالات   بھی کسی وقت  خانہ جنگی کی طرف جا سکتے ہیں-

 صدر ٹرمپ کے داماد بھی سعودی عرب کا خفیہ دورہ کر آئے ہیں جو ظاہری طور پر فلسطین اور اسرائیل کے درمیان ہونے مذاکرات سے متعلق تھا لیکن امریکہ سعودی عرب کوایران کے مقابل تنہا نہیں چھوڑے گا اور اس کی کوشش ہو گی کہ وہ اس علاقہ میں آکر بیٹھ جائے.

 اس خطہ میں تبدیلی کی لہر نے مسلمان ممالک کا حلیہ ہی بدل دیا ہےعراق،لبیا،شام اور اب سعودی عرب اس تبدیلی سے دو چار ہیں لیکن خواہش یہی ہے کہ یہ سب اس طرح کا نہ ہو جیسا کہ پہلے ہوتا آرہا ہے جس میں ہزاروں ہلاک اور بے گھر ہو چکے ہیں.

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -