شوہر نے گھریلو ناچاقی پر بیوی کو زندہ جلانے کا اعتراف کرلیا

شوہر نے گھریلو ناچاقی پر بیوی کو زندہ جلانے کا اعتراف کرلیا
شوہر نے گھریلو ناچاقی پر بیوی کو زندہ جلانے کا اعتراف کرلیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ٹانک(این این آئی)خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں شوہر نے بیوی کو مبینہ طور پر گھریلو ناچاقی پر آگ لگا کر قتل کرنے کا اعتراف کرلیا۔سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) گل نصیب نے بتایا کہ ملزم نے دوران تفتیش گزشتہ اپنی بیوی کو پیٹرول چھڑک کر آگ لگا کر قتل کرنے کا اعتراف کیا۔خاتون کو آگ لگانے کا واقعہ 23 اکتوبر کو پیش آیا جس کے بعد انہیں کرسچن ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ 20 روز زیر علاج رہنے کے بعد ہفتہ کو دم توڑ گئیں۔پولیس نے مقتولہ کے والد محمد خان کی شکایت پر مقدمہ درج کیا جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ ’فیض محمد نے دوسری شادی کی اجازت دینے سے انکار پر میری بیٹی پر پیٹرول چھڑکا اور اسے آگ لگا کر زندہ جلا دیا۔انہوں نے پولیس کو بتایا کہ ملزم نے ڈیڑھ سال قبل ان کی بیٹی کو اغوا کرکے اس سے زبردستی شادی کی تھی، جبکہ جوڑے کی دو ماہ کی بیٹی بھی تھی۔شکایت کنندہ کا کہنا تھا کہ مقتولہ نے اپنی والدہ کو ہسپتال میں بتایا تھا کہ اسے اس کے شوہر نے دوسری شادی کی اجازت سے انکار پر جلایا تاہم مقتولہ کی والدہ ملزم کے اہلخانہ سے خوفزدہ ہونے کے باعث معاملے کو سامنے نہ لائیں۔کرسچن ہسپتال کے حکام نے کہا کہ متاثرہ خاتون کے اہلخانہ نے انہیں بتایا کہ اسے گھر میں کھانہ پکانے کے دوران آگ لگی۔میر اکبر شہید پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او طاہر سلیم نے محمد خان کی شکایت پر مقدمہ درج کر کے ملزم کو گرفتار کیا ٗگرفتاری کے وقت ملزم نے دعویٰ کیا کہ اس کی بیوی نے خودکشی کی تاہم بعد ازاں تحقیقات کے دوران اس نے بیوی کو آگ لگانے کے جرم کا اعتراف کیا۔

مزید : ٹانک