سمندر کی تہہ میں 11 کلومیٹر نیچے سائنسدانوں کو جانوروں کے پیٹ میں ایسی چیز مل گئی کہ ہر کسی کے ہوش اُڑ گئے

سمندر کی تہہ میں 11 کلومیٹر نیچے سائنسدانوں کو جانوروں کے پیٹ میں ایسی چیز مل ...
سمندر کی تہہ میں 11 کلومیٹر نیچے سائنسدانوں کو جانوروں کے پیٹ میں ایسی چیز مل گئی کہ ہر کسی کے ہوش اُڑ گئے

  

لندن(نیوز ڈیسک)دنیا بھر کے سائنسدان اورماہرین صحت پلاسٹک کے خطرات کے بارے میں چیخ چیخ کر خبردار کررہے ہیں۔ یہ خطرہ کس قدر بڑھ چکا ہے اس کا اندازہ آپ اس بات سے کرسکتے ہیں کہ صرف زمین پر ہی نہیں بلکہ سمندر کی گہرائیوں میں بھی پلاسٹک ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے۔

دی گارڈین کے مطابق سمندر کے پیندے میں 11کلو میٹر کی گہرائی پر پائے جانے والے آبی جانداروں کے پیٹ میں بھی پلاسٹک پایا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف زمینی حیات ہی نہیں بلکہ آبی حیات بھی پلاسٹک کی وجہ سے بدترین خطرات سے دوچار ہوچکی ہے۔ برطانیہ کی نیوکاسل یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے بحرالکاہل کی گہرائی میں پائے جانے والے آبی جانداری پر یہ تحقیق حال ہی میں مکمل کی ہے۔ اس تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ان جانداروں کے معدے میں ایسے فائبر پائے گئے ہیں جو غالباً پلاسٹک کی بوتلوں، پیکجنگ اور سنتھیٹک کپڑوں سے آئے ہوئے ہیں۔

کئی سو سال کے بعد طاعون کی وباءدنیا میں واپس لوٹ آئی، کس رفتار سے پھیل رہی ہے اور اب تک کتنے لوگ نشانہ بن گئے؟ جان کر ہر شہری کے ہوش اُڑجائیں

تحقیق کی سربراہی کرنے والے سائنسدان ڈاکٹر ایلن جمی سن کا کہنا تھا کہ یہ بات انتہائی تشویشناک ہے کہ کرہ ارض کا کوئی بھی حصہ پلاسٹک کی آلودگی سے محفوظ نہیں رہا ہے۔ اب یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ پلاسٹک کی آلودگی اس قدر پھیل چکی ہے کہ آپ کرہ ارض پر کسی بھی جگہ چلے جائیں یہ آپ کو وہاں ملے گی۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ رواں سال کے آغاز میں کی گئی ایک اور تحقیق کے دوران تشویشناک انکشاف ہوا تھا کہ دنیا کے مختلف علاقوں میں گھروں میں سپلائی کئے جانے والے پانی کے نمونے لئے گئے تو ان میں سے 83 فیصد میں پلاسٹک کے ذرات پائے گئے۔ دیگر تحقیقات کے مطابق سمندر میں پائی جانے والی مچھلیوں اور حتیٰ کہ سمندری و پہاڑی نمک میں بھی پلاسٹک کے اجزاءملے ہیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ 1950ءکی دہائی سے لے کر اب تک دنیا میں تقریباً 8.3 ارب ٹن پلاسٹک پیدا کیا جاچکا ہے۔ یہ پلاسٹک کی اتنی بڑی مقدار ہے کہ جو کرہ ارض کے ہر حصے کو آلودہ کر سکتی ہے۔ سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ یہ آلودگی کی ایک ایسی قسم ہے جو ہزاروں سال تک ختم نہیں ہوسکتی، کیونکہ نامیاتی اشیاءکے برعکس پلاسٹک سینکڑوں، ہزاروں سال تک بھی تحلیل نہیں ہوتا ۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -