وہ 7 باتیں جو ہر شوہر سوچتا ہے لیکن اپنی بیگم کو بتانے سے ڈرتا ہے

وہ 7 باتیں جو ہر شوہر سوچتا ہے لیکن اپنی بیگم کو بتانے سے ڈرتا ہے
وہ 7 باتیں جو ہر شوہر سوچتا ہے لیکن اپنی بیگم کو بتانے سے ڈرتا ہے

  


برمنگھم (نیوز ڈیسک)اکثر بیگمات جو جی میں آئے خاوند کے منہ پر کہہ دیتی ہیں لیکن خاوندوں کی بہت بڑی تعداد یہ ہمت نہیں کر پاتی اور یہ بیچارے دل کی بات دل میں ہی لئے پھرتے رہتے ہیں۔ بس یہی وجہ ہے کہ مردوں کی ایک بڑی تعداد نے دل کی باتیں انٹرنیٹ پر کہہ دی ہیں تا کہ یہ باتیں ان کی بیگمات تک بھی پہنچ جائیں۔

ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ میں ان میں سے کچھ اہم ترین باتوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر مردوں کی ایک تعداد کا کہنا ہے کہ وہ ان اچھے دنوں کو بہت یاد کرتے ہیں جب بیوی گاہے بگاہے انہیں ’آئی لو یو‘ کہا کرتی تھی۔ وہ یہ الفاظ پھر سے سننے کی خواہش رکھتے ہیں لیکن بیگم کے سامنے یہ بات کہہ نہیں پاتے۔

وہ 10 کام جو مرد عورتوں کی موجودگی میں انہیں متاثر کرنے کے لئے کرتے ہیں لیکن دراصل یہ خواتین کو حد سے زیادہ ناپسند ہوتے ہیں، آپ بھی جان لیجئے

مردوں کو ایک شکوہ یہ بھی رہتا ہے کہ جب بیویاں بچوں کی جانب بہت زیاد دھیان دینے لگتی ہیں اور انہیں بھلا ہی دیتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ بچوں کی اپنی جگہ بہت اہمیت ہے لیکن ان کے لئے خاوند کو نظر انداز کردینا بھی تو ٹھیک نہیں۔

بعض اوقات بیوی اپنے خاوند سے کچھ پوچھتی ہے اور اس کی جانب سے کوئی جواب نہ ملنے پر خود ہی فرض کر لیتی ہے کہ وہ کچھ چھپانے کی کوشش کررہا ہے۔ خاوندوں کا کہنا ہے کہ بیویوں کو سمجھنا چاہئیے کہ ایسی کوئی بات نہیں۔ بعض اوقات کام کاج اور دیگر مصروفیات کی وجہ سے پریشانیاں ذہن کو گھیر لیتی ہیں اور عین ممکن ہے کہ انجانے میں بیوی کی کسی بات پر دھیان نہ دیا جا سکے۔

مردوں کو ایک شکوہ یہ بھی رہتا ہے کہ وہ گھر کے بہت سے کاموں میں تعاون کرتے ہیں اور دفتر کے ساتھ بچوں کے مسائل اور گھریلو کاموں میں بھی اپنا حصہ ڈالتے ہیں لیکن کبھی ان کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی۔ وہ بیگم سے اکثر کہہ بھی نہیں پاتے کہ ان کے لئے دو بول تعریف کے بول دئیے جائیں تو ان کا حوصلہ اور بھی بڑھے گا۔

شادی کے کتنے عرصے بعد ہمسفر کی جانب سے بے وفائی کا خطرہ سب سے زیادہ ہوتا ہے؟ سائنسدانوں نے جواب بتادیا، شادی شدہ جوڑوں کو پریشان کردیا

مردوں کے دل میں یہ حسرت بھی رہتی ہے کہ رومانوی معاملات میں کبھی بیگم بھی پہل کرے۔ عموماً اسے مرد کی ہی ذمہ داری سمجھا جاتا ہے لیکن اکثر شوہروں کا کہنا ہے کہ انہیں بہت خوشی ہو اگر شریک حیات پیار ،محبت اور رومانس کے معاملے میں اپنی جانب سے پیش قدمی کرے۔

اکثر مردوں کو یہ فکر بھی لاحق رہتی ہے کہ نجانے وہ ازدواجی فرائض مناسب طور پر ادا کرپارہے ہیں یا نہیں، لیکن وہ اس موضوع پر بیگم سے بات کرنے سے بہت گھبراتے ہیں۔ وہ اس معاملے میں بیوی کا تعاون اور رہنمائی چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنی ذمہ داریوں میں سرخرو ہوں اور شریک حیات کی بھرپور مسرت کا باعث بنیں۔

یقینا ہر شوہر کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی بیگم کا اپنی ساس کے ساتھ جھگڑا نا ہو، اور اگر بدقسمتی سے ایسا ہو ہی جائے تو اس میں شوہر کو نا گھسیٹا جائے۔ شوہر کے لئے کسی ایک کی طرفداری کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے، لہٰذا اسے اس جھگڑے سے باہر ہی رکھا جائے تو بہتر ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس