مولانا سمیع الحق شہید، دینی، علمی اور ملی نامور شخصیت

مولانا سمیع الحق شہید، دینی، علمی اور ملی نامور شخصیت
مولانا سمیع الحق شہید، دینی، علمی اور ملی نامور شخصیت

  

اللہ تعالیٰ نے بعض شخصیات کو منفرد خصوصیات سے خوب نوازا ہے، مولانا سمیع الحق شہید کی شخصیت دینی علوم و معارف اور ملی و سیاسی خصوصیات کی آئینہ دار تھی، ان کے والد ماجد شیخ الحدیث مولانا عبدالحق اور ان کے فرزند مولانا سمیع الحق رحمہا اللہ سے کئی ملاقاتوں کا شرف حاصل رہا، مولانا سمیع الحق ایک مرتبہ میرے درویش کدہ واقع پیپلز کالونی (فیصل آباد) میں تشریف لائے تھے اور ماہ رمضان المبارک میں روزہ افطار کرنے کی سعادت حاصل کی تھی،

حضرت مولانا عبدالحق حقانی اور مولانا سمیع الحق کے ساتھ 1968ء میں مشرقی پاکستان کا بھی ایک تاریخی سفر کیا تھا۔ اس سفر کے لئے ڈھاکہ تعلیم القرآن سوسائٹی نے مغربی پاکستان کی چند شخصیات کو مدعو کیا تھا جن میں استاد محترم مولانا شمس الحق افغانی، مولانا عبدالحق اکوڑہ خٹک ان کے فرزند مولانا سمیع الحق اکوڑہ خٹک، مولانا عبیداللہ انور امیر انجمن خدام الدین اور مولانا حامد میاں جامعہ مدنی لاہور، راقم الحروف (مجاہد الحسینی) اور مولوی عبدالقادر بہاولپوری شامل تھے۔

ڈھاکہ الہلال ہوٹل میں ہماری رہائش کا انتظام تھا، وہاں سے ہمیں مشرقی پاکستان کے مختلف شہروں میمن سنگھ، چاٹگام اور سلہٹ وغیرہ مقامات کی سیر کے دوران ان مقامات کی تاریخی حیثیت کی بابت تعارف کرایا گیا، سلہٹ کی بابت بتایا گیا کہ یہ شہرٹی گارڈن (چائے کے باغات کا مرکز) ہے، یہاں پر ہم حاجی سلیمان (مالک ٹی گارڈن) کے مہمان تھے، نیز سلہٹ میں ایک بزرگ حضرت بخاری کا مدفن ہے، علاوہ ازیں یہی وہ تاریخی شہر ہے جس میں شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ رمضان المبارک میں اعتکاف کیا کرتے تھے، اسی اثناء میں ہمیں سلہٹ کی اس مسجد میں حاضری کا موقع ملا، وہاں پہلے دو نفل تحیۃ المسجد ادا کئے، بعد میں شیخ الحدیث مولانا عبدالحق اکوڑہ خٹک نے جائے نماز پر نفل ادا کئے اور حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ اور دیگر اسلاف کے لئے دعائے مغفرت کی،

مولانا عبدالحقؒ کی اتباع میں ہم نے وہاں نفل ادا کیے اور دعا کی۔ بعد ازاں سلہٹ سے بذریعہ ریل گاڑی ہم چاٹگام گئے وہاں سے پٹیہ کے مقام پر بہت بڑا دینی مدرسہ دیکھنے کا موقع ملا، اس مدرسہ میں طالب علموں کی تعداد ہزار سے زیادہ تھی۔ یہ سڑک برما روڈ کہلاتی ہے، جہاں سے برما کی پہاڑیاں نظر آتی ہیں۔ چاٹگام میں میری تقریر کے دوران ایک شخص نے اعتراض کیا کہ ہم نے مغربی پاکستان کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ بحریہ کا ہیڈ کوارٹر چاٹگام میں بنا دو مگر ہماری بات نہ مانی گئی۔ اس کا ہیڈ کوارٹر اسلام آباد بنایا گیا کیا وہاں کوئی سمندر موجود ہے، مغربی پاکستان کے ارباب حکومت مشرقی پاکستان کے ساتھ رعایا سے بدتر سلوک روا رکھ رہے ہیں، مرکزی حکومت کا کوئی ایک دفتر بھی مشرقی پاکستان میں موجود نہیں ہے۔

اس معترض کی باتوں سے میں نے اندازہ لگایا کہ مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنا دینے میں مغربی پاکستان کے نا تجربہ کار حکمرانوں کا بھی دخل ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ بہرحال بات ہورہی تھی مولانا سمیع الحق شہید کی دینی اور ملی خدمات کی، مولانا حقانی سیاسی فہم و فراست اور سیاسی شعور کے اعتبار سے ایک منجھے ہوئے سیاستدان اور دور اندیش مذہبی اور سیاسی رہنما تھے، میری ہفت روزہ ’’خدام الدین‘‘ لاہور کی ادارت کے دوران لاہور میں کئی ملاقاتیں ہوئیں، فیصل آباد بھی میرے درویش کدے پر تشریف لائے تھے، میری ان سے مختلف موضوعات پر خط و کتاب بھی رہی ہے، چند سال پہلے اکوڑہ خٹک سے مولانا سمیع الحق شہید کی دس جلدوں پر مشتمل کتاب ’’مشاہیر کے خطوط‘‘ کے نام سے شائع ہوئی ہے، اس کتاب میں راقم الحروف کے بھی چند خطوط شامل ہیں۔

میرا خیال ہے کہ مولانا سمیع الحق شہید علمائے کرام کو سیاسی شعور سے آگاہ کرنے کے لئے ہمیشہ فکر مند رہتے تھے۔ علمائے کرام کی تنظیم جمعیۃ علماء اسلام کو دو دھڑوں (ف اور س) میں تقسیم کرنے کے سلسلے میں جو علمائے اسلام اقتدار کے لئے بھاگ دوڑ کررہے ہیں، مولانا سمیع الحق شہید اس مفاد پرست دھڑے سے ہمیشہ دامن کش رہے ہیں، ایسے مرنجاں مرنج اور ایک سلجھے ہوئے مذہبی و سیاسی رہنما کو بے دردی کے ساتھ شہید کرنا حد درجہ افسوسناک ہے، مولانا سمیع الحق شہید پر قاتلانہ حملہ کرنے والوں کا سراغ لگا کر اس گھناؤنے اقدام کے مجرموں کو عبرت ناک سزا دی جائے اور جن غیر مسلم طاقتوں کا آلہ کار بن کر ایک دینی، ملی اور سیاسی رہنما کو شہید کیا گیا ہے اسے طشت ازبام کرکے سازش کنندگان کے چہرے سے نقاب الٹائی جائے،

تاکہ دنیا کو معلوم ہوسکے کہ اسلام کے ایک لائق صد تحسین معلم، مبلغ اور ایک اسلامی فہم و فراست سے متصف دینی شخصیت کی زندگی کا چراغ گل کر دینے والے کون بد بخت ہیں۔ غیر مسلموں کی سازش کا سراغ لگا کر مجرموں کو عبرت ناک سزا دینے کے ساتھ علمائے کرام کے مختلف دھڑوں (ف اور س) کو یکجا اور متحد کرنے کی ضرورت ہے، اجتماعیت اور وحدت ہی امت مسلمہ اور علمائے اسلام کے وقار اور ان کے وجود کی ضامن ہے، دھڑے بندیوں اور گروہی تعصب کی موجودگی میں کبھی منازل تک رسائی نہیں ہوسکتی۔ فاعتبر و ایا اولی الابصار

مزید :

رائے -کالم -