اجتماعی زیادتی کا شکار 13 سالہ بچی کے ماں بننے کے بعد کیس نیا رخ اختیار کرگیا

اجتماعی زیادتی کا شکار 13 سالہ بچی کے ماں بننے کے بعد کیس نیا رخ اختیار کرگیا
اجتماعی زیادتی کا شکار 13 سالہ بچی کے ماں بننے کے بعد کیس نیا رخ اختیار کرگیا

  



جیکب آباد(اے این این) جیکب آباد میں اجتماعی زیادتی کا شکار 13 سالہ بچی کے ماں بننے کے بعد کیس نیا رخ اختیار کرگیا، اجتماعی زیادتی کے الزام میں گرفتار 2 ملزمان اور متاثرہ بچی اور نومولود بیٹی کے دوبارہ ڈی این اے کے لیے نمونے لیے گئے، ڈی این اے کے نمونے لاہور اور جامشورہ کی فارینزک لیبارٹریزکو بھیج دئیے گئے۔

تفصیلات کے مطابق جیکب آباد میں اجتماعی ذیادتی کا شکار ہونے والی 13 سالہ بچی ارم ابڑو کے ہاں بیٹی کی پیدائش کے بعد کیس نے نیا رخ اختیار کرلیا ہے، اجتماعی ذیادتی کا شکار 13 سالہ ارم ابڑو کے کیس میں پولیس نے اپنی تفتیش میں مزید تیزی کردی ہے، ایس ایس پی جیکب آباد بشیر بروہی کے حکم پر ڈی ایس پی سٹی غلام محمد چنہ نے اجتماعی زیادتی کرنے والے 2 ملزمان ظفر اللہ سرھیو اور کامران پٹھان کو سول ہسپتال لے گئے جہاں ملزمان کے دوبارہ ڈی این اے کے لیے نمونے لیے گئے جبکہ اجتماعی زیادتی کا شکار ہونے والی 13 سالہ ارم ابڑو اور اس کی نومولود بچی کے بھی ڈی این اے کے لیے نمونے لیے گئے، سول ہسپتال کے سول سرجن ڈاکٹر عباس اعوان نے بتایا کہ پولیس ملزمان اور متاثرہ بچی کو لے آئی جن کے ڈی این اے کے لیے نمونے لے کر ان کو سیل لگا کر پولیس کے حوالے کردئیے ہیں، اس سلسلے میں ایس ایس پی جیکب آباد بشیر بروہی نے بتایا کہ ملزمان ظفر اللہ سرھیو، کامران پٹھان اور متاثرہ بچی اور اس کی نومولود بچی کے پہلے بھی ڈی این اے کے لیے نمونے لیے گئے تھے مگر ان کو کافی وقت گذر گیا ہے اس لیے ان کا دوبارہ ڈی این اے لینے کے لیے سول جج و جوڈیشل مجسٹریٹ سے اجازت کے بعد دوبارہ ڈی این اے لیا گیا ہے، ڈی این اے کے نمونے لیبارٹریز کو بھیجنے کے لیے ڈی ایس پی سٹی کی قیادت میں 4 رکنی کمیٹی بنائی ہے نمونے لاہور اور جامشورو کی فارینزک لیبارٹری بھیجے جائیں گے، ایس ایس پی کے مطابق 10 روز کے اندر ڈی این اے کی رپورٹ آجائے گی جس کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔

مزید : علاقائی /سندھ /جیکب آباد