ان ہاؤس تبدیلی صرف دیوانوں کا خواب، شاہ محمود قریشی

    ان ہاؤس تبدیلی صرف دیوانوں کا خواب، شاہ محمود قریشی

  



ملتان (سٹاف رپورٹر) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ہم نے عدالتوں کا ہمیشہ احترام کیا ہے۔ نواز شریف کا فیصلہ انسانی بنیادوں پر کیا گیا۔ شہباز شریف نے اپنے بھائی کو علاج کیلئے باہر لے جانے کیلئے عدالت میں بیان حلفی جمع کروایا جبکہ نواز شریف نے اس کی تائید کی ہے۔ ان ہاؤس کوئی تبدیلی نہیں آرہی۔ امریکہ سے حالات میں بتدریج بہتر ی آرہی ہے۔ افغانستان کے امن عمل پر امریکہ ہمارا معترف ہے۔ ایران اور سعودی عرب میں کشیدگی ختم کرانے کے لیے پاکستان اہم کردار ادا کر رہا(بقیہ نمبر8صفحہ12پر)

ہے۔ قطر نے پاکستان سے ایک لاکھ افراد ی قوت منگوانے کا وعدہ کیا تھا جو آگے بڑھ رہا ہے۔ جب ہمیں معیشت ملی تو اس کا دیوالیہ نکلا ہوا تھا آج معاملات بہتری کی طرف جانے لگ گئے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے زیر اہتمام اپنے اور جہانگیر ترین کے اعزاز میں منقعدہ استقبالیہ کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ان ہاؤس تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ بعض لوگوں کی یہ خواہش ہے جو خواہش رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے عدالتوں کا ہمیشہ احترام کیا ہے۔ میاں نوازشریف کے فیصلے پر بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ آج کے فیصلے کے دو پہلو ہیں۔ ایک پہلو انسانی اور دوسرا قانونی پہلو ہے۔ انسانی پہلو کو مد نظر رکھتے ہوئے کابینہ نے نوازشریف کو باہر جانے کی اجازت دیدی۔ اس سلسلے میں عدالت نے دونوں چیزوں کو سامنے رکھتے ہوئے ایک شرط عائد کی کہ وہ انڈر ٹیکنگ دیں۔ جو شہباز شریف نے دیدی ہے کہ ہم چار ہفتوں کیلئے باہر لے جا رہیہیں اور ہم واپس لانے کے پابندہیں۔ نوازشریف نے بھی انڈر ٹیکنگ کی تائید کی ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دھرنے والا فیز ہم نے خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ زلفی بخاری اور اس کیس میں فرق ہے۔ نیب پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ نیب ایک جماعت کیلئے نہیں ہے بلکہ نیب ایک خود مختار ادارہ ہے اس لئے تمام زمہ داران کیخلاف بلا تفریق کارروائی ہونی چاہیے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کے ساتھ ہمارے تعلقات اس وقت کشید ہ ہیں۔ بھارت سے مطالبہ کیا جانا چاہئے کہ کشمیر میں فوری کرفیو ہٹایا جائے۔ آج یورپی یونین نے بھی بھارت کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے۔ کرتا پور کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کرتار پور راہداری کھول کر ہم نے اچھی مثال قائم کی ہے۔جبکہ بھارت بابری مسجد کو گرارہا ہے جس پر دنیا کو تقابلی جائزہ لینا چاہیے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کے پاس اپنے والد کی بیماری کا ٹھوس ثبوت ہے تو وہ سامنے رکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کابینہ کے تمام وزراء کوارڈ ینیشن کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے افغانستان پر حالات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی حکومت کے ساتھ گفت و شنید کر رہے ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بہت جلد ملتان کیلئے ایک بڑے پیکج کا اعلان کا جائے گا۔ ایران کے سپریم لیڈر کے ساتھ سعودی عرب کے معاملے پر بات کی جس سے کشیدگی ختم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سی ایم پنجاب کی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ شاہ محمود نے کہا کہ حکومت نہیں چاہتی کہ صحافیوں کو بے روزگاری کیا جائے۔ صحافیوں کی ڈاؤن سائزنگ سے حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس موقع پر شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ 27 اور 28 نومبر کو افریقن کو مدعو کیا گیا ہے۔ قطر نے ہم سے ایک لاکھ روزگار کا وعدہ کیا تھا جو آگے بڑھ رہا ہے۔ ورلڈ کپ کیلئے بھی افرادی قوت قطر جائے گی۔ امریکہ سے تعلقات میں بتدریج بہتری آرہی ہے۔ افغانستان کے امن عمل پر ہمارا معترف ہے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر