ریلوے پولیس کو وزارت داخلہ کے ماتحت کرنیکا فیصلہ،غورشروع

ریلوے پولیس کو وزارت داخلہ کے ماتحت کرنیکا فیصلہ،غورشروع

  



ملتان(نمائندہ خصوصی)وفاقی حکومت نے ریلوے پولیس کووزارت ریلوے سے نکال کروزات داخلہ کے تحت کرنے کافیصلہ کیاہے ذرائع کے مطابق اس معاملہ پرغورشروع کردیاگیاہے۔وزرات داخلہ کے تحت آنے والے ریلوے پولیس اہلکاراسلام آبادپولیس اورصوبائی پولیس میں بھی تعینات ہوسکیں گے جبکہ اسلام آباداورصوبائی پولیس کے جوان اورافسران ریلوے پولیس میں بھی تعینات ہوسکیں گے۔ریلوے پولیس ذرائع کے مطابق ریلوے سے پولیس کے محکمہ کوختم کرنے کا معاملہ بھی وفاقی (بقیہ نمبر26صفحہ12پر)

حکومت کے زیرغورہے بتایاجاتاہے کہ وزارت ریلوے نے20۔2019ء کے بجٹ سیشن سے قبل ریلوے سے پولیس کا محکمہ ختم کرنے یاپھراسے وزارت داخلہ کے ماتحت کرنے کے حوالے سے ریلوے پولیس کے ملازمین سے تجاویز مانگی گئی ہیں کہ وہ گلگت بلتستان پولیس میں یا وہ اپنے ڈومیسائیل کے حوالے سے چاروں میں سے کسی ایک صوبے کی پولیس میں جانا پسند کریں گے ان ملازمیں کو وزارت ریلوے بورڈ کے جاری کردہ نوٹیفکیشن نم E-1- 2018(1) 24 میں باور کرایا گیا ہے کہ وزارت نے ریلوے سے پولیس کا محکمہ ختم کرنے کا اصولی فیصلہ کرلیا ہے اور اس سلسلہ میں گلگت بلتستان حکومت نے ریلوے پولیس کو اپنے صوبے میں ضم کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس تربیت یافتہ پولیس کی نفری کم ہے اور نئے سرے سے بھرتی کرکے ان کی تربیت کرنے میں جو وقت درکار ہے اس میں صوبائی حکومت کو مشکلات کا سامنا ہوگا جبکہ ریلوے پولیس تربیت یافتہ اور وسیع تجربہ کی حامل ہے اس لئے یہ پولیس ان کے صوبہ کو دیدی جائے تاکہ کمی کا خلاء جلد پورا کیا جاسکے ریلوے پولیس کے خاتمہ یاوزارت دفاع کے تحت کئے جانے کے خکومتی فیصلہ پرریلوے پولیس ملازمین اورافسران نے خوشی کااظہارکیاہے ملازمین کاکہناہے کہ ان کی مراعات اورتنخواہ ملک بھرکی تمام پولیس فورسزسے کم تھیں دنوں صورتوں میں انہیں فائدہ ہوگا تاہم کچھ ملازمین نے گلگت پولیس میں ضم ہونے پر تحفظات ظاہر کئے ہیں جس پر ان سے جلد رائے مانگی گئی ہے کہ وہ کس صوبے کی پولیس میں ضم ہونا پسند کریں گے۔صوبہ میں ضم ہونے کے لئے ڈومیسائیل اسی صوبے کا ہونا ضروری ہوگا واضع رہے کہ ریلوے میں پولیس نفری کی گنجائیش 7 ہزار تھی مگر ایک عرصہ سے بھرتیاں نہ کرنے پر اب پانچ ہزار کی نفری رہ گئی ہے اس نفری کوبھی اب ہٹایا جارہا ہے اور اب مسافر ٹرینوں کی حفاظتی ذمہ داری صوبوں کے سپرد کی جارہی ہے ہر صوبہ اپنی حدود میں ریلوے کی تنصیبات اور مسافروں کی حفاظت کا ذمہ دار ہوگا یہ بھی یاد رہے کہ قیام پاکستان کے بعد بھی ایک عرصہ تک ریلوے تنصیبات کی ذمہ داری صوبائی پولیس کی ہوتی تھی بعد ازاں یہ ذمہ داری ریلوے میں پولس کا محکمہ قائم کرکے اس کے حوالے کردی گئی تھی ریلوے پولیس ملازمیں کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت انہیں مراعات دینے کی بجائے انہیں دیگرپولیس فورس میں ایڈجسٹ کرکے فنڈزبچاناچاہتی ہے۔

غور شروع

مزید : ملتان صفحہ آخر