جج کا ایک دن انصاف پر مبنی فیصلے دنیا اور 60سال کی عبادت کے برابر

جج کا ایک دن انصاف پر مبنی فیصلے دنیا اور 60سال کی عبادت کے برابر

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس سردارمحمد شمیم خان نے کہا ہے اگر ایک جج سارا دن انصاف پر مبنی فیصلے دیتا ہے تو وہ 60سال کی عبادت کے برابر ہے، ہر انسان کا حساب ہونا ہے، یاد رکھیں ہم اللہ تعالیٰ کی صفت کے امین ہیں، ہمارا احتساب زیادہ سخت ہونا ہے(بقیہ نمبر50صفحہ12پر)

،ڈسٹرکٹ جوڈیشری ہمارے نظامِ انصاف میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، عدل کرنا اللہ تبارک و تعالیٰ کی صفت ہے، جو اس نے اس دنیا میں ہمیں تفویض کی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں جنرل ٹریننگ پروگرام کے تحت جاری چھٹے تربیتی کورس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔چیف جسٹس نے مزید کہا ہمارے ملک میں کوئی بھی مقدمہ بازی ایک سول جج سے شروع ہوتی ہے اور پھر فریقین اپیل میں ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں جاتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کسی بھی مقدمہ میں ایک سول جج کا فیصلہ سپریم کورٹ تک برقرار رہے،جوڈیشل اکیڈمی میں تربیتی کورسز کا مقصد ججوں کی استعدادِکار کیساتھ ساتھ ججوں کے رویوں میں مثبت تبدیلی لانا ہے۔چیف جسٹس نے امید کا اظہار کیا کہ اس ٹریننگ کے بعد جج کی طبیعت میں ٹھہراؤ آئے گا، اخلاق بہتر ہو گا اور سائلین ججو ں کے انصاف سے مطمئن لوٹیں گے۔تقریب میں رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ عبدالستار، ڈی جی ڈسٹرکٹ جوڈیشری اشترعباس اور ڈی جی پنجاب جوڈیشل اکیڈمی حبیب اللہ عامر سمیت اکیڈمی کے انسٹرکٹرز اور افسران بھی شریک ہوئے،جی ٹی پی کے چھٹے تربیتی کورس میں ایڈ یشنل سیشن ججوں کے چھٹے بیچ جبکہ سول ججوں کے گیارہویں اور بارہویں بیچ نے شرکت کی۔تقریب کے اختتام پر چیف جسٹس نے تربیتی کورس مکمل کرنیوالے ایڈیشنل سیشن اور سول ججوں میں اسناد بھی تقسیم کیں،قبل ازیں ڈی جی پنجاب جوڈیشل اکیڈمی اور تربیتی کورس کے شرکا ء کے نمائندوں نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

جسٹس سردار شمیم

مزید : ملتان صفحہ آخر