عدالتی  فیصلے پر اٹارنی جنرل،وزراء تقسیم،ہائیکورٹ کے حکم پر عملدرآمد کرینگے:انور منصور،سپریم کورٹ نہیں جائینگے:بابر اعوان،فیصلہ چیلنج کرنا چاہئے:فواد، کابینہ،لیگل ٹیم کیساتھ مشاورت ہوگی:فردوس،فیصل جاوید

عدالتی  فیصلے پر اٹارنی جنرل،وزراء تقسیم،ہائیکورٹ کے حکم پر عملدرآمد ...

  



اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں) نوازشریف کو علاج کی غرض سے باہر جانے کی اجازت دینے کے عدالتی فیصلے پر حکومتی وزراء،ارکان اسمبلی اور اٹارنی جنرل منقسم نظر آئے،تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں مشیر اطلاعات فردوس عاشق کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے  اٹارنی جنرل انور منصور خان کا کہنا ہے کہ نواز شریف کے بارے میں لاہور ہائیکورٹ کا عدالتی آرڈر عبوری آرڈر کہلاتا ہے،حتمی فیصلہ نہیں ہوا،فیصلے پر حکومت عملدرآمد کرے گی۔نیب قانون میں واضح سزا کو معطل اور ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ نوازشریف سزایافتہ ہیں، ان پر 7 ارب جرمانہ ہوا، سابق وزیراعظم کی سزا اورجرمانے کا فیصلہ برقرارہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس میں لیگل ایشوبہت کروشل ہیں، نوازشریف کوجرمانے والا فیصلہ ابھی برقرارہیں۔ نوازشریف کو ایک کیس میں 7 ارب روپے کا جرمانہ ہوا ہے۔اٹارنی جنرل کا مزید کہنا تھا کہ نوازشریف نے موقف اختیار کیا کہ کوئی بانڈ نہیں دیں گے،  اگربانڈ نہیں دیں گے توپھرعدالت خود فیصلہ کرے گی، یہ فیصلہ عبوری ہے، فیصلے میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر باہر جانے کا فیصلہ دیا۔ فیصلے کے بعد مختلف تبصرے کیے جا رہے ہیں، وضاحت ضروری ہے۔ تحریری فیصلہ آنے تک ایپل سے متعلق فیصلہ نہیں کر سکتے، فیصلے کو وزارت داخلہ میں پیش کیا جائے گا۔انور منصور خان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا موقف آج بھی وہی ہے، عدالت کوئی نہ کوئی قدغن ضرورلگاتی، عدالت نے چار ہفتے کیلئے قدغن لگائی، عدالت نے 5 سوالات رکھ دیئے ہیں، عدالت نے ابھی شیورٹی بانڈ پرفیصلہ نہیں دیا مطلب جنوری میں فیصلہ کیا جائے گا، حکومتی موقف کوعدالت نے ابھی رد نہیں کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ کیس میرٹ پر ڈیسائیڈ نہیں ہوا۔ قانون میں امیر اور غریب کا معیار ایک ہی ہونا چاہیے، بہت سارے قیدی جیلوں میں بیمارہیں، امیر لوگوں کو سہولیات مل جاتی ہیں، نوازشریف فیملی کو بہت زیادہ ریلیف ملتا رہا ہے، ہماری کوشش ہے کہ قانون کو ایک ہی سطح پر لیکر آئیں، چاہتے ہیں سب کوایک جیسا انصاف ملے۔پریس کانفرنس کے دوران فردوس عاشق کا کہنا تھا کہ معززعدالت نے کچھ دیرپہلے فیصلہ سنایا، پہلے دن سے موقف تھا یہ انسانی اور قانونی مسئلہ ہے، وزیراعظم نے کشادہ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میڈیکل بورڈ بنانے کی ہدایت کی۔معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے حکومت کی نیت پر شک کیا گیا، حکومت نے علاج کے حوالے سے ہر ممکن سہولیات فراہم کیں، وزیراعظم عمران خان نے معاملے پر سیاسی بیانات دینے سے منع کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ زر ضمانت شریف خاندان کا گزشتہ ریکارڈ سامنے رکھتے ہوئے مانگا گیا، خاندان کا ماضی ہے کہ معاہدہ کر کے مکر گئے، افسوس ہے کہ شیورٹی بانڈ پر واویلا کیا گیا، وزیراعظم کی کردار کشی افسوسناک ہے۔فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فیصلہ کیا، افسوس وزیراعظم کے فیصلے کو شک کی نگاہ سے دیکھا گیا، ہمدردیاں سمیٹنے کیلئے حکومت کیخلاف سازش کی گئی، ہمیں نوازشریف کی صحت بہت عزیزہے، مسلم لیگ (ن) کا منفی رویہ قابل افسوس ہے۔فردوس عاشق نے مزید کہاکہ عدالت کاتفصیلی فیصلہ ابھی نہیں آیا، تفصیلی فیصلہ آنے پرواضح حکمت عملی اختیارکریں گے، اگرفیصلہ غیرمشروط ہے توڈرافٹ کی قانونی حیثیت کیاہوگی؟ تفصیلی فیصلہ آنے تک حکومت حتمی رائے نہیں دے سکتی۔ انہوں نے کہاکہ عدالتی احکامات کی روشنی میں لائحہ عمل طے کریں گے، چیلنج کرنے کے فیصلے پرفوری طورپرکچھ نہیں کہاجاسکتا۔انہوں نے کہاکہ وفاقی کابینہ اورلیگل ٹیم کیساتھ مشاورت ہوگی۔سینیٹر فیصل جاوید نے کہاکہ ہم نے ہمیشہ عدالتوں کے فیصلے تسلیم کئے ہیں اور اب بھی نوازشریف بارے لاہور ہائی کا فیصلہ تسلیم کرتے ہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ لاہور ہائی کورٹ کا تفصیلی سامن آئے گا تو ہمارے قانونی ماہرین اس کا جائزہ لینگے اور اپیل کر نے یا نہ کر نے کے بارے فیصلہ کر ینگے۔ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف تو ہمیشہ عدالتوں کے فیصلوں کو تسلیم کرتی آئی ہے مگر شریف فیملی کے حق میں فیصلہ آئے تو وہ اسے قبول کرتی ہے اور خلاف فیصلہ آئے تو عدالتوں پر تنقید کر نا شروع کر دیتی ہے۔وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری کا کہنا ہے کہ ایسا فیصلہ نہیں دیکھا جہاں سزا یافتہ مجرم کو ایسے باہر بھیجا جا سکے۔ حکومت اور کابینہ کو سپریم کورٹ میں فیصلے کو چیلنج کرنا چاہئے۔میاں نواز شریف کے عدالتی فیصلے کے بعد ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف سے متعلق عدالتی فیصلہ آ چکا ہے، 17 سالہ پریکٹس میں ایسے فیصلے کی نظیر نہیں دیکھی، ایسا فیصلہ نہیں دیکھا جہاں سزا یافتہ مجرم کو ایسے باہر بھیجا جا سکے۔فواد چودھری کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں نواز خاندان کی مثالیں موجود ہیں، سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار کے ریڈ وارنٹ جاری ہو چکے مگر واپس نہیں آئے، ڈار ابھی بھی ملک کے سینیٹر ہیں اور تاحال حلف نہیں اٹھایا۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ نواز شریف اور انکے بچوں کی جائیدادیں پاکستان میں نہیں، انہیں وطن واپس لانے کے لئے انفورس کیسے کر سکیں گے؟، عدالت کے فیصلے پر تبصرہ مناسب نہیں قانون پر عمل درآمد کرنا ہو گا۔ حکومت اور کابینہ کو سپریم کورٹ میں فیصلے کو چیلنج کرنا چاہئے، فیصلہ برقرار رہا تو نظام انصاف کو دھچکا پہنچے گا، ہمیں سپریم کورٹ سے حتمی رائے لینی چاہئے۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ انہیں ان ہاؤس تبدیلی کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا، ان ہاؤس تبدیلی کچھ لوگوں کی خواہش ہے جو پوری نہیں ہوگی۔ملتان میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کے پلان بی کو عوام نے پسند نہیں کیا، حکومت نے دھرنے والوں کے لئے سہولتیں پیدا کیں اور کہیں بھی رکاوٹیں کھڑی نہیں کیں۔نوازشریف سے متعلق عدالتی فیصلے پر ردعمل میں انہوں نے کہاکہ ہمیشہ عدالتی فیصلے کا احترام کیا ہے، نواز شریف کے مقدمے کا ایک قانونی اور ایک انسانی پہلو ہے، حکومت نے نواز شریف کو پاکستان میں موجود تمام طبی سہولتیں مہیا کیں۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عدالت نے قانونی، انسانی پہلو کو سامنے رکھتے ہوئے شریف برادران سے بیان حلفی لیا اور یہ کہ نواز شریف نے بھی بیان حلفی دیا کہ وہ بھائی کی بات کو پورا کریں گے۔وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے نواز شریف کا ضامن بننے پر شہباز شریف کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر رد عمل دیتے ہوئے مراد سعید نے کہا کہ کرپشن کے مجرم کے شہباز شریف صاحب اچھے گارنٹر بنے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے صدر خود کرپشن کیسز میں ضمانت پر ہیں۔بابر اعوان نے کہا ہے کہ حکومت لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج نہیں کرے گی۔شریف خاندان مفرور تھا ان کے ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے حکومت نے نوازشریف کے معاملہ پر بانڈز کی شرط رکھی۔حکومت نے اپنا اختیار استعمال کیا اور عدالت نے اپنا اختیار استعمال کیا۔میں نے عمران خان کو کہا تھا کہ آپ انسانی بنیادوں پر نوازشریف کو ریلیف دے کر رسک لیا ہے۔بابر اعوان نے عدالتی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے اپنا اختیار استعمال کیا جو اس کے پاس ہے،ہم نے اپنے اختیار کے حق میں سیکورٹی بانڈ مانگا تھا کیونکہ ن لیگ کا پچھلا ریکارڈ ٹھیک نہیں ہے،نوازشریف کے دو بیٹے پہلے ہی مفرور ہیں،ان کے سمدھی اور دو بیٹے مفرور ہیں،نوازشریف کے بھائی کے بیٹے اور انکے داماد مفرور ہیں،ایسے حالات میں گارنٹی لینا ضروری تھا مگر اب عدالت نے اپنا اختیار استعمال کیا جس کو حکومت تسلیم کرتی ہے۔وزیر اطلاعات پنجاب میاں اسلم اقبال کا کہنا ہے کہ حکومت عدالتی فیصلے کا احترام کرتی ہے، اس فیصلے کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے، حکومت اپنا لائحہ عمل جلد سامنے لائے گی۔

حکومتی ردعمل

مزید : صفحہ اول