کرکٹ شائقین کے لئے خوشخبری پاکستان میں 10سال بعد ٹیسٹ کرکٹ کی واپسی

کرکٹ شائقین کے لئے خوشخبری پاکستان میں 10سال بعد ٹیسٹ کرکٹ کی واپسی

  



پاکستان میں 10سال بعد ٹیسٹ کرکٹ کے دروازے کھلنے کے قریب، سیکیورٹی خدشات کا دور ختم اب تالیوں کی آوازیں گونجیں گی، پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے دو میچز دسمبر میں راولپنڈی اور کراچی میں کھیلے جائیں گے۔ سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ 11 سے 15 دسمبر تک پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا جبکہ دوسرا میچ 19 سے 23 دسمبر تک نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کھیلا جائے گا۔ابتدائی طور پر سری لنکا کودو ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز اکتوبر میں کھیلنا تھی تاہم مہمان ٹیم نے سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کی غرض سے دسمبر میں شیڈول پاکستان کے خلاف محدود فارمیٹ کی سیریز کو ٹیسٹ سیریز سے تبدیل کردیا تھا۔پاکستان میں ایک روزہ اور ٹی ٹونٹی میچوں پر مشتمل سیریز کے کامیاب انعقاد کے بعد سری لنکا کرکٹ نے فیوچر ٹور پروگرام میں شامل دسمبر میں ٹیسٹ سیریز کے شیڈول کی تصدیق کی ہے۔ سیریز کے دوران سیکورٹی کے بہترین انتظامات اور شائقین سے کھچا کھچ بھرے اسٹیڈیم کی صورت میں ملک کی مجموعی سیکورٹی صورتحال اور کرکٹ سے محبت کرنے والی عوام کا جنون دیکھا گیا۔پی سی بی کے ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ ذاکر خان کا کہنا ہے کہ یہ قومی کرکٹ کے لیے ایک شاندار خبر ہے جو اس بات کا ثبوت ہیکہ دیگر ممالک کی طرح پاکستان بھی ایک محفوظ ملک ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ طویل فارمیٹ کی سیریز کے لیے ٹیم پاکستان بھجوانے پر سری لنکا کرکٹ کے مشکور ہیں۔ ذاکر خان نے کہا کہ یہ سیریز ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی مکمل بحالی سے متعلق پی سی بی کی کاوشوں کا نتیجہ ہیجس سے انہیں نوجوان نسل کو کھیل کی طرف راغب کرنے میں مدد ملے گی۔ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ ذاکر خان کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ سیریز کے شیڈول کو حتمی شکل دینے کے بعد اب معیاری انتظامات کی تیاری کا آغاز کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پی سی بی اس سیریز کو یادگار بنانے کے لییکرکٹرز، آفیشلز، میڈیا اور عوام کے لیے انتظامات میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا۔سری لنکا کرکٹ کے چیف ایگزیکٹو ایشلے ڈی سلوا کا کہنا ہے کہ وہ دوبارہ پاکستان کے دورے کی تصدیق کرتے ہوئے خوشی محسوس کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یقین ہے کہ پاکستان میں ٹیسٹ سیریز کے لیے کنڈیشنز سازگار ہوں گی۔ایشلے ڈی سلوا نے کہا کہ وہ تمام ممالک کو ہوم سیریز انہی کے وطن میں کھیلنے کے حامی ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان میں بین الاقومی کرکٹ کی مکمل بحالی میں اپنا کردار ادا کرنے پر مسرور ہیں۔ چیف ایگزیکٹو سری لنکا کرکٹ نے کہا کہ کرکٹ میں پاکستان کی ایک قابل فخر تاریخ رکھتا ہے، جس نے ابتدائی ایام میں سری لنکا کرکٹ کی بہت مدد کی۔ایشلے ڈی سلوا نے کہا کہ سری لنکا کرکٹ ٹیم نے ورلڈٹیسٹ چیمپئن شپ میں اپنی پہلی سیریز نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلی جو برابر رہی جبکہ پاکستان کرکٹ ٹیم آسٹریلیا سے واپسی پر سری لنکا کے مدمقابل ہوگی۔انہوں نے کہا کہ دونوں ٹیموں کے درمیان ٹیسٹ سیریز میں سخت مقابلہ ہوگا جہاں شائقین کرکٹ کو سنسنی خیز مقابلے دیکھنے کو ملیں گے۔ دوسری جانب پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان پہلا ٹیسٹ 21 نومبرسے برسبین میں شروع ہوگا،اورقومی ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق نے کہا ہے کہ آسٹریلیا کیخلاف ٹیسٹ سیریز میں اچھی کرکٹ کھیلیں گے،سیریز ہارنے کے بعد کھلاڑیوں کا مورال بلند رکھنا بہت مشکل ہوتا ہے، نئے تجربات کرتے ہیں تو قربانیاں دینا پڑتی ہیں، پاکستان میں ٹیلنٹ موجود ہے بس اس ٹیلنٹ کو بہتر طریقے سے استعمال کرنے کی ضرورت ہے، کھلاڑیوں کی فٹنس کو انٹرنیشنل معیار کے مطابق لایا جا رہا ہے۔پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق کا کہنا ہے کہ دورہ اسٹریلیا ایشین ٹیموں کے لیے کبھی بھی آسان نہیں ہوتا لیکن اس ٹیم میں اچھی بات یہ ہے کہ بیٹسمینوں کا یہاں کھیلنے کا تجربہ ہے، ٹیسٹ سیریز کے لیے ٹیم میں سینئر کھلاڑی شامل ہیں اور جو سینئر کھلاڑی ہیں انہوں نے رنز بھی کیے ہوئے ہیں، ان میں اسد شفیق اور اظہر علی دونوں شامل ہیں جب کہ شان مسعود نے جنوبی افریقا کی بانسی وکٹوں پر اچھے کھیل کا مظاہرہ کیا ہوا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ بابر اعظم اور افتخار احمد نے ٹی ٹوئنٹی میں اچھی بیٹنگ کی، کھلاڑی کنڈیشنز سے ہم آہنگ ہو رہے ہیں اور کوشش کریں گے کہ اچھی کرکٹ کھیلیں۔مصباح الحق نے کہا کہ ٹیم میں نوجوان اور سینئر کھلاڑی شامل ہیں اور پاکستان ٹیم آسٹریلیا کے خلاف 400سے 450رنز کرنے کی اہلیت رکھتی ہے جب کہ باولنگ کے شعبے میں نوجوان کھلاڑی شامل ہیں، ان کا پیس اچھا ہے، نسیم شاہ اور شاہین آفریدی اچھی باولنگ کر رہے ہیں۔ہیڈ کوچ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں ٹیلنٹ موجود ہے بس اس ٹیلنٹ کو بہتر طریقے سے استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں کی فٹنس کو انٹرنیشنل معیار کے مطابق لایا جا رہا ہے، جب بھی نئے نوجوان کھلاڑی آتے ہیں ان کی فٹنس پر کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔مصباح الحق کہتے ہیں کہ سنئیر کھلاڑی خواہ بیٹسمین ہوں یا بولرز ان پر زیادہ زمہ داری ہوتی ہے، محمد عامر اور وہاب ریاض باصلاحیت بالرز ہیں، عامر ہمارے لیے بڑے اہم ہیں، آئندہ برس ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ آ رہا ہے، دونوں بولرز کو اس کے لئیے خود کو تیار رکھنا ہو گا۔ان کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ اہم ایونٹ ہے، ابھی سے اس کی پلاننگ شروع کر دی ہے، کوشش ہو گی کہ کھلاڑیوں کو ڈراپ نہ کریں لیکن نئے کھلاڑیوں پر بھی نظر رکھیں۔ٹی ٹوئنٹی کی ہار اور اس کے بعد ٹیسٹ سیریز کھیلنے کے حوالے سے پوچھے جانے والے ایک سوال کے جواب میں مصباح الحق نے کہا کہ ہار کے بعد ٹیم کا مورال بلند رکھنا مشکل ہوتا ہے جب کہ جیت سے اچھی کوئی چیز نہیں ہوتی لیکن جب نئے تجربات کرتے ہیں تو قربانیاں دینا پڑتی ہیں، یقینا افتخار احمد اور موسی خان نے ٹی ٹوئنٹی سیریز سے بہت کچھ سیکھا ہو گا۔جبکہ دوسری جانب پی ایس ایل 5 میں انٹرنیشنل اسٹارز کی کہکشاں جگمگانے کو تیار ہے، دنیا بھر سے کئی نامور کرکٹرز شرکت کریں گے، مکمل فہرست 21 نومبر کو رجسٹریشن ونڈو بند ہونے کے بعد جاری کی جائے گی۔جبکہ جنوبی افریقا کے فاسٹ بولر ڈیل اسٹین کی پہلی بار پی ایس ایل 5 میں شمولیت کے امکانات روشن ہوگئے ہیں، پی سی بی کی جانب سے جنوبی افریقی پیسر سمیت 28غیرملکی کرکٹرز کا اعلان کردیا گیا ہے، غیرملکی کھلاڑیوں کی رجسٹریشن کیلیے ونڈو21نومبر کو بند ہونے کے بعد مکمل فہرست جاری کردی جائے گی۔آئندہ ایڈیشن میں کراچی کنگز کی جانب سے بابراعظم کو برقرار رکھنے کے امکانات موجود ہیں، ڈیل اسٹین دیگر 5میں سے کسی ایک فرنچائز میں شامل ہوں گے، ہاشم آملا، معین علی، جیسن رائے اور عادل رشید نے بھی رجسٹریشن کرلی ہے، 8ممالک سے تعلق رکھنے والے 28کھلاڑیوں میں سے 7 انگلینڈ، 6جنوبی افریقہ، 5ویسٹ انڈیز، 3،3آسٹریلیا اور افغانستان، 2سری لنکا اور ایک ایک نیوزی لینڈ، نیپال سے ہے۔ابھی تک پلاٹینم کٹیگری میں دستیابی ظاہر کرنے والے غیرملکی کرکٹرز میں افغانستان کے محمد نبی، مجیب الرحمن اور راشد خان، آسٹریلوی ڈین کرسٹن، بین کٹنگ اور کرس لین، انگلینڈ کے معین علی، ہیری گرنی، ایلکس ہیلز، کرس جارڈن، لیام پلنکٹ، عادل رشید اور جیسن رائے، نیپالی سندیپ لامی چانے، نیوزی لینڈ کے کولن منرو، جنوبی افریقی کے ہاشم آملا، جے پال ڈومینی، کولن انگرام، ریلے روسو، ڈیل اسٹین اور عمران طاہر، سری لنکن کے اینجلو میتھیوز اور تھسارا پریرا، ویسٹ انڈین کے کارلوس بریتھ ویٹ، ڈیوائن براوو، ایون لوئس، سنیل نارائن اور کیرون پولارڈ شامل ہیں۔یاد رہے کہ پی ایس ایل کیلیے ہر فرنچائز کے 16رکنی اسکواڈ میں 11 مقامی اور 5 غیرملکی کھلاڑیوں کی شمولیت لازمی ہوگی تاہم 18 رکنی اسکواڈ میں کھلاڑیوں کی ترتیب 2 آرڈر میں کی جاسکتی ہے، یا تو 12مقامی اور 6 غیرملکی کھلاڑی ہوں گے یا پھر 13 مقامی اور 5 غیرملکی کھلاڑی شامل ہوں گے۔پی سی بی کی جانب سے جاری کئے جانے والے پیغام میں ڈیل اسٹین نے کہا ہے کہ پاکستانی مداحوں کے لیے کرکٹ ہی سب کچھ ہے، ڈرافٹ پول کے ذریعے اس کا حصہ بننے جارہا ہوں، معین علی کا کہنا ہے کہ پی ایس ایل میں شمولیت کیلیے بہت پرجوش ہوں۔ جیسن رائے نے کہا کہ پاکستان کرکٹ میں سنسنی خیز اور منفرد لمحات فراہم کرتا ہے اور یہ لیگ بھی اسی کے ایک مثال ہے، پاکستان میں کھیل کے پرجوش مداح موجود ہیں اور ان کی موجودگی میں کرکٹ کھیلنا ان کے لیے کسی دلفریب لمحے سے کم نہیں۔ایلکس ہیلز نے کہا کہ انہیں پی ایس ایل کے سلسلے میں کراچی میں کھیلے گئے میچز اب بھی یاد ہیں اور وہ اس تجربہ کو کبھی بھلا نہیں سکتے، کیرون پولارڈ کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال شائقین کرکٹ سے کھچا کھچ بھرے اسٹیڈیم میں کھیلنے کے بعد انہیں اندازہ ہوا کہ کرکٹ پاکستانی عوام کے لیے کیا معنی رکھتی ہے، پی ایس ایل کا حصہ بننا ان کے کیرئیر میں خاص اہمیت رکھتا ہے اور وہ 2019 میں بھی اس میں شرکت کے خواہشمند ہیں۔

مزید : ایڈیشن 1