33ویں قومی کھیلوں کے مقابلے اختتام پذیر

33ویں قومی کھیلوں کے مقابلے اختتام پذیر

  



پاکستان آرمی نے تینتیسویں نیشنل گیمز میں اپنے اعزاز کا دفاع کرتے ہوئے 24 ویں مرتبہ قائد اعظم ٹرافی اپنے نام کرلی،پاکستان آرمی نے 350 میڈل حاصل کر کے پوائنٹس ٹیبل پر اپنی سبقت برقرار رکھی جن میں 147 طلائی،123 چاندی اور 80کانسی کے تمغے شامل ہیں،نیشنل گیمز میں پوائنٹس ٹیبل پر بہترین کارکردگی دکھانے والی ٹیم قائداعظم ٹرافی کی حقدار ٹھہرتی ہے جو 24 اپریل 1948 میں بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کی جانب سے ریوارڈ کی جانے والی پہلی ٹرافی سے روایتی طور پر منسوب ہے، پاک آرمی نیشنل گیمز میں میں اب تک 23 مرتبہ یہ ٹرافی حاصل کر چکی ہے33 ویں نیشنل گیمز میں ایک بار پھر اپنے اعزاز کا دفاع کرنے میں کامیاب ہوکر ٹرافی کی حقدار ٹھہری ہے، پوائنٹس ٹیبل پر دوسری پوزیشن پاکستان واپڈا کی ہے جس نے 317میڈلز مجموعی طور پراب تک حاصل کئے ہیں، پاکستان واپڈا، پاکستان آرمی کی روایتی طور پر حریف سمجھی جاتی ہے جو تینتیسویں نیشنل گیمز میں اس بار 145 سونے کے100 چاندی کے اور72 طلائی تمغے سمیٹ کر رنر اپ رہی،سات روز تک جاری رہنے والی نیشنل گیمز میں کئی نئے کھلاڑی ابھر کر سامنے آئے،کئی ریکارڈ ٹوٹے اور کئی کو اپ سیٹ شکست کا سامنا کرنا پڑا،پشاور جیسے شہر میں کھیلوں کے اس میلے کا کامیابی سے انعقاد نہ صرف کھلاڑیوں کیلئے حوصلے کا باعث بنا بلکہ انہیں اپنی کارکردگی دکھانے کے ساتھ خیبر پختونخوا کی متنوع ثقافت دیکھنے کا موقع بھی ملا،خواتین کھلاڑیوں نے پشاور میں گیمز کے انعقاد کو مہمان نوازی کے اطوار و اسلوب کی عمدہ ترین جھلک بھی قرار دیا ہے،کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ یہ یادیں نیشنل گیمز کے اختتام پر ان کے ساتھ رہیں گی۔33ویں قومی کھیلوں کے مقابلے اختتام پذیر، ِنو سال کے وقفے سے شروع ہونے والے گیمز میں کھلاڑیوں نے اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے اور اپنے انفرادی ریکاردز میں بہتری کے ساتھ ساتھ نیشنل ریکارڈز بھی قائم کیے۔ چاروں صوبوں سمیت گلگت بلتستان، آزاد کشمیر، پاک آرمی، پی اے ایف، ریلوے، پاکستان پولیس، نیوی، ایچ ای سی، واپڈا اور اسلام آبادپر مشتمل 10 ہزار کھلاڑی اور آفیشلز ایکشن میں آے۔قومی کھیلوں کے ٹیبل ٹینس مقابلے میں واپڈا کے کھلاڑی اس ایونٹ میں اپنی بالادستی ثابت کرنے مں کامیاب رہے اور انہوں نے 5سونے 4چاندی اور ایک کانسی کے تمغے جیتے جبکہ آرمی ایک سونے چار چاندی اور 4کانسی، ریلویز نے ایک سونے اور ایک کانسی کے تمغوں کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی کے پی، پنجاب اور سندھ کے حصے میں ایک ایک کانسی کا تمغہ آیا، حیات آباد سپورٹس کمپلیکس پشاور میں منعقدہ ٹیبل ٹینس کے مردوں کے ٹیم ایونٹ میں واپڈا نے پہلی آرمی نے دوسری سندھ اور ریلویز نے تیسری پوزیشن اپنے نام کی جبکہ کواتین ٹیم مقابلوں میں بھی واپڈا اور آرمی بالترتیب پہلے اور دوسرے جبکہ کے پی اور پنجاب تیسرے نمبر رہے اسی طرح مردوں کے انفرادی مقابلے میں واپڈا کے محمد رمیض خان مقابلوں کے چمپئن قرار پائے آرمی کے سلیمان ورک دوئم آرمی کے فیضان ظہور اور واپڈا ہی کے عاصم قریشی سوئم ٹھہرے مردوں کے ڈبلز مقابلوں میں ریلویز کے حمزہ ملک اور کاشف رزاق سونے، آرمی کے سلیمان ورک اور عبید شاہ چاندی، واپڈا کے عاصم قریشی، رمیض خان اور سندھ کے حائل شاہ اور فرقان پٹیل کانسی کا تمغہ جیتنے میں کامیاب رہے اسی طرح مقابلوں کے مکسڈ ڈبلز میں واپڈا کے رمیض اور شبنم نے واپڈا ہی کے عاصم قریشی اور سعدیہ فلک کو فائنل میں شکست دی آرمی کے سلمان ورک اور صباء مشتاق اور فیضان ظہور اور عائشہ فہیم کانسی کے تمغے کے حقدار قرار پائے جبکہ خواتین کے انفرادی مقابلوں میں واپڈا کی شبنم جلالی چمپئن قرار پائین انہوں نے فائنل میں واپدا ہی کی صنم یٰسین کو شکست دے کر انفرادی ٹائٹل جیتا، آرمی کی ثناء مظفر اور عائشہ فہیم تیسرے نمبر پر رہیں خواتین کے ڈبلز ایونٹ میں میدان پاکستان آرمی کے ہاتھ رہا ثناء مظفر اور عائشہ فہیم نے واپڈا کی شبنم جلالی اور سعدیہ ملک کو فائنل میں شکست سے دو چار کرتے ہوئے سونے کا تمغہ جیتا، واپڈا کی عائشہ شرجیل اور صنم یٰسین اور سیمان عالم اور فروا بابر کانسی کے تمغے کی حقدار قرار پائیں۔جبکہ نیشنل گیمز کے باسکٹ بال مقابلوں کی فائنل لائن اپ مکمل ہو گئی مردوں میں پاکستان آرمی اور ائیر فورس جبکہ خواتین میں واپڈا اور آرمی کی ٹیمیں فائنل میں جگہ بنانے میں کامیاب رہیں باسکٹ بال مقابلوں کے خواتین ایونٹ کے دونوں سیمی فائنل یکطرفہ ثابت ہوئے پہلے سیمی فائنل میں واپڈا کی مضبوط ٹیم نے پنجاب کو آؤٹ کلاس کرتے ہوئے75-27 کے سکور سے کامیابی سمیٹی فاتح ٹیم کی جانب سے کائنات 16، ایمن12اور پنجاب کی مسکان10کے ساتھ نمایاں سکورر رہیں جبکہ دوسرے سیمی فائنل میں بھی پاکستان ریلویز کی ٹیم پاکستان آرمی کے آگے نہ ٹھہر سکی آرمی نے کھیل کے تمام شعبوں میں اپنی مہارت کا ثبوت دیتے ہوئے ریلویز کو 71-21کے سکور سے شکست دی فاتح تیم کی عائشہ جلاس سب سے زیادہ 16ایونٹس سکور کرنے میں کامیاب رہیں اسی طرح مردوں کے پہلے سیمی فائنل میں دو روایتی حریفوں آرمی اور واپڈا کے درمیان مقابلہ ہوا جس میں پاکستان آرمی کے کھلاڑیوں نے اپنے بہتر کھیل اور سٹیمنے کی بناء پر 120-73کے واضح ترین مارجن سے زیر کیا آرمی کے فرحان25اور واپڈا کے زین 15کے ساتھ اپنی اپنی ٹیموں کے نمایاں سکورر رہے جبکہ دوسرے سیمی فائنل میں میدان پاکستان ائیر فورس کے ہاتھ رہا جس نے پنجاب کو 95-67سے شکست دیتے ہوئے فائنل کے لئے کوالیفائی کیا اس میچ میں تین کوارٹرز تک میچ پوائنٹس کی برابری پر چلتا رہا البتہ آخری کوارٹر میں پی اے ایف نے پنجاب کو پوائنٹس کے حصول میں بہت پیچھے دھکیل دیا اور 28پوائنٹس کے فرق سے کامیابی سمیٹی۔جبکہ واپڈا نے پاکستان آرمی کو یکطرفہ مقابلے کے بعد کھیل کے تمام شعبوں میں مکمل آؤٹ کلاس کرتے ہوئے خواتین رگبی کا پہلا ٹائٹل جیتنے کا اعزاز حاصل کر لیا ریلویز نے کے پی کو شکست دے کر کانسی کا تمغہ حاصل کیاجبکہ مردوں کے فائنل میں پاکستان آرمی نے ائیر فور س کو شکست دے کر گولڈ میڈل حاصل کیا جبکہ واپڈا نے پنجاب کو شکست دے کر تیسری پوزیشن اپنے نام کی۔ 33وین نیشنل گیمز کے ایبٹ آباد کنج فٹبال گراؤنڈ میں منعقدہ خواتین رگبی کا فائنل میچ پاکستان واپڈا اور پاکستان آرمی کے درمیان کھیلا گیا جو مکمل طور پر یکطرفہ ثابت ہوا جس میں واپڈا نے آرمی کو 21-0کے سکور سے شکست دے فاتح ٹیم کی جانب سے راحیلہ اور ثناء5,5پوائنٹس سکور کرنے میں کامیاب رہیں تیسری پوزیشن کے میچ میں ریلویز نے میزبان کے پی کو5-0کے سکور سے مات دیتے ہوئے کانسی کا تمغہ حاصل کیا خواتین کے فائنل کے موقع پر رکن صوبائی اسمبلی مومنہ باسط نے جیتنے والی ٹیموں اور کھلاڑیوں میں میڈلز اور سرٹیفیکیٹس تقسیم کئے بعد ازاں مردوں کے رگبی مقابلوں میں واپڈا، آرمی، ائیر فورس اور پنجاب کی ٹیموں نے اپنے اپنے لیگ میچز میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے سیمی فائنل کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا رگبی کے ان میچز میں آرمی نے سندھ وک 53-0سے پنجاب نے کے پی کو29-0سے، پی اے ایف نے ریلویز کو26-0سے واپڈا نے بلوچستان کو39-0سے آرمی نے کے پی کو32-0پنجاب نے سندھ کو41-0سے ریلویز نے بلوچستان کو15-0سے آرمی نے پنجاب کو 25-0سے شکست دی ائیر فورس اور واپڈا کا میچ7-7کے سکور سے برابر رہا۔جبکہقومی گیمز میں ویٹ لفٹنگ کے میدان میں بہن بھائیوں نے گولڈ میڈلز حاصل کرنے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔صائمہ منظور نے نیشنل گیمز میں 55 کلو گرام کیٹیگری جب کہ ان کے بھائی زوہیب منظور نے 96 کلو گرام کیٹیگری میں گولڈ میڈل جیتا۔صائمہ منظور اور زوہیب منظور کا تعلق ویٹ لفٹنگ فیملی سے ہے، ان کے والد محمد منظور 1976کے اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں۔صائمہ منظور انٹرنیشنل ویٹ لفٹر ہیں، وہ ساتھ ایشین گیمز میں پاکستان کی نمائندگی بھی کر چکی ہیں۔ملکی سطح پر ہونے والے مقابلوں میں صائمہ منظور نے اپنی ویٹ کیٹیگری میں برتری قائم کر رکھی ہے۔پچیس سالہ صائمہ منظور 6 سالہ بچے کی ماں ہیں اور اس کے باوجود وہ کھیل کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے ویٹ لفٹنگ ان کے خون سے رچی بسی ہے، وہ خود کو اس سے الگ نہیں کر سکتیں۔زوہیب منظور بھی انٹرنیشنل ویٹ لفٹر ہیں اور اپنی کلاس میں خوب مہارت رکھتے ہیں۔دونوں بہن بھائیوں نے حال ہی میں ساتھ ایشین گیمز کے ٹرائلز میں حصہ لیا اور دونوں کا انتخاب ہو گیا، دونوں اب اگلے ماہ نیپال میں ہونے والے ساتھ ایشین گیمز میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ان کا عزم اور خواہش ہے کہ وہ ساتھ ایشین گیمز میں ایک ساتھ حصہ لے کر پاکستان کے لیے گولڈ میڈل جیتیں۔

مزید : ایڈیشن 1